سیاست و حالات حاضرہمذہبی مضامین

قرآن کریم پر فرقہ پرستوں کے اعتراضات کا تاریخی پس منظر

کیا ہے ملعون وسیم رضوی کا سعودی کنکشن؟؟

سعودی حکمرانوں کو زیر کرنے کے بعد یہود و نصاری کا رخ اب ہندوستان کی جانب تو نہیں؟؟

ترتیب و تخریج: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں

قرآن حکیم کی جن 24 آیات کا انتخاب کرکے سنگھ پریوار کا فکری پروردہ وسیم رضوی واویلا مچا رہا ہے اسی انداز کی حرکت تین دہائیوں قبل سلمان رشدی نے بھی کی تھی اور برطانیہ و ہندوپاک و ایران وغیرہ میں اس کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا۔ اپنی رسوائے زمانہ کتاب "شیطانی کلمات” میں اس نے اسلام و قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بکواس کرکے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کی تھی۔ اسلام دشمن عناصر نے اس شیطان کی بھی بڑی حوصلہ افزائی و پذیرائی کی تھی لیکن سب مل کر بھی آج تک اسلام اور قرآن کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور نہ آئندہ کچھ بگاڑ سکیں گے۔
گذشتہ کئی دہائیوں سے وشو ہندو پریشد کے دفاتر سے ایک کتابچہ کی بڑے پیمانے پر اشاعت ہوتی رہی ہے جس کو ہندو رائٹرز فورم نئی دہلی نے مرتب کرکے طبع کیا ہے۔ اس کتاب میں 24 آیات قرآنی کو نشانہ بنایا گیا ہے ان آیات کو ہنگامہ دہشت و لوٹ مار کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور انہیں قرآن سے حذف کرنے کا مطالبہ سنگھ پریوار اور اس کے گروپوں کی طرف سے سے کیا جاتا رہا ہے۔ یوپی شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کی حالیہ شرانگیزی اور سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرنا بھی سنگھ پریوار کی اسی سازش کا ایک حصہ ہے۔
کٹر ہندو فرقہ پرست وچار دھارا کی یہ کوئی پہلی شرارت نہیں، سن عیسوی 1875 میں آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی نے "ستیارتھ پرکاش” نامی کتاب لکھ کر قرآن کی بعض آیات کے خلاف زہرافشانی کی تھی اور سطحی اعتراض کرتے ہوئے انہیں فتنہ و فساد کا محرک قرار دیا تھا۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ سن عیسوی 85 / 1984ء میں صوبہ اترپردیش میں بڑی منصوبہ بندی اور سرگرمی کے ساتھ سنگھ پریوار، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل وغیرہ نے رام جنم بھومی تحریک چلائی تھی، اسی زمانہ میں کلکتہ ہائی کورٹ کے اندر قرآن کے خلاف ایک مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا جسے لکھنئو کورٹ نے نہ صرف خارج کردیا تھا بلکہ مسلمانوں کے احتجاج پر عرضی داخل کرنے والوں پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ آر ایس ایس کے ہندی ترجمان ہفت روزہ پنج جنیہ نئی دہلی میں بھی اسی دور میں قرآن کے خلاف ایک اشتعال انگیز مضمون شائع ہوا تھا۔ گویا لگ بھگ ڈیڑھ پونے دو سو سال پہلے نفرت کے جو بیج بوئے گئے تھے وہ تناور درخت کی شکل میں ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ پوری ہندوستانی سیاست اس سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ سماج میں تعصب و عناد کی ہوا چلتی رہی ہے اور آج تک پورا ملک اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ اب ماحول کو مزید گرم کرنے کے لیے سنگھ پریوار نے نام نہاد مسلمانوں کے ذریعے کچھ برسوں سے قرآن کو اپنا نشانہ بنانا شروع کیا ہے کہ اس کے اندر جہاد و قتال کا حکم ہے۔ اور فتنہ و فساد کی اسی قرآن سے مسلمانوں کو ترغیب ملتی ہے۔ لہذا جن آیات میں ایسے احکام ہیں انہیں خارج کیا جانا چاہیے۔ کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ کر مسلمانوں کو الجھائے رکھنا، ان کا وقت اور صلاحیت داؤ پر لگائے رکھنا، انہیں مشتعل کرتے رہنا، انہیں فسادی جھگڑالو اور ملک دشمن قرار دیتے رہنا، سنگھ پریوار کا نصب العین ہے۔ اور اس کے لیڈر ہر شب و روز اسلام دشمنی و مسلم دشمنی کے بہانے تلاش کر کے مسلمانوں کو ذہنی و فکری اذیت پہنچا کر اور ان کی حیثیت کو مجروح کرکے بڑی سنگدلی کے ساتھ تماشا دیکھتے اور راحت محسوس کرتے رہتے ہیں۔
ہندو مہا سبھا اپنے سن قیام 1901ء اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اپنے سن قیام 1925ء سے اپنی اسی روش پر گامزن ہیں۔ انکی راشٹریتا و بھارتیتا کو اسی سے سکون ملتا ہے۔ مسلمانوں کو بےاعتبار و خوار کرنا اور انہیں غیر ملکی سمجھنا ان سب کی فکری و نظریاتی تاریخ کی اساس اور خشتِ اول ہے۔ چنانچہ ویر ساورکر کا تربیت یافتہ نمائندہ گولوالکر اپنی کتاب بنچ آف تھوٹس میں لکھتا ہے:
برطانوی سامراج کے خلاف ہماری جنگ آزادی محض اینٹی برٹش ازم یا برٹش مخالف تحریک تھی جو کسی قومی تصور پر مبنی نہیں تھی۔ ہندوستان میں قدیم ہندو قوم موجود تھی جس کے ساتھ یہودی اور پارسی مہمان قومیں اور مسلم و عیسائی حملہ آور فرقے موجود تھے۔ ان سب فرقوں میں جذبات کی ایکتا نہیں تھی۔ صرف حالات نے انہیں ایک مشترکہ زمین پر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف لڑنے کے لیے اکٹھا کر دیا تھا۔ ایسی قومیت کا تصور "سرائے تھیوری” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ (بنچ آف تھوٹس از گوالکر)
ہم اور ہماری قومیت (We and Our Nation) نامی اپنی کتاب میں یہی گوالکر لکھتا ہے کہ: کوئی غیر ہندو صرف اس شرط پر ہندوستان میں رہ سکتا ہے کہ وہ ہندوؤں کا فرماں بردار بن کر رہے، کوئی رعایت نہ چاہے، نہ کسی طرح کے حقوق کا مطالبہ کرے، یہاں تک کہ بنیادی شہری حقوق کا بھی نہیں۔ اس طرح مسلمانوں اور عیسائیوں کو پوری طرح ہندوؤں کے رحم و کرم پر رہنا چاہیے۔

ہندوتوا، ہندو سنسکرتی، کلچرل نیشنل ازم اور ہندو راشٹر کے علمبردار ہندوستان کے سبھی طبقات کو محب وطن اور ہندو سمجھتے ہیں اور مسلمانوں و عیسائیوں کو حملہ آور قرار دے کر انہیں ہمیشہ شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں کا وجود انتہا پسند عناصر کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ان کی خواہش و سازش و کوشش ہے کہ مسلمان اپنی تہذیب و تشخص سے دستبردار ہو کر ہمارے اندر ضم ہو جائیں، یا پھر ہمارے تابعِ فرمان ہو کر رہیں اور ہمارے سامنے سر اٹھا کر جینے کی جرات نہ دکھائیں۔ کبھی مسجد، کبھی اذان، کبھی مدرسہ اور کبھی قرآن و مسلمان پر حملہ کرتے رہنے اور ان کی وفاداریء وطن کو چیلنج کرنے کے پیچھے یہی عزائم و مقاصد کار فرما ہیں اور اسی کے لئے کبھی فساد، کبھی لالچ، کبھی لَو جہاد، کبھی کچھ تو کبھی کچھ کرتے رہنے میں سرگرداں و غلطاں و پیچاں رہتے ہیں۔
کچھ برسوں قبل آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک، کے ایس سدرشن نے بھی گنٹور آندھراپردیش کے تین روزہ اجلاس میں مانگ کی تھی کہ "مصر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک میں چلنے والے مدارس کے نصاب سے قرآن کی وہ چند آیتیں حذف کردی جائیں جو دیگر فرقوں کے ساتھ منافرت بڑھاتی ہیں، جن میں جہاد کا ذکر ہے یا جو کافروں سے دوستی کو منع کرتی ہیں، وہی دراصل جہاد اور طالبان ذہنیت کی ذمہ دار ہیں۔ "جب کہ مصر میں یا دنیا کے کسی حصے میں کسی ایک بھی قرآنی آیت کو حذف کیے جانے کی بات بالکل بے بنیاد اور سنگھ پریوار کا گھڑا ہوا جھوٹ تھا۔

حالیہ دنوں ایک برائی جو مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ہوسکتی ہے وہ سعودی عرب سے اُٹھی ہے اور اس کا محرک موجودہ شہزادہ محمد بن سلمان ہے، جس نے یہودیوں کے مطالبے پر اپنے ملک کے تعلیمی نصاب سے قرآن مجید کی اُن آیات کو ہٹا دیا ہے جن میں یہودیوں اور عیسائیوں کی مذمت اور اُن کی برُی خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔ اور یہ سعودی عرب کے حکمرانوں کا ایسا خوفناک اور شرمناک پہلو ہے جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے شدید دکھ اور تکلیف کا باعث ہے۔ اپنی بادشاہت، اپنی عیاشیوں کو بچانے کے لیے سعودی عرب حکمراں خصوصاً موجودہ حاکم محمد بن سلمان ایسی ایسی اسلام مخالف خرافات کو اس مقدس سرزمین پر جنم دے رہا ہے جس کے شدید نقصانات مستقبل میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو برداشت کرنے پڑیں گے۔ اس پر ان شاء اللہ تفصیلی گفتگو کسی اور مضمون میں کی جائے گی، برسرِ مطلب یہ کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ ملعون وسیم رضوی کے پیچھے آر ایس ایس کے ساتھ اسرائیلی ذہنیت کارفرما ہو جس نے محمد بن سلمان کے ذریعہ وہاں کے نصاب سے یہود مخالف آیات کو ہٹوانے کے بعد اب آیات جہاد کو ہندوستان میں نشانہ بنایا ہے۔ لیکن اسرائیل اور یہود و ہنود نیز ملعون وسیم جیسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا بہت بڑی ہے اور سعودی بادشاہ یہود و نصاری کے فکری غلام بن بھی جائیں تو بعید نہیں کہ اللہ رب العزت اپنے مقدس کلام کی، اپنے مقدس مذہب کی حفاظت کے لیے کمزور مسلمانوں سے ہی کام لے لے جیسا کہ ننھی ابابیلوں کے ذریعہ پہاڑ جیسے ہاتھیوں کی فوج کا خاتمہ ہوا تھا۔
لہذا اسلام مخالف قوتوں کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام اور قرآن و شریعت کو پھونکوں سے بجھایا نہیں جاسکتا، سنگھ پریوار اپنے اندر کی سماجی نابرابری چھوت چھات اور ہزاروں سال سے شودروں و دلتوں کے استحصال سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اسلام اور قرآن کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ اس کی یہ چال مسلمانان ہند اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ دلتوں، پچھڑوں اور ادیباسیوں کی ابھرتی ہوئی سیاسی قوت اور ان کی بیداری کو اب دبایا نہیں جاسکتا۔ انہیں ان کا دستوری و انسانی حق ملنا چاہیے۔ اسلام اور قرآن نے عدل و انصاف اور انسانی مساوات کا جو درس دیا ہے، اس سے روشنی حاصل کرکے ہندوستان کو جنت نشان بنایا جانا چاہیے۔ قرآن سے کچھ نکالنے کا نہیں بلکہ ظلم و ناانصافی کو ہندوستان سے نکالنے کا وقت آچکا ہے۔ یہی وقت کی آواز ہے، یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی قرآن کا پیغام ہے۔
(درج بالا مضمون علامہ یٰسین اختر مصباحی کی کتاب "آیاتِ جہاد کا قرآنی مفہوم” سے مستفاد ہے۔ مزید معلومات کے لیے "ہندوتوا اور ہندوستانی مسلمان” اور "سنگھ پریوار کا 21 نکاتی فارمولہ” نامی کتابوں کا مطالعہ کریں۔)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button