مذہبی مضامین

شبِ برات کی حقیقت کیا ہے؟

از قلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری شل پھاٹا ممبرا

اللہ تعالیٰ کا انسان کو مبعوث کرنے کا مقصود بندگی ہے ۔ مگر ہم اپنے مقصدِ تخلیق کو دنیاوی مصروفیات اور مادی محبت کی وجہ سے فراموش کرچکے ہیں ۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی طرف عدمِ توجہ ۔
عبادات ۔ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی محبت بھی ہمارے سینوں سے نکلتی جارہی ہے ۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اپنی اصل کھودینے اوراور اپنے مقصد کو بھول جانے کا احساس بھی ہمارے اندر موجود نہیں ۔ احساس کا خاتمہ اور قدروقیمت سے لاعلمی آہستہ آہستہ انسان کو گمراہی کی طرف مائل کرتی چلی جاتی ہے ۔ اس صورتِ حال میں خاص ایام کا انعقاد احساس کو زندہ کرنے کا باعث بنتا ہے تاکہ احکامات الھیہ کو بجالایا جائے ۔ ہم اگر آج دنیاوی معاملات میں کچھ مخصوص دنوں کو دوسرے دنوں پر زیادہ فوقیت دیتے ہیں ۔ ان دنوں کو تزک واحتشام اور دھوم دھام سے مناتے ہیں ۔ اس کے پس پردہ بھی یہی مقاصد کار فرما ہوتے ہیں ۔
اگر ہوں یومِ مزدور ۔ یومِ تکبیر ۔ اور یومِ جمہوریہ مناتے ہیں تو محض ان کوcelebrate کرنا ہی مقصد نہیں ہوتا بلکہ وہ ایام ہمیں قربانیوں کی یاد دلاتے ہیں ۔ اپنے مقاصد کو ہمیشہ ذہن میں زندہ رکھنے کے لئے مہمیز کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ بقاء اور ترقی کے لئے اپنے کردار کو مزید نکھارنے کو دعوت دیتے ہیں ۔
اسی طرح اسلامی دنوں میں سے چند دنوں اور راتوں کو بھی اس لئے فضیلت دی ہے کہ یہ دن اور راتیں دوسرے دن اور راتوں سےمنفرد مقام رکھتے ہیں ۔ یہ دن اور رات ہمیں جھنجھوڑتے ہیں اور ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کا احساس دلاتے ہوئے اس منصب کےمطابق کردار ادا کرنے کی طرف راغب کرتے ہیں ۔
شبِ برات بھی ان خاص ایام کے قبیل سے تعلق رکھنے والی ایک اہم رات ہے ۔ جس میں احساسِ زیاں کو اجاگر کرنا مقصود ہے ۔ اس لئے کہ قرآن کریم کا الوہی پیغام ۔ لعلکم یتذکرون ۔ لعلکم یتفکرون ۔ کی صورت میں ہروقت بلند ہورہا ہے ۔ براة کے معنی ہیں نجات ۔ اور شبِ برات کا معنی ہے گناہوں سے نجات کی رات ۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے ۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ وگریہ وزاری کی رات ہے ۔ ربّ کریم سے تجدیدِ عہد کی رات ہے ۔
شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے ۔ یہ رات اللّٰہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے ۔
اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجودگناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کا موجب بن سکتا ہے ۔ اللّٰہ رب العزّت نے ارشاد فرمایا ۔
حم والکتب المبین انآ انزلنہ فی لیلة مبرکة انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم ۔
حامیم ( حقیقی معنی اللّٰہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے ہیں ) اس روشن کتاب کی قسم بےشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے ۔ بےشک ہم ڈر سنانے والے ہیں ۔ اس (رات ) میں ہرحکمت والے کام کا جدا جدا فیصلہ کر دیا جاتا ہے ۔ ( سورہ الدخان )
جاراللہ ابو قاسم زمخشری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ ۔
نصف شعبان کی رات کے چار نام ہیں ۔
( 1) لیلة المبارکہ ۔
( 2) لیلة البراة ۔
( 3 ) لیلة الصک ۔
( 4 ) لیلة الرحمة ۔
اور کہا گیا ہے کہ اس کو شبِ برات اور شبِ صک اس لئے کہتے ہیں کہ بندار یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں وہ پیمانہ ہو کہ جس سے ذمیوں سے پورا خراج لےکر ان کے لئے برات لکھ دیتا ہے ۔ اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں کے لئے بخشش کو پروانہ لکھ دیتا ہے ۔ اس کے اور لیلة القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہوتا ہے ۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ رات پانچ خصوصیتوں کی حامل ہوتی ہے ۔
(1) اس میں ہرکام کا فیصلہ ہوتا ہے ۔
(2) اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے ۔
(3) اس میں رحمت کا نزول ہوتا ہے ۔
(4) اس میں شفاعت کا اہتمام ہوتا ہے ۔
(5) پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اللّٰہ رب العزت کی اس رات میں یہ عادتِ کریمہ ہے کہ اس رات میں آبِ زمزم میں ظاہراً زیادتی فرماتا ہے ۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے تیرہ شعبان کی رات کو اپنی امت کی بخشش کے بارے میں سوال کیا تو آپ کو تیسرا حصہ عطا فرمایا گیا ۔ پھر چودھویں رات کو دعا مانگی تو آپ کو دو تہائی امت عطا فرمائی گئی ۔ پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نےپندرہویں شعبان کی رات کو دعا مانگی تو آپ کو تمام امت سوائے چند نافرمان اشخاص کے آپ کے سپرد کردی گئی ۔ ( تفسیر الکشاب ج 4 – ص 269 ۔ تفسیر سورۃ الدخان )
امام بغوی نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوع روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔
شعبان سے شعبان تک اموات لکھی جاتی ہیں یہاں تک کہ آدمی نکاح کرتا ہے اور اس کے گھر اولاد پیدا ہوتی ہے حالانکہ اس کا نام مردوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے ۔
( تفسیر ابنِ ابی حاتم ۔ ج 10۔ ص 3287 )
امام ابن ابی حاتم نے حضرتِ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اللّٰہ تعالیٰ کے اس قولِ مبارک ۔ فیھا یفرق کل امر حکیم ۔ کے تحت روایت کی ہے ۔ آپ نے فرمایا ۔
ایک سال سے دوسرے سال تک کے امور ( شقاوت وسعادت ) یہ سب کچھ اللّٰہ تعالیٰ کے پاس کتاب میں تحریر ہے اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوتا ۔
( تفسیر ابن ابی حاتم ۔ ج 10 ۔ ص ۔ 3287 )
امام جلال الدین سیوطی تفسیر درمنثور ۔ میں لکھتے ہیں کہ خطیب بغدادی اور ابنِ نجار نے حضرتِ سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ ۔
رسول اکرم ﷺ تمام شعبان کے روزے رکھ کر اس کو رمضان کے ساتھ ملادیتے تھے اور آپ کسی بھی ماہ کے تمام دنوں کے روزے نہ رکھتے تھے سوائے شعبان کے ۔ میں نے عرض کی ۔ یارسول اللّٰہ ﷺ شعبان کا مہینہ آپ کو بڑا پسند ہے کہ آپ اس کے روزے رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ۔
اے عائشہ (رضی اللہ عنہ ا ) کوئی نفس بھی پورے سال میں فوت نہ یں ہوتا مگر اس کی اجل شعبان میں لکھ دی جاتی ہے ۔ تو میں پسند کرتا ہوں کہ جب میری اجل لکھی جائے تو میں اللّٰہ کی عبادت اور عمل صالح میں مصروف ہوں ۔
( تفسیر درمنثور ج 6 ۔ ص ۔ 26 )
امام ابن ماجہ اور امام بہیقی نے شعب الایمان میں حضرتِ مولا علی ( رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔
جب نصفِ شعبان کی رات آئے تو رات کو قیام کرو اور اس کی صبح کو روزہ رکھو کیونکہ اس رات کو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت غروبِ آفتاب سے لےکر آسمانِ دنیا پر آکر پکارتی ہے ۔
ہے کوئی بخشش مانگنے والا ۔ میں اس کو بخش دوں ۔
ہے کوئی رزق مانگنے والا ۔ میں اس کو رزق عطا کردوں ۔
ہےکوئی بیمار جو شفا طلب کرے ۔ کہ میں اس کو شفا دوں ۔
یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے ۔
( سنن ابنِ ماجہ ۔ کتاب ماجآء فی شہر رمضان ۔ باب ماجآء فی لیلة النصف من شعبان )
ابن ابی شیبہ ترمذی ۔ ابنِ ماجہ اور بہیقی نے حضرتِ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی آپ فرماتی ہیں کہ ۔
میں نے حضور نبی رحمت ﷺ کو ایک رات بسترِ استراحت پر نہ پایا تو میں آپ کی جستجو میں نکلی آپ کو بقیع میں اس طرح پایا کہ آپ کا سرمبارک آسمان کی طرف اٹھا ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔
اے عائشہ کیا تمہیں اس بات کا خوف ہوا کہ اللّٰہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا ۔ عرض کیا مجھے یہ خوف نہیں ہے ۔ مگر میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کسی اور زوجہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں ۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا کہ ۔ اللّٰہ ( عزوجل ) آسمانِ دنیا کی طرف پندرہویں شعبان کی شب کو اپنی شان کے مطابق نزول فرماتا ہے ۔ پس قبیلہ نبی کلب ۔ کی بکریوں کے بالوں کی گنتی سے زیادہ اللّٰہ تعالیٰ مخلوق کو بخش دیتا ہے ۔
( جامع ترمذی ۔ کتاب الصوم ۔ باب ماجآء فی لیلة النصف من شعبان )
حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔
نصفِ شعبان کی رات رحمتِ خداوندی آسمانِ دنیا پر نازل ہوتی ہے ۔ پس ہرشخص کو بخش دیا جاتا ہے سوائے مشرک شخص کے یا جس کے دل میں کینہ ہو ۔
(شعب الایمان ۔ صفحہ 26 )
امام بہیقی نے حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور بہت طویل سجدہ کیا ۔ حتیٰ کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ نے انتقال ہوگیا ہے ۔ میں اٹھی اور آپ کے پائے اقدس کا انگوٹھا ہلایا وہ ہلا تو پھر میں لوٹ آئی ۔ جب آپ کے سجدے سے سر اٹھایا اور نماز تمام کی ۔ تو فرمایا ۔ اے عائشہ ۔ اے حمیرا ۔ کیا تم کو یہ گمان ہوگیا تھا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے تم سے زیادتی کی ہے ؟
عرض کیا ۔ نہیں خدا کی قسم ! یا رسول اللہ ﷺ ۔ لیکن آپ کے طویل سجدہ نے مجھے وفات کے خوف میں مبتلا کردیا تھا ۔ فرمایا ; کیا تم جانتی ہو کہ یہ کون سی رات ہے ؟ عرض کیا ۔ اللّٰہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ فرمایا : پندرہویں شعبان کی رات ہے ۔ بےشک اللّٰہ تعالیٰ اس رات میں اپنے بندوں پر ظہور فرماتا ہے ۔ تو توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔ اور رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتا ہے ۔ اور کینہ پروروں کو جیسے وہ تھے ۔ اسی پر رکھتا ہے ۔ ( شعب الایمان ۔ رقم 3835 )
درج بالا تمام اقتباسات اور احادیثِ مبارکہ سے عیاں ہوتا ہے کہ شبِ برات بھٹکے ہوئے اور سرکش لوگوں کے لئے ایک دستک ہے جو آخرت کی زندگی کو بھول کر دنیاوی زندگی کے گورکھ دھندوں میں پوری طرح پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ رات ان کے لئے اپنے رب کی طرف سے بلاوہ ۔ اور اسے منانے کی رات ہے ۔ جب کوئی شخص کماحقہٗ اس رات کو اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کی یاد میں بسر کرتا ہے ۔ تسبیح وتہلیل کرتا ہے ۔ درود وسلام کے گجرے پیش کرتا ہے ۔ گناہوں سے معمور دامن ذکرِ الہٰی سے صاف کرتا ہے ۔ تو یہ رات اس کے لئے بہت سے انعام واکرام لاتی ہے ۔
تقدیریں بدل جاتی ہیں ۔ زندگی کے حالات بدل جاتے ہیں ۔ یہ سب کچھ اس ایک عظیم رات کو اس میں کار فرما روح کے مطابق گزارنے کے ہی بدولت ممکن ہے ۔ قرآن مجید میں ہے ۔
یمحوااللہ مایشآء ویثبتج وعندہ ام الکتاب ۔
اللّٰہ جس ( لکھے ہوئے ) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور ( جسے چاہتا ہے ) ثبت فرمادیتا ہے ۔ اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ ) ہے ۔ ( سورہ رعد )

شبِ برات ہمارے احوال کو بدل دیتی ہے ۔ اگر انسان احسن طور پر اس کے لوازمات پورے کرے تو یہ رات گناہوں کے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اگر اس رات اپنے رب کے حضور ندامت اشک کے آنسو بہائے اور نالہ وفریاد کرے ۔ اپنے صغائر وکبائر گناہوں کے لئے معافی کا خواست گار بنے ۔ تو اس وقت بد حالی ۔ خوشحالی اور تنگی ۔ آسانی میں بدل جاتی ہے ۔ بنی اسرائیل کے ایک بے حد گناہگار شخص نے صرف توبہ کا ارادہ کیا ۔ ابھی مکمّل طور پر توبہ نہ کی ۔ مگر نیت وارادہ کے سبب تقدیر بدل دی گئی اور جنت میں یہنچایا گیا ۔ اگر آج حضور نبی رحمت ﷺ کی افضل امت کا ایک گناہگار اور سرکش شخص توبہ کرے تو کیا اس کی تقدیر نہیں بدل سکتی ؟
بالخصوص شبِ برات کا تو اور افضل مقام ہے ۔جہاں حضور ﷺ کے ارشادِ گرامی کی رو سے اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگنا اور آہ و زاری کرکے اپنے رب سے آئندہ گناہوں سے سچی توبہ کرنا ہے ۔ شبِ برات ہمیں اس عمل کی طرف دعوت دے رہی ہے کہ اس رات محاسبہ نفس ۔ توبہ ۔ تجدیدِ عہد کے ذریعے دنیاوی واخروی فلاح کا سامان تیار کریں ۔
شبِ برات کا دوسرے دنوں اور راتوں سے موازنہ کیا جائے تو شبِ برات دوسرے شب وروز سے بالکل مختلف ہے ۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے احکامات کی بجا آوری کا صلہ ہیں ۔ اس میں انسان کو رمضان المبارک کے روزوں کی ادائیگی کے عوض عیدالفطر کی خوشی عطا ہوتی ہے ۔ عیدین کا تعلق ہمارے باہمی معاملات سے ہیں ۔ احکامات کی بجاآوری کا صلہ اور انعام ہے ۔
اگر ہماری روز مرہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ احساس پیدا ہونا چاہیے اور عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ ہم آئے روز اپنے بہت سے اعزاء واقارب اور دوست احباب کو کل نفس ذائقة الموت کے ارشاد کےمطابق اپنے سے رخصت کرتے ہیں ۔ ان کا رخصت ہونا اصل میں ہمارے لیے دعوتِ فکر ہے کہ ہم نے اپنے لئے کیا سامان تیار کر رکھا ہے ؟
شبِ برات دنیا وآخرت کے سنوارنے کے لئے ایک فکر کا نام ہے ۔ یہ اللّٰہ رب العزت اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے دوری کو ختم کرکے قربت کی طرف ایک الارم ہے ۔ حب الہٰی اور محبتِ رسول ﷺ کی طرف ایک دعوت ہے ۔ جس پر عمل پیرا ہوکر انسان دنیا وآخرت سنوار سکتا ہے ۔ شبِ برات ہمارے لئے ایک الٹی میٹم ہے کہ اس رات میں اللّٰہ تعالیٰ کی یاد میں اشکبار ہوں ۔ یہ رات اللّٰہ تعالیٰ کے فیوضات کا بحرِ بیکراں ہے جس میں غوطہ زن ہوکر اپنے من کو سیراب کیا جا سکے ۔ لیکن آج کے دور میں ہم اس کے برعکس اس رات کو پٹاخوں اور آتش بازی اور فضول ولایعنی باتوں وکاموں کی نذر کردیتے ہیں ۔
شبِ برات اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اسلام کے اصولوں سے عاری لوگوں کے خلاف ایک نقارہ ہے ۔ جس میں باور کروایا جا رہا ہے کہ یہ یاس اور قنوطیت تمہارے کئے ہوئے اعمال کی بناء پر ہے ۔ اس رات بندوں کو اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف ترغیب دی جا رہی ہے ۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے