سماج و معاشرہمذہبی مضامین

موبایل موجودہ دور کا سب سے بڑا فتنہ

فحاشی،عریانیت، بے حیائی اور جسم فروشی کی راہ پر گامزن انسانی معاشرہ

ازقلم: تصویر عالم بن امیر حسین
متعلم: جامعہ ابی ہریرہ لال گوپالگنج الہ آباد یوپی

سورہ منافقون میں اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے کہ اے ایمان والو تمہارے مال اور اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں اور اگر کوئ ایسا کرےگا تو خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا.
بچاؤاپنےآپ کو اپنےاہل و اعیال کو. رب العالمین نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے زندگی گزارنے کا طور طریقہ سکھایا ہے. ہدایت وضلات کے راستے کی نشان دہی بھی کی ہے. خیر وشر بھلائ اور برائ کی وضاحت بھی ہے دونوں میں سے اختیار ہے جسے چاہیں ہم چن لیں. ہماری سوچ وفکر پر منحصر ہے کی ہم کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں.

اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو انسانیت کے تحفظ وبقاء اور اسکی ترقی وکامیابی کاضامن ہے. ہماری عزت اگر ہے تو اسلام کی وجہ سے ہے.اسلام کے ماننے والوں کو مسلمان کہا جاتا ہے.مسلمان پر کچھ پابندیاں بھی ہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا نام دین ہے. اور دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے.

دین اسلام ہمیں زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائ کرتا ہے. سب سے اچھا ترقی یافتہ معاشرہ وسماج وہی بن سکتا ہے جہاں عمدہ تعلیم وتربیت دی جاتی ہو جہاں کا ماحول بہتر ہو.
اگر ہم انسانی معاشرے کا گہرائ سے جائزہ لیں تو ہمارا معاشرہ مختلف برائیوں میں ملوث ہے. جوان بوڑھے مرد عور تیں بچے بچیاں لڑکے لڑکیاں ایک ایسی لت میں لت پت ہیں جس سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آتا ہے .آج اس فتنے کے دور میں سب سے بڑا فتنہ موبائل بن چکا ہے. موبائل کو منفی طور پر زیادہ تر نو عمر بچے بچیاں عورتیں لڑکے لڑکیاں استعمال کرتی ہیں جن کا سماجی زندگی پر بہت ہی برا اثر پڑتا ہے. موبائل فون کے غلط استعمال سے کتنی زندگیاں تباہ وبر باد ہوگئیں ہیں بچے بگڑ چکے ہیں. میاں بیوی میں طلاق کی نوبت تک ہہونچ گئ ہے.روزمرہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کی لوگ موبائل پر دو گھنٹہ تین چار گھنٹہ لگے رہتے ہیں . بیوی موبائل پر لگی ہے شوہر تھکا ہارا گھر آتا ہے اور خود اسے ہی کھانا نکال کر کھانا پڑتا ہے لیکن بیوی کہتی ہے ‘کی گیم کھیل رہی ہوں.ایک سئیریل دیکھ رہی ہوں. جبکہ وہ کسی غیر محرم سے چیٹنگ پہ لگی ہے. عشق ومعاشقہ کی باتیں ہوتی ہیں ہیجان برپا کرنے والے ویڈیوز کا تبادلہ بھی ہوتا ہے.ویڈیو ز کال پر باتیں ہوتی ہیں. نوجوان لڑکے لڑکیاں کمسن بچے بچیاں اس "مہلک بیماری” میں لت پت ہیں.
ہمارا حال یہ ہے کی ہم خود ڈوبے ہیں اور موبائل جیسے فتنے میں مبتلاء ہیں گھر بازار مسجد راستہ قبرستان ہر جگہ موباءل کا بے دھڑکب استعمال کرتے ہیں.نہ کسی کا ادب نہ احترام نہ مسجد کا احترام نہ قبرستان کا خوف. ہمارا دل اتما سخت ہوگیا ہے کی قبرستا نوں ہر بھی دھڑلے سے بات کرتے ہیں.

موبائل فون چالس سال قبل مارٹن کوپر (Martin Cooper) نے ایجاد کیا تھا موٹرو لا کمپنی میں انجنئیر تھا. مارٹن کوپر نے امریکہ کے ایک جگہ سے کا ل کر کے سب کو( اپنے ساتھیوں کو) حیرت زدہ کر دیا تھا بغیر تار کے ایک ایسا آلہ تیار کر کے بات کرنا کسی عجوبے سے کم نہیں تھا کوئ یقین نہیں کر رہا تھا.
موبائل فون بیسویں صدی کا سب سے حیرت انگیز ایجاد ہے. موبائل (Mobile)کو سیل فون(Cell Phone) بھی کہا جاتا ہے.آج دنیا میں پانچ ارب سے سے زیادہ لوگ موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور ان گنت کالس بھی آتے جاتے ہیں جن کا اعداد وشمار کرنا مشکل ہے.
موبائل فون اگر منفی طور پر استعمال کیا جائے تو فحاشی عریانیت بے حیائ برائ موجودہ دو ر کا سب سے بڑا سماجی برائیوں کا ہتھیار ہے.سماج کے جوان لڑکے لڑکیاں بےراہ روی کے شکار ہوکرگندگی وغلاظت میں مبتلاء ہیں ان برائیوں کے اسباب پر غور وفکر کیا جائے تو اس کا سب سے بڑا سبب موبائل کا غلط استعمال ہے.موبائل اتصال کا ذریعہ مانا جاتاتھا. لوگ ایک دوسرے کی خیرت مزاج پرسی کے لئیے استعمال میں لاتے تھے لیکن اب موبائل کے ذریعہ بہت سارے امور انجام دئیے جا سکتے ہیں اور دئے بھی جارہے ہیں.آج موبائل نے لوگوں کی حیاء شرم غیرت عزت واحترام سب ختم کر دیا ہےموبائل کے غلط استعمال نے شہروں قصبوں کے علاوہ دیہاتوں کو بھی اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے.اور نوجوان لڑکے لڑکیاں بےراہ روی کے شکار بن رہے ہیں.انسانی معاشرہ تباہی کی طرف گامزن ہےجدید انکشافات وایجادات نے انسانی سماج میں ایسا اثر ڈا لاہے جس کا تصور پہلے نہیں تھا.مواصلات کے شعبے میں انقلابی پیش رفت نے جہاں زندگی کے لئیے بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں ایسے مسائل کو جنم دیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے.آج انٹرنیٹ ہر امیر غریب کےدسترس میں ہے.فحش اور عریاں فلموں کی انٹر نیٹ پر بہار آگئ ہے. بٹن دباتے ہی سب کچھ سامنے آجاتا ہے.اس سے نوجوان لڑکو ں لڑکیوں کے اندر زببردست بگاڑ پیدا ہو رہا ہے.
فلمیں دیکھنے کے بعد نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے جذبات میں ہیجان پیدا ہوتا ہے.فحش تصویریں انٹرنیٹ (Internet)پر بھی سامان موجود ہیں.سوشل میڈیا کی بے شمار ویب سائٹس (Web sites) کھلے ہیں جنسی بے راہروی کی کھلے عام دعوت دیتے ہیں. اور اس کے جال میں کمسن بچے بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پھنس کر تباہ وبرباد ہو رہی ہیں.یہاں تک کی ایمان وعقیدے خطرے میں پڑ گئے ہیں.مسلم معاشرے میں بھی یہ وبائ شکل اختیار کر گئ ہے کی لڑکے لڑکیاں انٹر نٹ اور فون دھڑلے سے استعمال کرتی ہیں.گھنٹوں گندی فلموں سے لطف اندوز ہوکرسوشل ویب سائیٹس (Social web sites) کے ذریعہ کسی بھوکے جنسی درندے سے محو گفتگو ہوکر جنسی جذبات کی تسکین بنتی ہیں. کبھی کبھی وہ جنسی ہیجان اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے کی یہ لڑکیاں ایسا قدم اٹھا لیتی ہیں کہ اہل خانہ خاندان معاشرے کی جگ ہنسائ کا ذریعہ بن جاتی ہیں.باقاعدہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بہت سی مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے عشق میں گرفتار ہوکر دین ومذہب سے بیگانہ ہو جاتی ہیں اور ان سے شادی بھی کر لیتی ہیں. دیہاتوں میں بھی اس کا چلن عام ہے. ان پڑھ گنوار لڑکیاں بھی انٹر نیٹ اور دوسرے ایپس(Apps) کی مکمل معلومات رکھتی ہیں.
سم کارڈ چینج کر کے دوسرے سم کارڈ سے بات کرتی ہیں. اور پھر گفتگو ختم ہونے کے بعد دوسرا سم لگادیتی ہیں .بچے گیم کھلینے میں دیوانہ ہوجاتے ہیں. لوڈو، کیرم، چیس. (Ludo.Chess.Carrom)ان گیمس میں کمسن معصوم بچے عادی ہو کر اہنی معصومیت کھو رہے ہیں پڑھائ لکھائ سے عدم دلچسپی بڑھتی جارہی ہے.

موبائل کا دوسرا پہلو بھی ہے آج کے دور کا حیرت انگیز مفید وانقلابی دریافت ہے اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں زمان ومکان کے سارے فاصلے ختم ہوچکے ہیں جیسے دنیا کی تمام چیژیں سمٹ گئ ہیں.ہم آنا فانا دنیا کے کسی گوشے کو دیکھ سکتے ہیں وہاں کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں. رابطے آسان بن چکے ہیں اس کاصحیح استعمال بنی نوع انسان کامستقبل روشن کر سکتا ہے اور غلط استعمال سے پوری انسانیت کو تباہی وبربادی کے غار میں ڈھکیل سکتا ہے.
موبائل کا مثبت استعمال: استعمال اگر مثبت طور پر کریں تو بہت سے فوائد ہیں .منی ٹرانسفر .اولا کیبس گاڑیاں بک کر کے اپنے منزل مقصود تک پہونچا جا سکتا ہے.
گھڑی. کیکولیٹر کلینڈر موسم کاحال معلوم کیا جاسکتا ہے اخبارات رسائل وجرائد پڑھے جا سکتے ہیں. اور لاکھوں کتابیں موجود ہیں لابریریاں بھی اپلوڈ ہیں ہر موضوع پر کتابیں دستیاب ہیں ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے.موبائل حیرت انگیز ایجاد ہے اگر مثبت استعمال کیا جائے تو بھر پور فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے. بہت ساری معلومات فراہم ہو سکتی ہیں. موبائل کو پرائیویسی کے لئیے لاک رکھتے ہیں لیکن کبھی کبھار بہت ہی خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے. موبائل پاس ورڈ سے کافی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتاہے.
.” موبائل پاس ورڈایک حاملہ خاتون سیڑھیوں سے گری اور گرتے ہی بےہوش ہو گئی. اس وقت گھر میں اس کی دس سالہ بیٹی کے سوا کوئی بھی نہیں تھا. بچی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے. پھر اس نے اپنی امی کا موبائل اٹھایا. تاکہ ابو کو کال کرے. لیکن موبائل پہ پاسورڈ لگا ہوا تھا. بچی کچھ نہ کر سکی. بالآخر ماں اپنی زندگی سے ہار گئی. اسی طرح تین دوستوں کو دوران سفر کار حادثہ پیش آیا۔ایک اجنبی نے سارا معاملہ دیکھا. اور وہ ان کی مدد کرنا چاہتا تھا۔مگر اس کے پاس کوئی موبائل فون نہیں تھا۔جس کار کو حادثہ پیش آیا. اس میں چھ موبائل تھے. مگر ہر ایک کے موبائل پہ پاس ورڈ لگا ہوا تھا. نتیجتاً وہ بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے. غلطی کس کی ہے؟
آپ اپنی معلومات کے بارے میں بہت حساس ہیں. جبھی موبائل پہ پاس ورڈ لگاتے ہیں.
یہ اچھی بات ہے. پاس ورڈ ضـــــرور لگائیں. لیکـــــــن صرف واٹس ایپ، پیغامات، فیس بک اور دوسری اہم فائیلز پر ہی لگائیں.
صرف کال کرنے والے آپشن کو کھلا چھوڑ دیں. ہو سکتا ہے. کہ آپ ایک دن اپنی یا اپنے کسی چاہنے والے کی زندگی بچا سکیں . آپ کے موبائل کا پاس ورڈ آپ کے لیے موت کا پیغام بھی ہو سکتا ہے”. منقول.
چند مفید مشورے
والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں. اس فتنے سے روکا جا سکتا ہے. اپنے بچوں کے مستقبل سنوارنے میں مدد کی جاسکتی ہے.بچوں کو موبائل کا چسکہ لگانے سے گریز کریں اور انہیں اس کاعادی نہ بنائیں.
نوجوان لڑکے لڑکیوں کے فون چیک کیا کریں اور تنبیہ کریں.
موبائل کے غلط استعمال کے نقصانات کے بارے میں آگاہ بھی کریں خاص طور سے لڑکیاں جب تنہائ میں ہوکر موبائل استعمال کریں تو والدین ان پر دھیان دیں تعلیم کے نام پر بہت سی لڑکیا ں والدین کو دھوکے میں رکھ کر پوری رات یارات دیر تک چیٹنگ کرتی ہیں. یہ گھر کے لئے معاشرے کے لئیے مہلک ہے .موبائل فون کے غلط استعمال سے مفاسد برائیاں جنم لیتی ہیں جو مہذب معاشرہ کے لئیے انتہائ تباہ کن ہے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button