نظم

یہ ہے شبِ برات

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان

ہے رحمتِ الٰہی سے لبریز ، کائنات
یہ ہے شبِ برات
بندوں کی سَمت ، رب کا خصوصی ہے التفات
یہ ہے شبِ برات

کھولے ہیں رب تعالیٰ نے عفو و کرم کے باب
سب توبہ کرنے والوں کی دوزخ سے ہے نجات
یہ ہے شبِ برات

آواز دے رہی ہے ہمیں رحمتِ خدا
آؤ قبول ہوں گے تمہارے مطالبات
یہ ہے شبِ برات

تم سجدہ کر کے مانگو پریشانیوں کا حل
ٹل جائیں گی دعا و عبادت سے مشکلات
یہ ہے شبِ برات

"أَمرٍ حَکیم” سے یہ اشارہ ملا ہمیں
طے ہوں گے سال بھر کے اہم سب مقدَّمات
یہ ہے شبِ برات

قرآں میں اِس کو "لَیلِ مبارک” کہا گیا
اتری ہوئ زمیں پہ فرشتوں کی ہے برات
یہ ہے شبِ برات

سرکار کی عطا سے دوبالا ہے اِس کا فیض
پائ ہے اِس نے جانِ جہاں سے نئ حیات
یہ ہے شبِ برات

رو رو کے گِڑ گِڑا کے معافی طلب کرو
سلجھیں گے ایک لمحے میں بگڑے معاملات
یہ ہے شبِ برات

آقا بَقِیعِ پاک گیے "تِرمِذِی” میں ہے
بہرِ دعا قبور پہ جائیں ہم آج رات
یہ ہے شبِ برات

رب کو مناؤ اشکِ ندامت لیے ہوئے
ہوں گے بحال، رب سے تمہارے تعلقات
یہ ہے شبِ برات

کثرت کریں نوافل و ذکر و درود کی
ہم پر خداے پاک کی ہوں گی نوازشات
یہ ہے شبِ برات

سب چھوڑ کر فریدی چلو بارگاہِ رب
تم بھی سمیٹو فضلِ خدا کی تجلیات
یہ ہے شبِ برات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے