حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب کی رحلت اہلسنت کا ایک عظیم خسارہ ہے۔مولانا سید معین میاں
حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی ماہر علم و فن تھے۔الحاج محمد سعید نوری
عزیزان گرامی
بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی جدائی صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ ایک عہد، ایک خوشبو اور ایک احساس کی جدائی ہوتی ہے۔وہ بظاہر دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں لیکن اپنی یادوں کے چراغ دلوں میں روشن چھوڑ جاتی ہیں۔
آج جب فخر صحافت صاحب علم و فضل حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب قبلہ (علیہ الرحمہ)استاذ ازہر ہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور یوپی انڈیا کی رحلت کا غم دل پر دستک دیتا ہے تو بے اختیار آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ان کی مسکراہٹ،ان کی محبت بھری گفتگو،ان کی شفقت،ان کے اخلاص بھرے انداز اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات ایک ایک کرکے ذہن کے پردے پر ابھر آتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی کہیں قریب ہی موجود ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اس دنیا کے سفر سے آگے جا چکے ہیں۔
وہ چلے تو گئے مگر اپنی یادیں چھوڑ گئے۔ایسی یادیں جو ہر ملاقات کو زندہ رکھیی گیں،ہر بات کو تازہ کرتی رہیں گیں اور ہر لمحہ ان کی کمی کا احساس دلاتی رہیں گی۔زندگی کے ہجوم میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں ہوتا،کیونکہ وہ دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ان کی شخصیت،ان کے اخلاق اور ان کی خدمات وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتی چلی جاتی ہیں۔
آج حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب کی جدائی کا غم ہے،لیکن اس کے ساتھ یہ تسلی بھی ہے کہ نیک لوگ دنیا سے رخصت ہوکر بھی اپنے کردار،اپنے علم،اپنی محبت اور اپنی یادوں کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ان کے نقوش مٹتے نہیں بلکہ نسلوں تک روشنی بانٹتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کی نیک یادوں سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وہ چلے گئے،مگر ان کی یادیں آج بھی دل کی دھڑکنوں کے ساتھ زندہ ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ حضرت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
سوگوار
ظفرالدین رضوی ممبئی