یوپی

قرآن الله کا مقدس کلام ہے اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ہرگز ہرگز ممکن نہیں: سید محمد امان میاں قادری برکاتی

علی گڑھ: 16/ مارچ، ہماری آواز(ضیاء الرحمن امجدی) البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ میں وسیم رضوی کی طرف سے قرآن حکیم کی 26 آیات جہاد کے متعلق سپریم کورٹ میں داخل کی گئی اپیل کے جواب میں محبوب العلماء سید محمد امان قادری برکاتی مدظلہ العالی،ڈائریکٹر البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ کی قیادت میں ایک نشست کا انعقاد کیا گیا، اس میں شہر علی گڑھ کی کئی اہم شخصیات اور قرآنک اسکالرز نے حصہ لیا،اور اور وسیم رضوی کی اس غیر اسلامی حرکت پر اپنے اپنے بیانات جاری کیے،
سید محمد امان قادری نے فرمایا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر قرآن مجید کی تعلیمات کو گھر گھر پہنچانے کا کام بہت ضروری ہے، مزید کہا کہ ہر خاندان میں کم از کم ایک عالم کا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ خاندان کے سبھی افراد قرآن و حدیث کی تعلیمات سے صحیح طریقے سے واقف ہو سکیں،اور ضرورت پڑنے پر لوگوں کو صحیح جواب بھی دے سکیں.
سید مصطفیٰ علی قادری نگراں کل ہند انجمن اصلاح معاشرہ اہل سنت و جماعت ،علی گڑھ نے کہا کہ وسیم رضوی بےعلم آدمی ہے، اس نے میڈیا سے جس طریقے پر گفتگو کی ہے وہ بےبنیاد ہے، ان کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے،
ڈاکٹر سید نورعالم مصباحی( علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فارسی تفاسیر پہ پی ایچ ڈی جاری) نے کہا کہ قرآن ہمارے ایمان کا حصہ ہے، مسلمان بھوکا پیاسا تو رہ سکتا ہے مگر قرآن پاک کی بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتا، اس کا جواب ہمیں اپنے بچوں کو عالم اور حافظ بنا کر دینا چاہیے.
ڈاکٹر محمد سلمان رضا علیمی علیگ (شعبہ مطالعہ قرآن البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ) نے کہا کہ یہ ایسا پہلی بار نہیں ہے جب دشمنان اسلام کی طرف سے اس طرح کی مذموم کوشش کی گئی ہے بلکہ اس طرح کے واقعات اس سے پہلے بھی رونما ہوئے مگر ہر بار دشمنان اسلام کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔یہاں تک کہ جرمنی میں اس طرح کا انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا گیا کہ جس کے ذریعہ قرآن کریم میں تحریف و تبدیلی کی جائے مگر ناکامی ہی ہاتھ لگی.
مولانا محمد ساجد نصیری( شعبہ مطالعہ قرآن البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ) نے بتایاکہ وسیم رضوی نے اپنی پیٹیشن میں لکھا ہے کہ زمانہ رسالت میں صرف چار حافظ تھے، جبکہ یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ بخاری شریف میں ہے کہ صرف بئر معونہ کے موقع پر ستَّر حفاظ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم شہید کئے گئے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو کہ خلفاء کے بعد صحابہ کرام میں سب سے بڑے فقیہ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں قرآن کی جو سورت بھی نازل ہوئی ، میں اس کے بارے میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی اور کس کے بارے میں نازل ہوئی اور اگر مجھ سے زیادہ کوئی عالم قرآن دریافت ہوتا جس تک اونٹوں کے ذریعے رسائی ہو سکے تو میں اس کے پاس حاضر ہوتا۔
کیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جن کو نبی نے باب العلم قرار دیا ہے حافظ نہیں تھے ، بلاشبہہ وہ اور ان علاوہ بہت سے صحابہ کرام حافظ تھے۔ وسیم رضوی نے چار حفاظ والی حدیث کو غلط طریقے سے پیش کیا ہے اس میں صرف قبیلہ خزرج کے چار حفاظ کا ذکر ہے۔
مولانا عالمگیر علیمی (اسلامک اسکالر) نے کہا کہ قرآن انسانیت کا دستور ہے، ہمارا اس کے ایک ایک حرف پر ایمان ہے، اس کی حفاظت رب کائنات نے اپنے ذمہ لی ہے، اس لیے قرآن پاک پر اعتراض کرنے سے پہلے اپنی عقل کا چیک اپ کرا لینا چاہیے، کوئی مجنون ہی ایسی باتیں کرے گا.
جناب عرفان برکاتی (شعبہ مطالعہ حدیث البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ ) نے بتایا، جیسا کہ وسیم رضوی نے کہتا ہے کہ اللہ ارحم الراحمین ہے وہ جہاد کا حکم کیسے دے سکتا ہے لہٰذا یہ 26 آیتیں اللّٰہ نے نازل نہیں کیں بلکہ شروع کے 3 خلیفہ حضرت ابو بکر، حضرت عمر و حضرت عثمان نے یہ آیتیں اپنی طاقت کا استعمال کرنے کے لیے بعد میں قرآن میں شامل کر دیں۔
یہاں وسیم رضوی کا الزام اسلام کے شروع دور کے 3 خلیفہ پر لگایا گیا اور کیونکہ اس کے نزدیک اسلام کے چوتھے خلیفہ یعنی حضرت علی نے ایسا کام نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کی راہ اپنائی۔
تو وسیم رضوی کی اس بکواس کا جواب یہ ہے کہ اگر شروع کے 3 خلیفہ نے اپنی جانب سے قرآن میں کچھ ملایا ہوتا تو اسلام کے چوتھے خلیفہ یعنی حضرت علی نے ضرور ان ملائی ہوئی آیتوں کو اپنے دور میں نکال دیا ہوتا۔ لیکن حضرت علی نے ایسا کچھ نہیں کیا اور تاریخ میں بھی اسکا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آج جو قرآن ہمارے سامنے ہے یہ ویسا ہی ہے جیسا اللّٰہ نے اسے نازل کیا تھا۔ اس لیے وسیم رضوی جھوٹا ہے اور قرآن مجید اللہ پاک کا سچا کلام ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: بیشک ہم نے اسے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں.
اس نشست میں سید محمد امان قادری، (ڈائریکٹر اے بی آئی آر ٹی آئی،)، سید مصطفیٰ علی قادری ،علی گڑھ،ڈاکٹر سید نور عالم مصباحی، ڈاکٹر محمد سلمان رضا علیمی مولانا شمشاد اجمل علی گڑھ، مولانا عالمگیر علیمی،مولانا ساجد نصیری،مولانا عارف رضا نعمانی، حافظ محمد جاوید (خطیب وامام زینب مسجد مہیش پور) جناب عرفان برکاتی خاص طور پر موجود رہے، اور حضرت امان میاں کی دعاؤں پر نشست کا اختتام ہوا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button