مذہبی مضامین

شب برأت

ازقلم: صدام حسین قادری مصباحی دیناج پوری

سال کے دنوں اور راتوں میں پندرہویں شعبان کی مقدس رات "شب برأت” اور پندرہواں کا دن بڑی برکتوں کا ہے، امت محمدیہ پر اللہ عزوجل کا کرم خاص ہے کہ اس نے شب براءت جیسی نورانی رات سے سرفراز فرفایا، یہ رات ہر سال آتی اور چلی جاتی ہے لیکن کتنے غافل اور کاہل ایسے ہیں جو اس کی قدر نہیں کرتے اور سوکر پوری رات گزار دیتے ہیں، ہاں بڑے خوش قسمت اور نیک بخت ہیں وہ اللہ کے اطاعت شعار بندے جو اس رحمت بھری اور نور نکہت میں ڈوبی ہوئی رات کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے اور اس میں اپنے مولا کریم کو یاد کر تے ہیں، اس مقدس اور رحمت بھری بارگاہ سے برکت و نور کی خیرات مانگتے اور اپنے گناہوں پر پشیمان و شرمندہ ہو کر توبہ استغفار کر تے ہو ئے اسے گزارتے ہیں، مساکین و غربا پر صدقہ و خیرات بہی کرتے، اقربا احباب کو تحائف سے بھی نوازتے ہیں، اور ساتھ ہی شہر خموشاں میں آرام کر نے والے مرحومین و متعلقین کو بھی نہیں بھولتے ان کے لیے بھی فاتحہ اور ایصال ثواب کا اہتمام کر تے ہیں َ یقیناً زندوں کے ساتھ اس دنیائے فانی کوچ کرنے والے ہمارے بھائی ہمارے احسان و کرم اور امداد و نصرت کے مستحق ہیں لہذا مبارک راتوں اور مقدس ایام میں ضرور انہیں بھی یاد کرنا چاہئیے َ

دعاؤں کی مقبولیت : شب براءت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں دعائیں مقبول ہوتی ہیں، لہٰذا جملہ دینی اور دنیاوی مقاصد پر مشتمل دعائیں اس مبارک شب میں مانگی چاہیے، اس لئے علماء نے اوقات اجابت یعنی مقبولیت دعا کے اوقات میں شب براءت کو بھی شمار فرمایا ہے َ
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : پانچ راتیں ہیں کہ ان میں دعا رد نہیں کی جاتی، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات(شب براءت) جمعہ کی رات، عیدالفطر کی رات اور بقر عید کی رات (دسویں ذی الحجہ کی شب (جامع صغیر ص ٢٤١، حدیث :٣٩٥٢) لہٰذا اس. مبارک شب میں چاہیئے کہ کثرت سے دعائیں مانگیں، خدائے کریم کی بارگاہ اپنی اپنی حاجتیں پیش کر یں، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر لیں َ
حلوا اور فاتحہ : شب براءت میں حلوا پکانا نہ تو فرض ہے نہ سنت نہ حرام بلکہ حق بات یہ ہے کہ شب براءت میں اور کھانوں کی طرح حلوہ پکانا بہی مباح اور جائز کام ہے اور اگر اس نیک نیتی کے ساتھ ہو کہ ایک عمدہ اور لذیذ کھانا فقرا اور مساکین اور اپنے اہل و عیال کو کھلائیں تو یہ بھی ثواب کا کام ہے َ حلوہ وغیرہ پر مرحوم مسلمانوں اور اپنے اقربا کی فاتحہ دلانا یعنی انہیں ایصال ثواب کرنا بہی ایک مستحسن اور جائز کام ہے اسے بدعت سے کوئی تعلق نہیں َ

زیارت قبور : قبروں کی زیارت کو جانا سنت ہے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی ہے، اس کا حکم فرمایا ہے اور اس کے فوائد و برکات پر روشنی ڈالی ہے َ حدیث شریف ہے :
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فانها تزهد فى الدنيا وتذكر الآخرة (سنن ابن ماجہ ص١١٢)
میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، قبروں کی زیارت کرو اس لئے کہ وہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے َ

آتش بازی : ماہ شعبان بالخصوص اس کی پندرہویں شب یعنی شب براءت کی فضیلت و اہمیت اہل اسلام کے نزدیک مسلم ہے، مگر افسوس ایک طرف تو بعض افراد اس کی فضیلت ہی کا سرے سے انکار کرتے ہیں، دوسری طرف اس کے ماننے والوں میں ایک بڑی تعداد ان جاہلوں اور بد عملوں کی ہے جو اس معظم سراپا خیر و برکت والی رات کو طرح طرح کی کھیل کود اور آتش بازی جیسے شیطانی افعال سے آلودہ کر کے اس فضیلت و نورانیت کا کھلا مذاق اڑاتے ہیں، خدا تعالیٰ ایسے مسلمانوں کو اپنے غلط اعمال کے محاسبے اور اصلاح کی توفیق عطا فرمائے آمین َ
آتش بازی ایک برا فعل اور فضول خرچی ہے اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے : ولا تبذر تبذيرا ٥ ان المبذرين كانوا اخوان الشياطين وكان الشيطان لربه
كفورا ٥(سورہ اسرا)
"اور فضول نہ اڑا بےشک فضول اڑا والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے” –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے