گوشہ خواتین

نئی تحریک

ازقلم: بنت مفتی عبد المالک مصباحی

آج اپنی پرانی طالبات سے ملاقات ہوئی جن کو میں نے چار سال قبل تجوید و قرأت کا درس دیا تھا؛ ان طالبات نے بڑی خوش خبری سنائی کہ "آپی! میری امی کا مدنی قاعدہ کے بعد اب ناظرہ قرآن مع تجوید بیسویں پارے تک ہو گیا میں روزانہ سبق سنتی ہوں اور اصلاح کرتی ہوں؛ تو کسی نے کہا کہ اب تکمیل کو ہے تو کسی نے بتایا کہ ابھی کوشش جاری ہے وغیرہ وغیرہ” ان طالبات کی یہ کوششیں سن کر واقعی قلبی مسرت محسوس ہوئی کہ اللہ رب العزت نے میری حرکت میں برکت ڈال دی گویا ایک نئی تحریک چل پڑی –

چوں کہ بات یہ ہے کہ جب وہ بچیاں میرے پاس زیر تعلیم تھیں تبھی میں نے ان بچیوں کے سامنے دوران تعلیم علم تجوید و قرأت کی اہمیت و فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے اور انھیں سمجھاتے ہوئے ایک ذہن دیا تھا کہ "آپ سب کو علم تجوید کی اہمیت بخوبی سمجھ آ گئی کہ اس کا بنیادی علم ہونا علوم فرائض میں سے ہے کہ جس کے بغیر نماز بھی مکمل نہ ہو سکے گی؛ لہٰذا اس کے حصول میں خود بھی محنت کریں اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی وہ مائیں کہ جنھوں نے بے شمار قربانیاں دے کر آپ کو اس لائق بنایا ہے کہ آج درس گاہ میں آ کر علم حاصل کر رہی ہیں ان کے لیے بھی محنت کریں اور باقاعدگی کے ساتھ انھیں اتنا تجوید سکھا دیں کہ وہ لحن جلی سے بچ جائیں اور اپنی اہم الفرائض عبادت نماز کو صحیح اور درست کر سکیں!” اس بات کو بچیوں نے ذہن نشین کر لیا اور اسی دن سے اپنی ماؤں پر محنت شروع کر دی جس کا نتیجہ چار سال میں یہاں تک پہنچ گیا- فالحمد للہ

واضح رہے کہاس بات پر میں نے ہر سال زور دیا جس کا زوردار نتیجہ کھلی آنکھوں سے دیکھنا نصیب ہو رہا ہے؛ اس تعلق سے تقریباً چار پانچ سال قبل میں نے تحریریں بھی جاری کی تھی اور عمر رسیدہ افراد کو علم تجوید سکھنے پر اہل علم کے مقولہ "اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد ” کے ذریعے ابھارا تھا اور ساتھ ہی بچوں کو ایک ایمیج پوست کے ذریعے متوجہ کیا تھا….. "ان سند یافتہ قراء و قارئات پر افسوس ہے جو اب اپنے والدین کی نماز صحیح نہ کرا سکے” – اب اللہ بہتر جانے کہ ان سوشلی تحریر کا کن کن نے فائدہ اٹھایا اور کن کی خوابیدہ ضمیر بیدار ہوئی اس کا اندازہ مجھے تو نہیں لیکن ہاں طالبات کو کی ہوئی نصیحت کام آئی۔
اللہ رب العزت ہماری باتوں میں تاثیر پیدا فرمائے اور خیر خواہی کے جذبے میں خوب برکتیں عطا فرمائے –

(نوٹ : ان باتوں کو شائع کرنے کا مقصد بھی سوائے خیر خواہی کے کچھ نہیں ہے؛ اللہ تمامی کو حسن ظن پر قائم رکھے-)

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button