مذہبی مضامین

قرآن تنزیل ہے تحریف و تنسیخ کی جس میں کچھ بھی گنجائش نہیں

تحریر: محمد امیرحسن امجدی رضوی
الجامعۃ الصابریہ الرضویہ، پریم نگر نگرہ جھانسی یوپی

بانیِ اسلام پیغمبرِ اعظم محمد عربی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نزولِ قرآن کے وقت سے لیکر ابتک تقریباً 1400/سو سال کا طویل عرصہ گزرچکا مگر اس وقت سے لیکر اب تک قرآن مقدس کو مٹانے،اسے بدلنے تحریف کرنے اور اس کے بالمقابل سورہ وآیت لانے جیسے نہ جانے کتنے مسائل کھڑے ہوئے، مرورِ دہر کے ساتھ قرآن مقدس کے حوالے سے بیشمار نت نئے فتنے وجود پزیر ہوئے اور اپنی تمام تر توانائیاں اور کوششیں صرف کر ڈالیں مگر اپنے اس ناپاک اور مذموم منصوبے میں کبھی کامیاب نہ ہوئے ،قرآن عظیم کو مٹانا اسے بدلنا اور اس کے مقابل آیت لانا تو دور کی بات ان کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی قرآن کا زبر زیر شد مد پیش حتیٰ کہ اس کے ایک نقطہ میں بھی ذرہ برابر فرق نہ آیا ،قرآن جیسا من جانب اللہ نازل ہوا تھا اب تک اسی اپنی صورتِ اصلی و حقیقی میں موجود ہے، یہ ہے اس کتاب الہی کا اعجاز’ جو اپنی صورت معنویت ہر لحاظ سے ایک کھلا معجزہ ہے۔
کیوں کہ قرآن یہ کوئی انسانی دنیاوی کتاب نہیں،کہ حسبِ منشاء جب جیسا چاہو رد و بدل کردو بلکہ یہ آسمانی آفاقی الہامی اور کتاب الہی ہے جس میں تحریف و تبدیل ،ترمیم و تنسیخ کی کچھ بھی گنجائش نہیں۔ مختلف مقامات پر متعدد طرق سے قرآن کریم میں انہیں جو کہ اسےکلامِ انسانی بتاتے یا اسے شعر و شاعریِ محض قرار دیتے یا اس کے بالمقابل سور و آیات پیش کرنے کا دعویٰ کرتے تھے کھلے طور پر انہیں چیلنج کیا گیا مثلاً سورۂ ہود میں فرمایا: "فَأْتُواْ بِعَشْرِ سُوَرٍۢ مِّثْلِهِ،، اس کے مثل دس سورت ہی لے آؤ۔
اور اس سے منکرین قرآن جب عاجز رہے تو اور آسان کردیا گیا کہ دس نہ سہی کوئی ایک ہی سورت سورۂ قرآن کے بالمقابل لے آؤ چنانچہ فرمایا گیا :”فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ ،،اور اسی کے تحت تفسیر میں فرمایا گیا:” فَأْتُواْ بِآیة،، اور یہ بھی” ولو آیة بمثلہ،اور وہ جو بزعمِ خویش خود کو بڑا حکیم و دانا، عاقل و دانشور سمجھتے تھے جنہیں اپنی عربی دانی اور فہم و فراست پر بہت ناز تھا جب ایک آیت بھی قرآن کے روبرو پیش کرنے سے عاجز رہے تو اخیر میں کلی طور پر قرآنِ کریم کے کامل اعجاز کو بیان کرتے ہوئے مکمّل سد باب کردیاگیا اور واضح طور پر فرمادیا گیا:” لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ،،(السورة الإسراء: 88) یعنی اگر انسان و جنات سب کے سب اس بات پر جمع ہوجائیں کہ وہ اس قرآن کے مثل لے آئیں گے تو اس کے مثل کبھی نہ لا سکیں گے۔یہ سچ ہے کہ قرآنِ مقدس معجز (اعجاز والا ،عاجز کرنے والا) ہے اپنے طرز و اسلوب، ترتیب و تدریج، معانی و مفاہیم، تشریع و احکام، تعظیم و آداب، مواعظ و حسنات، قصص و امثال، تبیین و تعبیر، قوت و عظمت اور جلالت کے،حتیٰ کہ عرفاء عرب جو تفہیم قول(قرآن)رکھتے تھے فرمایا:جیساکہ قرآن میں ذکر ہے:”فقال ان ھذا الا سحر یؤثر،،یہ نہیں ہے مگر جادو جو اثر انداز ہوتاہے ۔یہ ایسی لاریب کتاب ہے جو شک و شبہ سے بالاتر ہے ادنیٰ شک و شائبہ بھی اس میں ایمان کو برباد اور کفر کو مستلزم کردیتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اول پارۂ قرآن کی ابتدا میں ہی فرمادیا گیا :”ذالک الکتاب لاریب فیہ،، تاکہ قاری ابتدا ہی میں شک و شبہ سے اپنے ذہن و دماغ کو باکل پاک و صاف کرلے۔یہی ماضی قریب2014 یا 2015ءکی بات ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد لعن اللہ تعالیٰ و رسلہ و ملائکتہ و الناس اجمعیننے کئی سالوں کی مسلسل ناکام کوشش کرنے کے بعد قرآن کریم کا ایک تحریف شدہ ورژن شائع کیا تھا جس میں متعدد مقامات پر قرآن عظیم میں تحریف کی گئی تھی کئی آیات و سور خصوصاً سورۂ اخلاص "قل ھو اللہ احد،، میں غالباً کچھ اس طرح ترمیم کی ناپاک سعی کی تھی کہ "اللہ احد،، کی جگہ” لا احد،، اور اس آگے مردود ملعون نے اپنا نام اس طرح جوڑا تھا”بشار الاسد اللہ الصمد،، معاذاللہ معاذاللہ صد بار معاذ نعوذ باللہ من ذالک۔ مگر جب تحریف شدہ ورژن منظرِ عام پر شائع کرکے اہلِ دنیا کے سامنے پیش کیا تو صرف شام کے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس کی سخت مذمت اور شدید مخالفت کی ، وہ روسیاہ رسوائے زمانہ ہوا اور ہتک آمیز طریقے سے اس کی توہین تذلیل ہوئی ، اجتماعی و انفرادی ہر طور لعنت و ملامت کا شکار ہوا، اور ضرب الہٰی کی ایسی مار لگی کہ اقتدار کی کرسی بھی ملعون کے ہاتھ سے چلی گئی اور قہرِ خداوندی کا شکار ہو کر ہوکر قعرِ مذلت کی انتہائی عمیق کھائی میں جاگرا، دنیا اس کے سامنے تنگ ہوگئی ساری عیش و عشرت، عزت و شہرت خاک میں مل گئی، لعنت کا ایسا طوق گلے کی زینت ہوا کہ جس سے اب کبھی وہ چھٹکارا پا ہی نہیں سکتا۔ اب جب کبھی اس کانام آتاہے لوگ لعنت و ملامت کرتے ہیں ۔ قرآن کریم کا کیا ہوا ؟ کیا اس میں ذرہ برابر بھی حرف آیا؟ نہیں آیا، لیکن بشار الکلب ملعون نے اس سے دونوں جہاں کی رسوائی اپنے نام کرلی۔حالیہ دنوں میں اسی بشار الکلب ملعون کی راہ و روش پر کار بند دولت و شہرت کا بھوکا، عیش و عشرت کا رسیا، شریر النفس، خبیث الاصل، کریہ الوجہ، قبیح المنظر، منحوس، مردود، ملعون، مطعون ، بدنامِ زمانہ، دور کا دجال اعظم ، اور وقت کا شدید ترین کافر لئیم وسیم رضوی نےغبن و گھٹالے میں ملوث قانونی شکنجہ سے خود کو بچانے کی خاطر، حومکت کے رحم و کرم کا بھکاری اپنی ایسی ہی کچھ ناکامیوں کو چھپانے اور کچھ اہلِ اقتدار و سیاست کی خوش خواہی اور محبوبِ نظری کے لئے انتہائی مذموم حرکت کرتےہوئے قرآن مقدسہ کی آیاتِ جہاد کی 26/آیتوں کے حذف و خارج کرنے کے حوالہ سے جس طرح اپنی دریدہ دہنی، فتور ذہنی، کج فہمی ، دیوالیہ پن، اور حماقت و سفاہت کا م ظا ہرہ کیا ہے اس سے سوائے مسلمانوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچانے اور ان کے دلی جزبات کو مجروح کرنے اور خود کو رسوائے زمانہ کرنے کے سوا اسے کچھ حاصل ہوا ؟ نہیں ہوا؟ عند اللہ و عند الناس دونوں مردود و ملعون ہوا، دنیا والوں کی نظر میں ذلیل و خوار ہوا، دوست احباب، رشتہ دار، ماں بہن بھائ بیوی اور بچے سب نے دھتکار دیا، گاؤں گھر سب سے گیا، خودکشی کرنے کارونا رونے لگ گیا، ع آگے آگے دیکھئے ہوتاہے کیا۔۔۔ یہی انجام ہوتاہے کلامِ الہٰی سے الجھنے اور خدا کی شان و قدرت کو چیلنج کرنے کا، دھوبی کے کتے سے بھی بدتر ہوگیا، کہیں کا نہیں رہا۔شعر.نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا رہا
اس کے اس پاگلپن سے قرآن کریم پر کچھ حرف و فرق نہ آئیگا، مگر ملعون نے اپنے اس بدتر مذموم فعل سے اپنا ناری ہونا، شدید ترین کافر ہونا اور دشمنِ اسلام ہونا صاف ظاہر کردیا، اللہ قہار و جبار کے قہر و غضب کا مستحق ضرور ہوگیا ، قرآن کلامِ الہٰی ہے جس کا محافظ و نگہبان خود خدائے حفیظ و حنان ہے چنانچہ خود فرماتاہے : ” إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ،، ہم نے ہی قرآن کریم کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔یعنی تحریف و تبدیل، زیادتی و کمی، اختلاف و تناقض، ضیاع و زوال، فتنہ و فساد گرجیکہ ہر طور سے ہم قرآنِ مقدس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ یو۔کے امریکہ میں ساحلِ سمندر شراب و کباب و شباب اور رقص و سردو کا ایک بہت بڑا جلسہ منعقد تھا جس میں ریاستہائے امریکہ کے بڑے بڑے عقلا دانشوران اور بھی بہت سارے اربابِ سائنس و سیاست موجود تھے ڈھول ڈھماکے، ناچ گانے اور شور و تماشہ سے گویا پورا آسمان سر پر اٹھائے ہوئے تھے رقص و سردود کا بازار خوب گرم تھا ادھورے لباس میں ملبوس کنواری دوشیزائیں شراب کا پیالہ ہاتھ میں لئے ناچتی تھرکتی اور مدمست ہوکر مستی میں جھومتی اور گانے میں مصروف تھیں عین اسی وقت کسی بدبخت نے قرآنِ عظیم کا کچھ نسخہ لاکر ان تھرکنے والی دوشیزاؤں کے ہاتھوں میں تھما دیا اب کیا تھا ان بے غیرت فاحشہ لڑکیوں نے قرآنِ مقدس کے نسخوں کو زمین پر ڈال دیا اور اس پر پاؤں رکھ کر ناچنے روندنے اور کچلنے لگیں ساتھ یہ کہنے لگیں کہ کہاں گیا اس کا محافظ؟ کہاں گیا اس کا بچانے والا ؟ جیساکہ مسلمانوں کام دعویٰ ہے کہ ان کا اللہ اس کی حفاظت کرنے والا ہے تو وہ کہاں ہے ؟آکر اسےبچائے ،اللہ اکبر ان کا اتنا کہنا تھا کہ اتنا بھیانک سمندری طوفان آیا تھا کہ امریکہ کی تاریخ میں آج تک اتنا بھیانک طوفان کبھی آیا ہی نہیں،جتنے بھی لوگ اس جشن میں شریک تھے ان میں ایک بھی زندہ نہ بچ سکا، سب کے سب بھیانک طوفان جو در حقیقت قہرِ الہی تھا شکار ہو کر ہلاک ہوگئے، تو اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کی بے حرمتی کرنے والوں کو عبرتناک موت دے کر اس کی حفاظت فرمائی جو بعد والوں خصوصاً کلام اللہ کو للکارنے اور چیلنج کرنے والوں کے درس نشان عبرت بن گیا اور کھل یہ واضح ہوگیا کہ قرآنِ کریم کو نہ تو کبھی کوئی مٹا سکتا ہے اور نہ کبھی اس میں کچھ ذکر و حذف اور کمی بیشی اپنی طرف سے کرسکتاہے ۔لہذا وسیم لئیم سقیم مردود کے اس فعلِ مذموم کی ہم سخت مذمت کرتے اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے شخص کو فوراً گرفتار کرکے کڑی سے کڑی سزا دی جائے جو ہندوستان کی سالمیت اور امن و کے لئے ایک ناسور مہلک جرثومہ اور بڑا خطرہ ہے ، تاکہ پھر کوئی اس طرح کا گھناؤنا قدم نہ اٹھا سکے۔اللہ تعالیٰ کام فرمان نہ بدلے گا۔
تم لاکھ کرو کوشش قرآن نہ بدلے گا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button