متفرقات

یہ بجٹ کارپوریٹ لوٹ کو فروغ دینے والا: مزدور تنظیمیں

ہماری آواز/نئی دہلی ، یکم فروری (پریس ریلیز) مزدورتنظیموں نے مرکزی بجٹ 2021-22 کو ’کارپوریٹ لوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو پبلک سیکٹرکے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں میں سرمایہ کشی پر دوبارہ غور کرنا چاہئے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ بھارتیہ مزدور سنگھ نے کہا ہے کہ حکومت کو اپنی سرمایہ کشی پالیسی پر دوبارہ غور کرنا چاہئے ۔ بی ایم ایس کے جنرل سکریٹری ونے کمار سنہا نے کہا کہ خود کفیل ہندوستان ایک اچھا تصور ہے لیکن اس میں ایف ڈی آئی اورسرمایہ کشی سے مایوسی ہوئی ہے ۔ تاہم انہوں نے آسام اور مغربی بنگال کے چائے باغات کےمزدوروں اور ماہی گیروں کے لئے فلاحی پروگراموں اور اس خطے کے لئے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں سے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں غیر ملکی انحصار میں اضافہ ہوگا ۔ حکومت کو حکمت عملی اور عوامی اہمیت کے حامل شعبوں میں سرمایہ کشی سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں مزدور یونینوں کے مطالبات کی جانب توجہ نہیں دی گئی ۔
آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی امرجیت کور نے مرکزی بجٹ کو ’کارپوریٹ لوٹ ‘اور ’قومی دولت‘کو فروخت کرنے والا قرار دیا ہے۔ مرکزی بجٹ میں پرانے اعلانات کو دہرایا گیا ہے ۔ کارپوریٹ کو بڑی ریاعت دی گئی ہے اور عام لوگوں پر سرچارجز لگائے گئے ہیں ۔ بجٹ میں مزدوروں اور کسانوں کے مفادات کو نظراندازکیا گیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے