کالم گوشہ خواتین

افسانہ: انسانی دوست

افسانہ نگار: گل گلشن، ممبئی

میں نے زندگی میں بہت سی تلخ حقیقتوں کا سامنا کیا تھا لیکن یہ تین گھنٹے کا سفر مجھ پر عذاب کی طرح گزرا کیونکہ میرا محسن میرا غم گسار میری زندگی اور میری کامیابیوں میں ہر قدم پر ساتھ دینے والا شخص آج اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔میں نے ائیرپورٹ سے نکل کر ٹیکسی لی اور مطلوبہ ہسپتال پہنچی۔میں ٹیکسی سے اتر کر عجلت میں ہسپتال کے اس کمرے میں پہنچی۔جہاں وہ کمزور سا جسم والا انسانی دوست اپنی بچی ہوئی سانسیں لے رہا تھا۔نام تو ان کا ابو ذر تھا لیکن لوگ انھیں انسانی دوست کہا کرتے تھے کیونکہ وہ شخص نہ صرف لوگوں کی مدد کرتا تھا بلکہ غریبوں کے لئے مسیحا تھا اور ضرورت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دیرینہ خواہشات بھی پوری کرتا تھا اور بدلے میں صرف دعاؤں کا طالب تھا۔میں بھی ان ہی ضرورتمندوں میں سے ایک تھی ۔بہت غریب پریوار سے تھی اور چار چھوٹے بہن بھائیوں کی زمیداری بھی مجھ پر تھی۔اور نوکری کے لئے سفارش اور پیسے لگتے تھے اور دونوں ہی میرے پاس نہیں تھے۔اس وقت ابو ذر صاحب نے ہی میری مدد کی تھی حالانکہ میں انھیں آج پہلی بار دیکھ رہی تھی۔انہوں نے مجھے کالج کی کسی تقریب میں تقریر کرتے سنا تھا اور وہ ہمارے اردو کے پروفیسر عباس سر کے دوست تھے۔چونکہ میں ایک ہونہار طالبہ تھی تو سبھی پروفیسر مجھ سے خوش رہا کرتے تھے عباس سر نے میرا ذکر کسی وقت کیا تھا ابو ذر صاحب سے شاید اسی وقت انہوں نے میرے خوابوں کو تعبیر دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور پھر نہ صرف انہوں نے مجھے نوکری دلائی بلکہ ہر ممکن مدد کی اور انہیں کی وجہ سے میرے گھر کے حالات بہتر ہوئے۔میرے بہن بھائی پڑھ لکھ سکے۔ مجھ پر ان کے بےشمار احسانات تھے۔جب کہ اکثر میری بچپن کی دوست ندا کہا کرتی تھی کہ یہ مردوں کی دنیا ہے یہاں بنا کسی مطلب کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا۔اور واقعی ہم اس دور میں رہتے ہیں جہاں برائی پر نہیں بھلائی پر شک زیادہ ہوتا ہے ۔لیکن اس کو اس بات کا جواب اس روز ملا جب انہوں نے میرے گھر کچھ لوگوں کو بھیجا اور میری شادی کرائی۔لیکن ان ہی دنوں انھیں ملک سے باہر جانا پڑا اور یوں کبھی ملاقات نہیں ہو پایی اور اب جب کہ وہ ایک لمبے عرصے بعد وطن واپس آئے تو اس حال میں۔ شاید لوگوں کے درد کا بوجھ اتنا بڑھ گیا تھا کہ دل برداشت نہ کر سکا کیونکہ وطن سے دور رہنے پر بھی انہوں نے اپنی ذمداریاں انسانی دوست کی طرح مکمل کی تھیں۔میں ہسپتال کے اس یخ بستہ کمرے میں کھڑی مسلسل انھیں دیکھ رہی تھی اور آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے۔کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کیونکہ میں اپنے محسن کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔
اچانک نرس نے مجھ سے پوچھا۔”کیا آپ ہی مس گلناز ہیں” میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”یہ کب سے آپ ہی کا نام لے رہے تھے”نرس نے کہتے ہوئے انھیں جگایا۔میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔انہوں نے چہرہ گھما کر میری جانب دیکھا۔اور جیسے ان کی آنکھوں میں چمک آ گئی تھی۔”اچھا ہوا تم آ گئی میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔”انہوں نے کہتے ہوئے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔”میں نے کبھی بھی سوچا نہیں تھا کہ مجھے اس طرح تمہیں بلانا پڑے گا لیکن وقت بہت کم ہے اور امید تمہارے علاوہ کسی سے نہیں۔میں نے کبھی کسی کے لئے کچھ نہیں کیا جو بھی کیا۔اپنے دل کی خوشی اور سکون کے لئے کیا۔اور میرے رب نے مجھے اس کام کے لئے چنا یہ مالک کا کرم ہے۔لیکن زندگی میں ابھی بہت کام باقی تھے۔اور موت نے دستک دے دی۔میں نے لوگوں کو بہت نزدیک سے دیکھا اور جانا ہے۔کسی اور کے لئے جینے کا جذبہ ہر کسی میں نہیں ہوتا لیکن تم میں وہ جذبہ ہے۔یہ میرے ذمہ کچھ کام ہیں انھیں کو پورا کرنے کی غرض سے میں باہر گیا تھا تاکہ زیادہ پیسوں سے زیادہ لوگوں کی مدد ہو پائے اور آج یہ کام میں تمہیں سونپ رہا ہوں۔ساتھ ہی اس میں ایک چیک ہے جس سے یہ سب کام مکمل ہو جایں گے۔تمہیں بس کچھ وقت دینا ہوگا۔کیا تم میری مدد کروگی۔”اس انسان دوست نے ایک فائل مجھے دیتے ہوئے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔اور میں جو پورے راستے یہ سوچ رہی تھی کہ کاش میں ان کے لئے کچھ کر پاؤں۔میرے رب نے مجھے موقع عطاء کیا۔میں نے ان کو یقین دلایا کہ ان کے سارے ادھورے کام پورے کروں گی۔یہ سن کر ان کی آنکھوں میں آنسوں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور میں ان کے بچوں جیسی معصوم مسکراہٹ کو دیکھ ہی رہی تھی کہ میری نظر مانیٹر پر گئی ۔جہاں زندگی کی ٹیڑھی میڑھی لائن نے اپنا سیدھا راستہ چن لیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے