دور حاضر میں نت نئے فتنے ظہور پذیر ہورہے ہیں ، سب کا مقصد ومحور اسلام اور اہل اسلام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی سعی نامسعود ہوتی ہے ، صف اول میں جن تحریک وتنظیم نے مسلمانوں پر ظلم وبربریت کے پہاڑ توڑے ان میں سر فہرست آر ایس ایس ، بی جے پی ، ہندوتوا تحریک نظر آرہی ہے ، آئے دن ہمارے خلاف سازشیں رچی جارہی ہیں ہمارے خلاف گھنٹوں گھنٹوں میٹینگیں ، پروپیگنڈا اور مہم چلائی جارہی ہے ، کبھی علماء اہل سنت پر بے جا الزام اور افترا پردازی کرکے ایف آئی آر درج کرائی جارہی ، اور تعجب خیز بات یہ کہ چند لمحوں میں گرفتار کرکے جیل کے سلاخوں میں پہونچایا جارہا ہے ، اور انھیں وہاں مختلف دہ آزمائشوں سے دو چار کرتے ہیں ،
بھگوا لب ٹرپ کے نام پر ہماری بہن ، بچیوں کی عصمت وعفت کو پامال کیا جارہا ہے ، کبھی مساجد ومدارس کو ہدف نشانہ بنایا جاتا اور انھیں منہدم کی جاتی ہے، اس کی زندہ جاوید مثال اپنی ماتھے کی نگاہوں سے بابری مسجد ، دیکھ سکتے ہیں، کبھی گیان واپی مسجد، تو کبھی ، متھر ا کی عید گاہ موجودہ دنوں میں سنبھل کی جامع مسجد میں ہوئے پرتشدد اور افسوس ناک حادثات کو نظر نواز سے گزارا جاسکتا ہے ، قوم مسلم کے نوجوان اور لیڈران احتجاج کی صدائے بلند کر رہے اور ان پر ایف آئی آر درج کرا رہے ہیں پھر بھی حکومتِ وقت اپنے کانوں میں تیل ڈال کر خواب غفلت کی چادر تانے ہوئے ہے۔
ایسے میں حکومتِ وقت کو چاہئے تھا کہ ایسے بے لگاموں کو سخت سزا دینے اور ملک کے امن وامان کو برقرار رکھنے کا ، لیکن جس کی حکومت ہے اس کے متبعین جو چاہے کریں ، مسلمان کو سرعام بیچ چوراہے پر ماریں ، تو کچھ نہیں، اور وہ اگر کسی کو کچھ کہتے ہوئے سن لیں تو فورا گرفتار، واہ رے حکومت ، اور حکومت کے ٹھیکیدار ، حالیہ دنوں میں سنبھل کی دل افسردہ والی ویڈیو نے جنجھوڑ کر رکھ دیا کہ مطلب کچھ بھی ، مسجد پر مندر ہونے کا دعویٰ ہوا اور عدالت بھی اس عرضی کو قبول بھی کرلے پھر سروے کے لئے اپنے آدمی کو بھیجیں اگر مسلمان وہاں آکرکچھ بولے یا پرشاشن کو ہٹانے کی کوشش کریں، تو اس پر گولی چلاؤ، اسی میں معتبر ذرائع سے تین مسلم نوجواں جاں بحق ہوگئے ، "انا للہ وانا للہ راجعون ” ،۔
امروز بدایوں کی جامع مسجد کی جگہ مندر ہونے کا دعویٰ کیا گیا 3دسمبر کورٹ میں سنوائی ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ یہ تمام حالات ہونے کے باوجود نریندر مودی پر سوکت وجمود کا تعطل طاری ہے شاید نہیں یقیناً یہ سب اس کی مرضی اور سوجی سمجھی سازش سے ہورہا ہے، جب 1947ء میں قانون بننے کے بعد یہ فیصلہ منظور ہوچکا کہ ہر مذہب کی عبادت گاہیں علی حالہ باقی رکھی جائیں گی ، ان کے متعلق کوئی چیلنجز نہیں کیا جائے گا، تو پھر عدالت کو چاہئے تھا کہ جو شخص مسجد پر مندر کا دعویٰ کرے بلفظ دیگر عبادت گاہوں پر، تو اس کو مسترد کردے یا پھر پارلیمنٹ کے قوانین کو پیش کردے ۔ لیکن محاورہ مشہور ہے”جس کی لاٹھی اسی کی بھینس”۔
ان حالات وحادلاث سے ہمیں چاہئے کی سیاسی طور پر کوئی لائحہ اور مستکم عمل تیار کریں بالخصوص ہمارے سماجی، سیاسی، ملی، دینی، تنظیمات، تحریکات کی قیادت کرنے والے قائدین ،، جب بھی کوئی معاملہ در پیش ہو تو متحد ہوکر باہم مشاورات کرکے حکومت کو اکسائیں اور اس کے خلاف پرامن احتجاج کرکے سخت سے سخت سزا دلوائیں یا پھر ظالم کو کیفر کردار تک پہونچائیں ، عوام کو بھی اب اپنے اندر بیداری لانی چاہئے ، کب تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہوگے ، تمہاری مساجد ومدارس کو مسمار کیا جارہا ہے ، فرض کرو اتفاق سے اگر حرام الدھر تمہاری عبادت گاہوں تک پہونچ جائیں تو اس وقت کیا کرو گے ؟؟ اس لئے پہلے سے حزم احتیاط برتو ، احتیاطی تدابیر سے کام لو۔
اللہ کریم ہمارے مساجد ومدارس کی حفاظت فرمائے ہمیں بھی اپنے مساجد ومدارس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور تاحینِ حیات مسلک حقا پر گامزن رکھے اور اسی پر خاتمہ بالخیر فرمائے!آمین ثم آمین
ازقلم: محمد ارشاد احمد قادری
متعلم : جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو