عقائد و نظریاتفقہ وفتاوی

کفریہ عبارتوں کی خبر اور عدم تکفیر

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

خبر کی دو قسمیں ہیں:(1)خبر ظنی (2) خبر یقینی۔خبر یقینی کو خبر قطعی کہا جاتا ہے۔

خبر قطعی کی دو قسمیں ہیں:(1)قطعی بالمعنی الاعم (2) قطعی بالمعنی الاخص۔

(1)قطعی بالمعنی الاعم وہ ہے،جس میں جانب مخالف کااحتمال بعید ہوتا ہے۔

(2)قطعی بالمعنی الاخص وہ ہے،جس میں جانب مخالف کا احتمال بعید بھی نہیں ہوتا۔

جب ضروری دینی کا انکارقطعی بالمعنی الاخص ہوتو کفر کلامی کا حکم عائد ہوگا، اور تکفیر کلامی کی شرط ہے کہ جہات ثلاثہ یعنی جہت کلام،جہت تکلم اور جہت متکلم قطعی بالمعنی الاخص ہو جائیں۔کسی جانب میں احتمال بعید بھی نہ ہو۔اکابر دیوبند کے کلام میں احتمال بعید بھی نہیں، لیکن جب تک امام احمد رضا قادری کو جہت تکلم میں احتمال بعید رہا، تب تک کفریہ عبارتوں کی خبر کے باوجود تکفیر کلامی نہیں فرمائی۔جب احتمال بعید بھی دور ہوگیا،تب تکفیر کلامی فر مائی۔

متکلم کی طرف کسی کلام کی نسبت دوطریقے سے قطعی بالمعنی الاخص ہوتی ہے:

(1) خبر متواتر موصول ہوکہ متکلم نے یہ کلام کہا ہے۔

(2)متکلم نے خود مفتی کے سامنے وہ کلام کہا ہو،یا اپنا کلام ہونے کا اقرارکیا ہو۔

خبرظنی کے سبب قادیانی کی مشروط تکفیر:

قادیانی کی عبارت خبرواحدکے ذریعہ امام احمدرضاقادری کوموصول ہوئی توآپ نے یہ نہیں فرمایاکہ میں خبرواحدکے سبب کیسے اس کا حکم شرعی بیان کردوں،بلکہ آپ نے امت مسلمہ کو قادیانی کے شروفسادسے محفوظ رکھنے کے واسطے مشروط تکفیرفرمائی کہ اگر اس نے ایسا کہا ہے تو وہ کافر ہے۔ مشروط تکفیرکا مقصدیہ تھاکہ امت مسلمہ اس کے شرسے محفوظ رہے۔

اگست ۲۰۹۱؁ء مطابق ۰۲۳۱؁ھ میں مولانا پیر عبد الغنی کشمیری امرتسری (م۸۳۳۱؁ھ) نے مرزاکی عبارات متفرقہ لکھ کر بریلی شریف بھیجا۔ امام اہل سنت نے ان عبارات کے پیش نظر رسالہ ((السوء والعقاب علی المسیح الکذاب))تحریرفرمایا،اورآپ نے لکھاکہ اس شہرمیں مرزا کا فتنہ نہیں آیا۔اس کی تحریرات یہاں نہیں ملتیں،اورآپ نے اس رسالہ میں لکھاکہ:

اگر یہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو واللہ واللہ وہ یقیناکافر،اورجواس کے ان اقوال یاان کے امثال پر مطلع ہوکر اسے کافرنہ کہے،وہ بھی کافر۔یہ قادیانی کی مشروط تکفیر ہے کہ اگر اس نے ایسا کہا ہے،تب کافر ہے،کیوں کہ خبرواحد کے ذریعہ قادیانی کی عبارت موصول ہوئی تھی۔بعدمیں اس کا تیقن حاصل کیا گیا۔

آپ نے اس فتویٰ کے بعد مرزاغلام احمدقادیانی کی کتابیں منگوائیں اور ۰۲۳۱؁ھ / ۲۰۹۱؁ء میں ”المعتمد المستند“میں مرزا قادیانی کی بعض عبارات ذکرکرکے تکفیر فرمائی۔ ۳۲۳۱؁ھ میں ”قہر الدیان علیٰ مرتدبقادیان“تحریرفرمایا۔ ۳۲۳۱؁ھ/۴۲۳۱؁ھ مطابق ۶۰۹۱؁ء میں علمائے حرمین طیبین نے حسام الحرمین میں مرزاکے کافر ہونے کی تصدیق فرمائی۔

المعتمد میں تکفیرسے قبل سرسید،گنگوہی اور نانوتوی کی عبارتوں پر مطلع
امام احمدرضاقادری ”المعتمد المستند“میں تکفیر سے قبل ہی دیوبندیوں کے کفریہ عقائد پر مطلع تھے،لیکن جب تک کتاب آپ نے نہیں دیکھی تھی، تب تک تکفیر نہیں فرمائی۔

ممکن ہے کہ وہاں روایت بالمعنی کا احتمال ہوکہ علما نے ان کفریہ عبارتوں کی روایت بالمعنی کی ہو، الفاظ کچھ اور ہوں،یا کوئی اور احتمال ہو، جس کے سبب آپ نے کتابیں دیکھنے سے قبل تکفیر نہ فرمائی ہو۔مجھے یہی محسوس ہوتا ہے کہ روایت بالمعنی کا احتمال تھا۔
”المعتمد المستند“ میں اشخاص اربعہ کی تکفیر
امام احمدرضانے 1320 مطابق 1902 میں المعتمدالمستندتحریرفرمائی۔اس میں مسلک دیوبندکے اشخاص اربعہ اورقادیانی کی تکفیر فرمائی۔

المعتمدالمستند 1321 مطابق 1903 میں مطبع تحفہ حنفیہ (پٹنہ)سے شائع ہوئی۔

(1)امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تحریر فرمایا:
”۰۲۳۱؁ھ میں ان کے ان تمام کفر یات کا مجموع یکجائی رد شائع ہوا،پھر ان دشنامیوں کے متعلق کچھ عمائد مسلمین علمی سوالات ان میں کے سرغنہ کے پاس لے گئے۔

سوالوں پر جوحالت سراسیمگی بے حد پیدا ہوئی۔دیکھنے والوں سے اس کی کیفیت پوچھئے،مگر اس وقت بھی نہ ان تحریرات سے انکار ہوسکا،نہ کوئی مطلب گھڑنے پرقدرت پائی،بلکہ کہا تو یہ کہا کہ: میں مباحثہ کے واسطے نہیں آیا،نہ مباحثہ چاہتا ہوں۔میں اس فن میں جاہل ہوں اور میرے اساتذہ بھی جاہل ہیں۔معقول بھی کر دیجیے توبھی وہی کہے جاؤں گا۔

وہ سوالات اور اس واقعہ کا مفصل ذکر بھی جبھی 15:جمادی الاخریٰ ۳۲۳۱؁ھ کوچھاپ کر سرغنہ واتباع سب کے ہاتھ دے د یا گیا۔ اسے بھی چوتھا سال ہے۔صدائے برنخاست“۔
(تمہید ایمان ص350–فتاویٰ رضویہ جلد 30-جامعہ نظامیہ لاہور)

(2)امام اہل سنت قدس سرہ نے دیوبندیوں کی شائع شدہ کتابوں سے متعلق تحریر فرمایا:

”مسلمانو!یہ روشن،ظاہر،واضح،قاہر عبارات تمہارے پیش نظر ہیں، جنہیں چھپے ہوئے دس دس،اور بعض کو سترہ اور تصنیف کوانیس سال ہوئے،اور ان دشنامیوں کی تکفیر تواب چھ سال یعنی ۰۲۳۱؁ھ سے ہوئی۔جب سے المعتمد المستند چھپی۔

ان عبارات کوبغور نظر فرماؤ،اور اللہ ورسول کے خوف کوسامنے رکھ کر و۔یہ عبارتیں فقط ان مفتریوں کا افترا ہی رد نہیں کرتیں،بلکہ صراحۃً صاف صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایسی عظیم احتیاط والے نے ہرگز ان دشنامیوں کوکافر نہ کہا۔جب تک یقینی،قطعی،واضح،روشن، جلی طورسے ان کا صریح کفر آفتاب سے زیادہ ظاہر نہ ہولیا۔

جس میں اصلاً اصلاً ہرگز ہرگز کوئی گنجائش،کوئی تاویل نہ نکل سکی کہ آخر یہ بندۂ خدا وہی توہے جو ان کے اکابر پر ستر ستر وجہ سے لزوم کفر کا ثبوت دے کر یہی کہتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الاللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے،اور حکم اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔

یہ بندۂ خدا وہی توہے جو خود ان دشنامیوں کی نسبت (جب تک ان کی ان دشنامیوں پر اطلاع یقینی نہ ہوئی تھی)اٹھہتر وجہ سے بحکم فقہائے کرام لزوم کفر کا ثبوت دے کر یہی لکھ چکا تھا کہ ہزارہزار بارحاش للہ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا۔جب کیا،ان سے ملاپ تھا، اب رنجش ہوگئی۔جب ان سے جائیداد کی کوئی شرکت نہ تھی،اب پیدا ہوئی۔

حاش للہ! مسلمانوں کا علاقہ محبت وعداوت،صرف محبت وعداوت خدا ورسول ہے۔ جب تک ان دشنام دہوں سے دشنام صادر نہ ہوئی،یا اللہ ورسول کی جناب میں ان کی دشنام نہ دیکھی،سنی تھی۔ اس وقت تک کلمہ گوئی کا پاس لازم تھا۔غایت احتیاط سے کام لیا،حتی کہ فقہائے کرام کے حکم سے طرح طرح ان پر کفر لازم تھا،مگر احتیاطاً ان کا ساتھ نہ دیا اور متکلمین عظام کا مسلک اختیار کیا۔

جب صاف صریح انکار ضروریات دین ودشنام دہی رب العٰلمین وسید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیہم اجمعین آنکھ سے دیکھی تواب بے تکفیر چارہ نہ تھا کہ اکابر ائمہ دین کی تصریحیں سن چکے کہ:من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر -جوایسے کے معذب وکافر ہونے میں شک کرے،وہ خود کافر ہے۔ اپنا اور اپنے دینی بھائیوں عوام اہل اسلام کا ایمان بچانا ضرور تھا، لاجرم حکم کفر دیا اور شائع کیا“۔
(تمہید ایمان ص257-فتاویٰ رضویہ جلد 30-جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ان عبارتوں کو ان کی کتابوں میں نہ دیکھی تھی،لیکن ان عبارتوں کی خبر تھی۔آپ نے ان کے جوابات بھی تحریرفرمائے تھے۔

(ان کی دشنام نہ دیکھی،سنی تھی)سے اسی مفہوم کوبتارہے ہیں کہ عبارتیں ان کی کتابوں میں نہ دیکھی تھیں،بلکہ سنی تھیں،یعنی زبانوں سے سنی تھیں،اور کہیں کسی کی تحریر میں ان عبارتوں کومنقول دیکھا ہوتو اس کو بھی سننے سے تعبیر کیا جائے گا،کیوں کہ یہاں دیکھنے سے مراد خاص ان کی کتابوں میں دیکھنا مراد ہے۔

تکفیرکلامی کے تمام شرائط کی تکمیل کے بعد ہی کفر کلامی کا فتویٰ عائد ہوتا ہے۔ مذکورہ عبارت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ تمام حالات کی اطلاع پہلے سے تھی۔

اب ان کتابوں میں محض ان کی عبارتیں دیکھنا باقی تھا۔جب یہ شرط بھی مکمل ہوگئی تو انہیں کافر اعتقادکیا،اور کافر سمجھا،پھر فتویٰ تحریر فرمایا۔

امام اہل سنت کے قول: (آنکھ سے دیکھی تواب بے تکفیر چارہ نہ تھا) کا یہی مفاد ہے۔

تمہید ایمان کے حاشیہ میں محشی نے لکھا:”جیسے گنگوہی صاحب وانبیٹھی صاحب کہ ان کے اتنے قول کی نسبت میرٹھ سے سوال آیا تھا کہ خدا جھوٹا ہوسکتا ہے،اس کے بعد معلوم ہوا کہ شیطان کا علم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بتاتے ہیں،پھر گنگوہی صاحب کا وہ فتویٰ کہ خدا جھوٹا ہے،جواسے جھوٹا کہے،مسلمان سنی صالح ہے۔

جب چھپا ہوانظر سے گزرا،کمال احتیاط یہ کہ دوسروں کا چھپوایا ہواتھا۔اس پروہ تیقن نہ کیا، جس کی بنا پر تکفیر ہو۔جب وہ اصلی فتویٰ گنگوہی صاحب کا مہری دستخطی خود آنکھ سے دیکھا،اور باربار چھپنے پربھی گنگوہی صاحب نے سکوت کیا تواس کے صدق پرکافی اعتبار ہوا۔

یونہی قادیانی دجال کی کتابیں جب تک آپ نے نہ دیکھیں،اس کی تکفیر پر جزم نہ کیا،جب تک صرف مہدی،یا مثیل مسیح بننے کی خبر سنی تھی،جس نے دریافت کیا،اتنا ہی کہا کہ کوئی مجنون معلوم ہوتا ہے،پھر جب امرتسر سے ایک فتویٰ تکفیر کاآیا،جس میں اس کی کفریہ عبارتیں بحوالہ صفحات منقول تھیں،اس پربھی اتنا لکھا کہ:

”اگریہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تووہ یقینا کافر“۔دیکھو رسالہ:”السوء والعقاب علی المسیح الکذاب“ (۰۲۳۱؁ھ) صفحہ 18:ہاں،جب اس کی کتابیں بچشم خوددیکھیں،اس کے کافر مرتد ہونے کا قطعی حکم دیا“۔

(حاشیہ تمہید ایمان:ص 356-فتاویٰ رضویہ:جلد30-جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:منقولہ بالاحاشیہ میں ہے کہ گنگوہی کا فتویٰ چھپا ہوا دیکھے تھے،لیکن وہ دوسروں نے چھاپا تھا،گویا کہ وہ نقل ہے،اسی لیے اس دیکھنے کو بھی سننے سے تعبیر فرمایا۔

جس میں گنگوہی کے مہر ودستخط تھے، اس کو دیکھا اور باربار چھپنے پر بھی گنگوہی نے انکار نہ کیا۔

مختلف مقامات سے علمائے اہل سنت وجماعت تردیدکرتے رہے۔کلام کو کفریہ بتاتے رہے۔ایسے قائل کو کافر بتاتے رہے۔جب احتمال ختم ہوگیا،تب کفر کا فتویٰ دیا۔

گنگوہی نے اپنے فتویٰ پر اکتفانہ کیا،بلکہ اپنے شاگردمحمدحسن مراوآبادی کے نام سے ”تقدیس القدیر“چھپوائی۔اس میں لکھا:”گفتگوجواز وقوعی میں ہے،نہ کہ جواز امکانی میں“۔(ص79)اسی میں ہے۔”جواز وقوعی میں بحث ہے“۔(ص78)۔

مرتضی حسن دربھنگوی نے اسکات المعتدی لکھا۔ اس میں لکھا کہ اکابر اشاعرہ بھی وقوع کذب الٰہی کے قائل تھے“۔(ص31)ان سب سے دیا بنہ کا عقیدہ بالکل واضح ہوگیا۔

تکفیر سے قبل کفریہ عبارتوں کی خبر:

تمہید ایمان کی عبارت سے واضح ہوگیا کہ کسی احتمال کے سبب آپ نے کتابیں دیکھنے سے قبل تکفیر کلامی نہیں فرمائی،ورنہ کفریہ عبارتوں کی خبر پہلے سے تھی۔

سرسید کی کتابیں پہلے دیکھ چکے تھے،اس لیے ”المعتمدالمستند“ سے قبل ہی دو رسالوں (امور عشرین وفتاوی الحرمین) میں تکفیرفرما چکے تھے،پھر المعتمدالممستند میں تکفیر کا ذکر فرمایا۔

سرسید کے کفریات کی خبر:

(1)سال۷۱۳۱؁ھ میں ”فتاوی الحرمین“کی تصنیف ہوئی۔اس کے سوال اول میں نیچریوں کے عقائد کا ذکر ہے۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے اس کا جواب تحریر فرمایا، اور نیچریوں کے عقائد کو کفر اورضروریات دین کا انکارقرار دیا۔عبارت مندرجہ ذیل ہے:

(وانما ہی من اخبث الکفرۃ المرتدین لانکارہا ضروریات الدین)
(فتاوی الحرمین:سوال نمبراول:ص8-استنبول ترکی)

”المعتمد“ سے قبل نا نوتوی کے کفریات کی خبر:

(1)اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے سال ۶۱۳۱؁ھ میں ”جزاء اللہ عدوہ باباۂ ختم النبوہ“ تحریر فرمائی۔اس میں نانوتوی کی کفر ی عبارت کا ذکر ہے،اوراسی جگہ آپ نے ناناتوی کوکفر ملعون کا موجد کہا۔

احتمال فی التکلم کے سبب متکلم پر حکم عائد نہیں فرمایا۔

نانوتوی کی عبارت نقل کرنے کے بعد مندرجہ ذیل عبارت رقم فرمائی:

”اس ملعون ناپاک شیطانی قول نے ختم نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی۔خاتمیت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃوالتحیۃ کہ وہ تاویل گڑھی کہ خاتمیت خود ہی ختم کردی۔

صاف لکھ دیا کہ اگر حضور خاتم الانبیا علیہ وعلیہم الصلوٰۃوالثنا کے زمانے میں،بلکہ حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو، تو ختم نبوت کے کچھ منافی نہیں۔اللہ اللہ جس کفر ملعون کے موجد کو خود قرآن عظیم کا ”وخاتم النبیین“فرمانا نافع نہ ہوا“۔
(جزاء اللہ عدوہ:فتاویٰ رضویہ:جلد15:ص 713-جامعہ نظامیہ لاہور)

(2)فتاوی الحرمین میں (سال ۷۱۳۱؁ھ)میں نانوتوی کے نبی جدید کے امکان وقوعی کے قول کو کفر بواح اورضلالت لکھ چکے تھے۔

صریح لفظوں میں متکلم کوکافر نہ لکھنے کی وجہ وہی ہے کہ کتاب میں عبارت ابھی نہیں دیکھے تھے تواحتمال فی التکلم کی وجہ سے صریح لفظوں میں متکلم کو کافر نہ لکھے۔

فتاوی الحر مین کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
(فتجویز نبی جدید بعدہ اومعہ کفر بواح وضلال فی الدین)
(فتاوی الحرمین:ص 25-استنبول:ترکی)

المعتمدسے قبل گنگوہی وانبیٹھوی کے کفریات کی خبر:

(1)براہین قاطعہ کی عبارت جو علم شیطان سے متعلق ہے،جس پر حسام الحرمین میں کفر کلامی کا حکم عائد کیا گیا،اس کا ذکر”امور عشرین در امتیازسنیین“(فتاویٰ رضویہ: جلد 29 ص 616-جامعہ نظامیہ لاہور)میں ہے۔یہ رسالہ ۸۱۳۱؁ھ میں تحریر کیا گیا۔

اسی رسالہ:امور عشرین میں گنگوہی کے بارے میں احتمال فی التکلم کے سبب محض کلام کا حکم بیان کیا گیا،اور کلام کوصریح ضلالت وتوہین نبوی قراردیا گیا۔

چوں کہ ابھی تک براہین قاطعہ کو دیکھ نہ سکے تھے، اس لیے احتمال فی التکلم کے سبب متکلم کا حکم بیان نہیں فرمایا۔

بعض کو یہ وہم ہواکہ امام احمدرضا نے گنگوہی کومحض گمراہ لکھا ہے۔ دراصل یہاں احتمال فی التکلم کے سبب متکلم کا حکم بیان نہیں کیا گیا،صرف کلام کا حکم بیان ہوا۔
بعض لوگ لفظ ضلالت سے غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

ضلالت کا لفظ ضلالت کفریہ اور ضلالت غیر کفریہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔کفر کو ضلالت کہنا مروج ہے۔

مسئلہ ختم نبوت میں وہابیہ اور دیابنہ کے مختلف قسم کے اقوال تھے۔بعض پرحکم کفر عائد ہوتا تھااوربعض پر نہیں،اس لیے امام اہل سنت قدس سرہ نے ”المعتمد المستند“میں اس جگہ لفظ”مبتدع وضال“ رقم فرمایا،تاکہ یہ لفظ گمرہوں کو بھی شامل رہے،اور مرتدین کو بھی۔

امام اہل سنت علیہ الرحمۃوالرضوان نے رقم فرمایا:
”ان سب اقوال کے لحاظ سے وہاں بلفظ عام ”مبتدع ضال“سے تعبیر کیا کہ بدعت مکفرہ کوبھی شامل ہے“۔(فتاویٰ رضویہ:جلد ششم:ص69-رضا اکیڈمی ممبئ)

امام ممدوح نے اسی فتویٰ میں رقم فرمایا:”مبتدع ضال ایک لفظ عام ہے۔کافر کوبھی شامل کہ بدعت دوقسم ہے۔مکفرہ وغیر مکفرہ“۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد ششم:ص68-رضا اکیڈمی ممبئ)

توضیح:امام موصوف نے خودبھی فرمادیا کہ بدعت وضلالت کالفظ عام ہے۔کفر کوبھی شامل ہے۔آپ نے ”المعتمدالمستند“میں ایسا استعمال بھی فرمایاتو گنگوہی کے لیے استعمال شدہ لفظ ضلالت سے ضلالت غیر کفریہ مرادلینا انصاف نہیں۔

جہاں کلام کفریہ ہوتو وہاں ضلالت کا معنی کفر ہے۔مذکورہ بالافتویٰ میں یہ بھی ہے کہ کفر پر حرام کا بھی اطلاق ہوتا ہے۔ کفر حلال نہیں،بلکہ حرام اور شدید حرام ہے تو اسے ایک خاص لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔قرینہ کے اعتبارسے مشترک لفظ کا معنی متعین کیا جاتا ہے۔

رسالہ:امورعشرین کی عبارت درج ذیل ہے:

”شیطان کے علم کو معاذاللہ حضورسید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے زائد وسیع تر ماننا جیسا کہ براہین قاطعہ گنگوہی میں ہے،صریح ضلالت وتوہین حضرت رسالت علیہ افضل الصلوٰۃوالتحیہ ہے“۔ (فتاویٰ رضویہ:جلد 29ص616-جامعہ نظامیہ لاہور)

(2)براہین قاطعہ کی اسی عبارت کا ذکر رسالہ:”انباء المصطفٰے بحال سرواخفی“ (فتاویٰ رضویہ:جلد29ص507:جامعہ نظامیہ لاہور) میں ہے۔

یہ رسالہ بھی ۸۱۳۱؁ھ میں تصنیف ہوا۔اس میں آپ نے اس امر کوکفرقرار دیااورملک ہند میں احکام اسلامی کے عدم اجرا کا ذکر فرمایا۔

رسالہ:انباء المصطفےٰ کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:

”وہ شخص جو شیطان کے علم ملعون کوعلم اقدس حضورپرنورعالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زائد کہے،اس کا جواب اس کفرستان ہند میں کیا ہوسکتا ہے۔ان شاء اللہ القہار روز جزاوہ ناپاک ہنجار اپنے کیفرکفری گفتارکوپہنچے گا:وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔یہاں اسی قدرکافی ہے کہ یہ ناپاک کلمہ صراحتاً محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عیب لگانا ہے،اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عیب لگانا کلمہ کفر نہ ہواتو اورکیا کلمہ کفر ہوگا“۔
(انباء المصطفٰے بحال سرواخفی -فتاویٰ رضویہ: جلد29:ص507:جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:صریح لفظوں میں صرف کلام کا حکم بیان ہوا کہ عیب لگانا کلمہ کفر نہیں تو اور کیا کلمہ کفر ہوگا۔متکلم کے حکم سے مکمل خموشی ہے۔ یہ احتمال فی التکلم کے سبب ہے۔

رفع احتمال کے لیے کتابوں میں عبارت دیکھنا:

مذکورہ بالا حقائق سے ظاہر ہوگیا کہ امام احمدرضاقادری نے ”المعتمدالمستند“ سے قبل بہت سی کفریہ عبارتوں کو پہلے نہیں دیکھے تھے، اسی لیے کفر کلامی کا حکم جاری نہ فرمائے۔

جن کفر ی عبارتوں کو پہلے دیکھ چکے تھے،توغوروفکر کے بعد ”المعتمد المستند“سے قبل ہی حکم کفرجاری فرماچکے تھے،کیوں کہ وہاں احتمال فی التکلم بھی بالکل زائل ہو چکا تھا۔

”المعتمدالمستند“ سے قبل سرسید کی تکفیر:

(1)فتاوی الحرمین میں (سال۷۱۳۱؁ھ)میں فرقہ نیچریہ کوکافر لکھ چکے تھے۔
(وانما ہی من اخبث الکفرۃ المرتدین لانکارہا ضروریات الدین)
(فتاوی الحرمین ص8-استنبول ترکی)

(2)رسالہ:”امور عشرین در امتیازسنیین“میں سرسید کی تکفیر ہے۔

یہ رسالہ ۸۱۳۱؁ھ میں تحریر کیا گیا ہے۔ عبارت درج ذیل ہے۔
”سرسید احمدخاں علی گڑھی اوراس کے متبعین سب کفار ہیں“۔
(فتاویٰ رضویہ جلد 29ص615-جامعہ نظامیہ لاہور)

کتابیں حر مین طیبین لے جانا
امام احمدرضا قادری نے کتابوں کی اصل عبارتیں دکھانے کے واسطے علمائے حرمین طیبین کی خدمت میں دیابنہ کی کتابیں پیش کیں،اور گنگوہی کے فتوے کا فوٹو پیش کیا۔

امام احمدرضا نے تحریرفرمایا:”ان لوگوں کی و ہ کتابیں جن میں یہ کلمات کفریہ ہیں، مدتوں سے انہوں نے خود اپنی زندگی میں چھاپ کر شائع کیں،اور ان میں بعض دودوبار چھپیں،مدتہا مدت سے علمائے اہل سنت نے ان کے رد چھاپے،مواخذے کیے۔

وہ فتویٰ جس میں اللہ تعالیٰ کو صاف صاف کاذب،جھوٹا مانا ہے،اور جس کی اصل مہری دستخطی اس وقت تک محفوظ ہے،اور اس کے فوٹو بھی لیے گئے ہیں،جن میں سے ایک فوٹو کہ علمائے حرمین شریفین کو دکھانے کے لیے مع دیگر کتب دشنامیاں گیا تھا،سرکار مدینہ طیبہ میں بھی موجود ہے“۔
(تمہید ایمان:ص350-349-فتاویٰ رضویہ: جلد30-جامعہ نظامیہ لاہور)

کفریہ عقائد کا علم کب ہوا؟
امام احمد رضا قادری نے مولانا عبد الباری فرنگی محلی کے مکتوب کے جواب میں نانوتوی وانبیٹھوی کی کفریہ عبارات سے عدم علم کو ذکر کرتے ہوئے رقم فرمایا:

”میں کہتا ہوں کہ آپ کے اب وجد کو دیوبند یوں کے ان کفروں پر اطلاع نہ ہوئی ہوگی تو ان کا برتاؤ بعد ظہورامر کیا حجت رہا۔ ۷۰۳۱؁ھ تک کہ میں نے سبحان السبوح لکھا،خود مجھے ان کے کفروں پر اطلاع نہ تھی،لہٰذاجب تک ان پرصرف لزوم کفر لکھا“۔
(الطاری الداری: حصہ دوم ص 84-حسنی پریس بریلی شریف)

تو ضیح: مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوا کہ ۷۰۳۱؁ھ تک کفریات کلامیہ کاعلم نہیں تھا۔ اس کے بعد علم ہوا۔صحیح وقت کا تعین مشکل ہے۔

جس سال تحذیرالناس اور براہین قاطعہ کی عبارت کفریہ نقل فرمارہے ہیں،اسی سال سے عبارتوں کا علم تسلیم کیا جائے۔یہ عبارت کسی عالم کی کتاب سے نقل کی گئی ہوگی،پھر جب کتابیں دیکھیں تو احتمال فی التکلم ختم ہوگیا۔

سبحان السبوح میں امکان کذب کی بحث ہے۔ اسماعیل دہلوی نے رسالہ یک روزی میں امکان کذب کا قول کیا ہے۔ اسی طر ح خلیل احمد انبیٹھوی نے براہین قاطعہ میں امکان کذب کاقول کیا۔بر اہین قاطعہ کی عبارت جو امکان کذب سے متعلق تھی،سائل نے اسے نقل کرکے سوال کیا۔جواب میں رسالہ:سبحان السبوح لکھا گیا۔

اس میں براہین قاطعہ اور دہلوی کے رسالہ یک روزی کی عبارتو ں پر بحث ہے۔ امکان کذب کے قائلین کے لیے کفرفقہی کا حکم بیان کیا گیا ہے۔

امام احمد رضا قادری کی عبارت ہے:”میں نے سبحان السبوح لکھا،خود مجھے ان کے کفروں پر اطلاع نہ تھی،لہٰذاجب تک ان پرصرف لزوم کفر لکھا“۔(الطاری الداری)

اس عبارت کا مفہو م یہ ہے کہ جب کفر لزومی کا علم ہوا،تب کفر لزومی کا حکم بیان کیا گیا۔ اس وقت کفریات کلامیہ کا علم نہیں تھا تو تکفیر کلامی کی کوئی صورت نہیں تھی۔

کیا امام احمدرضا سے قبل قائلین کا صریح حکم بیان کیاگیاتھا؟

المعتمد المستند سے پہلے کی کتابیں مثلاً ابطال اغلاط قاسمیہ،تقدیس الوکیل وغیرہ میں صرف کفریہ کلام کا حکم بیان کیا گیا ہے۔صریح لفظوں میں کہیں قائلین کا حکم بیان نہیں ہوا۔

بہاول پور کے مناظرہ میں انبیٹھوی کو شکست ہوئی۔مناظرہ کے فیصل حضرت شاہ غلام فرید (۱۶۲۱؁ھ-۹۱۳۱؁ھ)علیہ الرحمۃوالرضوان نے علامہ غلام دستگیرقصوری قدس سرہ العزیزکے حق میں فیصلہ دیا اور تحریر فرمایا کہ خلیل احمد انبیٹھوی وغیرہ وہابی ہیں اور اہل سنت وجماعت سے خارج ہیں۔
اس فیصلہ کے بعد نواب بہاول پور نے انبیٹھوی کو ریاست بہاول پورسے نکال دیا۔

جو مرتد ہوگا،وہ اہل سنت سے خارج بھی ہوگا۔فیصلہ میں وہابی اور خارج اہل سنت ہونے کاذکر کیا گیا،تاکہ مومنین ایسوں کے شروفساد سے محفوظ رہیں۔

ابتدائی مرحلہ میں دیوبندیوں کے ساتھ ملاطفت اختیار کی گئی،تاکہ وہ لوگ اسلامی حکم کوقبول کرلیں۔

یہاں اسلامی حکومت نہیں تھی کہ کسی مرتدکو قید وقتل کی سزا کا خوف ہو،اس لیے صریح حکم بیان کرنے سے پرہیز کیا گیا،تاکہ نر می کے ساتھ ان کو ترغیب دی جائے۔

”الکنایۃ ابلغ من التصریح“پر عمل ہوا۔عوام مسلمین کو ان ضلالت وکفر سے محفوظ رکھنے کے لیے قول کا حکم بیان کیا گیا کہ یہ کفریہ کلام ہے۔ایسا کہنے والا کافر ہے۔

ابتدائی مرحلہ میں قائلین کو صریح لفظوں میں کافر نہ کہنا
جب دیابنہ کی کفریہ تحریریں منظرعام پرآئیں توابتدائی مرحلہ میں علمائے کرام کویہ شبہہ ہوا کہ یہ کفریات کلامیہ ان لوگوں کا کا عقیدہ ہے، یالغزش کے سبب ایسا صادر ہوگیا۔

لغزش کے سبب اگر مفتی ومناظرومحقق ومباحث سے کچھ صادر ہوتولغزش کا علم ہوتے ہی فوراً رجوع کرنا ہے،لیکن جب طواغیت اربعہ اپنی عبارتوں کی تاویل کرنے لگے۔ان عبارتوں پر مناظرہ کرنے لگے۔اپنی عبارتوں کی تاویل میں کتابیں لکھنے لگے،تب واضح ہو گیا کہ یہ ان کے عقائد ہیں۔لغزش کے سبب ایسا صادر نہیں ہوا،بلکہ مخفی عقائد کا اظہار ہے۔

ابتدائی مرحلہ میں علمائے کرام نے صریح لفظوں میں کافر نہیں کہا،لیکن ان عبارتوں کو کفریہ بتایا اور یہ ظاہرسی بات ہے کہ کفریہ کلام کا قائل کافرہوتا ہے تو ان کفریات کے قائلین کافر ہوئے۔دراصل بطورکنایہ ان کوکافر کہاگیا اور کنایہ صریح سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے۔

علم بلاغت کا مشہورکلیہ ہے:

(الکنایۃ ابلغ من التصریح)

صریح لفظوں میں کافر نہ کہنے کا ایک سبب یہ ہے کہ قائلین کو توبہ ورجوع کی طرف مائل کرنا مقصود تھا،اس لیے یہ نرمی اختیار کی گئی کہ صریح لفظوں میں کافر نہیں کہا گیا اور حکم شرعی بیان کردیا گیاکہ یہ قول کفریہ ہے۔ حکم شرعی کی متوجہ کرنے کے واسطے نرمی اختیار کی گئی۔

ارشاد الٰہی ہے:(ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ)
(سورہ نحل:آیت 125)

کافرکو کافر اعتقاد کرنا ضروری ہے، اور کسی ضرورت شرعیہ کے سبب زبان سے کافر نہ کہے تواس پر مواخذہ نہیں۔علمائے حق نے ابتدائی مرحلہ میں اکابر دیوبند کوصریح لفظوں میں گرچہ کافر نہیں کہا،لیکن ان کے اقوال کو کفروضلالت ہی بتایا۔

مسئلہ حاضرہ میں صریح لفظوں میں کافرنہ کہنے کے متعدداسباب ہیں۔بعض اسباب مندرجہ ذیل ہیں۔

ابتدائی مرحلہ میں اکابردیوبند کوکافر نہ کہنے کا سبب:

(1)اگرابتدائی مرحلہ میں علمائے حق نے قائلین کوصراحت کے ساتھ کافر نہیں کہاتو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ا ن قائلین کومومن اعتقاد کرتے تھے۔جب قول کو کفریہ بتارہے ہیں تو قائل کو مومن کیسے شمار کریں گے۔یہاں صریح لفظوں میں کافر کہنے سے پرہیز کیا گیا،تاکہ وہ لوگ توبہ کی طرف مائل ہو جائیں۔”الکنایۃ ابلغ من التصریح“پر عمل کیا گیا۔

وہ لوگ تنہا نہیں تھے،بلکہ ان لوگوں کے ساتھ ان کے تلامذہ،مریدین اور معتقد ین کی ایک بڑی تعداد تھی۔اگریہ لوگ توبہ ورجوع کرلیتے تو بہت سے لوگ ہدایت پا لیتے۔ جب وہ لو گ توبہ کی طرف بالکل مائل نہ ہوئے تو انجام کارقائلین کا صریح حکم شرعی بیان کرنا پڑا۔

صریح لفظوں میں قائل کوکافر نہ کہنے کی مثال موجود ہے۔جو فقہا باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر ہوتے ہیں،وہ کفر فقہی کی صورت میں قائل کو کافر نہیں کہتے ہیں،لیکن قائل کے لیے توبہ،تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا حکم دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب وہ کافر ہی نہیں ہوا،مومن ہی رہا تو نکاح پر کچھ اثر آیا ہی نہیں،پھر تجدید نکاح کا حکم کیوں؟جب ایمان پر کچھ اثر آیاہی نہیں تو تجدید ایمان کا حکم کیوں؟

دراصل جو فقہا ئے اسلام باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر ہوتے ہیں،مثلاً امام ابن ہمام حنفی (صاحب فتح القدیر)۔

ایسے فقہا کفرفقہی کی صورت میں ملزم پرلفظ کافر کااطلاق نہیں کرتے،لیکن چوں کہ فقیہ ہیں توعملی احکام بیان کرنا ان کی ذمہ داری ہے،پس کافرفقہی کا جوحکم ہے،وہ بیان کرتے ہیں۔
اسی طرح ابتدائی مرحلہ میں بعض مرتدین کوصریح لفظوں میں کافر کہنے سے احتراز کیا جاتا ہے۔

اب اسلامی سلطنت نہیں کہ بادشاہ اسلام اس مجرم کو قید وقتل کرے،اور مجرم قید وقتل کے خوف سے غور وفکر کی طرف متوجہ ہو،پس ابتدائی مرحلہ میں ملاطفت کے ساتھ حکم شرعی کی تفہیم ہوتی ہے،اور ملزم کو اتباع شرع کی ترغیب دی جاتی ہے۔

قول کا حکم بیان کیا جاتا ہے، تاکہ عوام الناس اور دیگر لوگ اس کفر وضلالت میں مبتلا نہ ہوسکیں۔

(2)صریح لفظوں میں کافرنہ کہنے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ جن لوگوں کوتواتر کے ساتھ وہ کفریہ کلمات موصول نہیں ہوسکے،وہ تکفیر نہیں کرسکتے تھے،کیوں کہ تکفیر کلامی کی شرط ہے کہ مفتی کویقین بالمعنی الاخص حاص ہوجائے کہ اس ملزم نے ایسا کہا ہے۔

یقین کی دوہی صورت تھی کہ مفتی کوتواتر کے ساتھ کفریہ کلام موصول ہو،یامفتی نے خود ہی اسے ملزم سے سنا ہو۔

جن علمائے حق کوتواتر کے ساتھ وہ کفریہ کلمات نہیں مل سکے توانہوں نے صرف کلام کا حکم بیان کیا کہ یہ کفریہ کلام ہے۔

قائل کا حکم بیان نہیں فرمایا۔وہ قائل کو ابھی کافر نہیں کہہ سکتے تھے۔نسبت جب تک یقینی نہ ہوجائے،اس وقت تک قائل کا حکم بیان نہیں کیا جاسکتا۔

نسبت یقینی نہ ہوتوصرف کلام کا حکم بیان کیا جائے گا کہ یہ کفریہ کلام ہے۔ایسا کہنے والا کافر ہے۔ جس نے ایسا کہا،وہ کافر ہے۔اگر اس نے ایسا کہا ہے توکافر ہے۔

بعض علمانے ان کفریہ اقوال کوضلالت وگمرہی لکھا تو ضلالت کا اطلاق ضلالت کفر یہ وضلالت غیر کفریہ دونوں پرہوتا ہے۔

بدعت کا اطلاق بھی بدعت کفریہ اوربدعت غیر کفریہ دونو ں پر ہوتا ہے۔محل استعمال کے اعتبارسے کسی معنی کا تعین ہو گا۔جب کلام کفریہ ہوتو وہاں ضلالت وبدعت سے ضلالت کفریہ وبدعت کفریہ مراد ہوگی۔

الحاصل یہ ضروری ہے کہ کافر کو کافر اعتقاد کیا جائے۔مسئلہ حاضرہ میں قوم کوان کے کفر سے محفوظ رکھنے کے واسطے علمائے حق ان کفریہ اقوال کی قباحت وشناعت بیان فرماتے رہے۔ان اقوال کو کفروضلالت اور خلاف حق بتاتے رہے۔اعتقاد اور افتا دو متغایر امر ہیں۔

جب ”المعتمد المستند“میں حکم شرعی صادرہوگیا۔حرمین طیبین سے حسام الحرمین میں حکم کفر آنے کے بعداس کی تشہیر بھی ہوگئی تو اب اشخاص اربعہ اورقادیانی کے کفریہ عقائد اور اس پر نافذکردہ حکم کفر پر مطلع ہو،اس کے لیے ”من شک فی کفر ہ وعذابہ فقد کفر“کا حکم جاری کیا گیا۔جب مکمل تحقیق ہوچکی، اور علمائے عرب وعجم نے تائید وتصدیق وتصویب فرمادی تو اشخاص اربعہ اور قادیانی کافر کلامی ہیں۔کافرکلامی کوکافرماننا ضروریات دین میں سے ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button