نظم

نظم: بے بَدَل قرآں

وسیمِ لئیم اور اُس جیسے دشمنان اسلام و مخالفین قرآن پر ضربِ کاری

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان

ہر ایک فیصلہ دائم اَٹَل ہے قرآں کا
نظامِ دہر میں جاری عمل ہے قرآں کا

نہ روک پائے گی اِس کو کبھی کوئ ظلمت
تجلّیوں سے بھرا پَل بہ پَل ہے قرآں کا

"لَحافظون” کی آیت بتارہی ہے ہمیں
کہ نورِ حرف و سُخن لَم یَزَل ہے قرآں کا

سُن اے خبیث ! ترے جیسے کتنے آئے گئے
ہر ایک حرف مگر بے بدل ہے قرآں کا

یہ سب فساد تری فکرِ بد نِہاد کا ہے
سمجھ رہا ہے کہ یہ سب خَلَل ہے قرآں کا

رہیں گی اِس کو مٹانے کی سازشیں ناکام
کہ نور آج ہے اور نور کل ہے قرآں کا

رواں ہے مَطلَعِ عالَم پہ مَہرِ نَو بن کر
ہر اک اجالا سدا برمحل ہے قرآں کا

ہیں شاخِ دہر پہ تہذیب و فن کے جتنے ثمر
بغور دیکھو ! یہ ہر ایک پھل ہے قراں کا

تمام مسئلے ، قرآن ہی سے سُلجھاؤ
جہاں میں سب سے اثر دار حَل ہے قرآں کا

ہر اک فساد کو جڑ سے اکھاڑنا ہے "جہاد”
بَقائے امن سدا ماحَصَل ہے قرآں کا

پہنچ نہ پائے جہاں کوئ آندھی اور طوفاں
بلند ایسا فریدی ! جَبَل ہے قرآں کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے