مذہبی مضامین

قضا نماز کی ادائیگی کا طریقہ

ناشر: شعبۂ نشر و اشاعت تحریک فروغِ اسلام(مالیگاؤں)

ہر مسلمان پر خواہ مرد ہو یا عورت بالغ ہوتے ہی نماز پڑھنا فرضِ قطعی ہے۔ اگر کوئی شخص بالغ ہونے کے کئی سال بعد نمازی ہوا تو اس درمیان کی نمازیں جو قضا ہو چکی ہیں؛ ان کا ادا کرنا فرض ہے۔ مثلاً: عبدالله ۱۴؍ برس کی عمر میں بالغ ہوا، اور جب اس کی عمر۲۰؍ سال کی ہوئی تو وہ نماز کا پابند ہوا؛ تو اس کو ۶؍ برس کی قضا نمازیں پڑھنی ہوں گی۔ جس مرد کو اپنے بالغ ہونے کی تاریخ و سال یاد نہ ہو تو وہ اپنے بلوغ (بالغ ہونے) کی مدت ۱۲؍ برس کی عمر سے قرار دے؛ کیوں کہ فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ لڑکا ۱۲؍ برس کی عمر میں بالغ ہوتا ہے۔ اس حساب سے اپنی عمر سے ۱۲؍ برس وضع کرکے بقیہ سالوں کی قضا نمازیں ادا کرے۔ اور جس عورت کو اپنے بلوغ کی تاریخ و سال یاد نہ ہوں وہ اپنے بلوغ کی مدت ۹؍ برس کی عمر قرار دے کر (اور ساتھ ہی ہر ماہ سے ایام حیض، اور نفاس کے ایام بھی کم کرلے؛ کیوں کہ ان دنوں کی نمازوں کی قضا عورتوں پر لازم نہیں ہے۔) اپنی قضا نمازوں کا حساب لگائے اور انھیں ادا کرے۔ ہر وہ فرد جن کے ذمہ قضا نماز یں ہوں ان پر لازم ہے کہ جلد از جلد ادا کریں، نہ معلوم کس وقت موت آ جائے۔ حاجتِ طبعی اور ضروری کام (کہ جن کے بغیر گزر نہیں) کے علاوہ بقیہ اوقات میں قضا نمازیں ضرور ادا کرے۔ یوں ہی نوافلِ یومیہ و سنت غیر مؤکدات کی جگہ قضا ہی پڑھے۔ ایسے ہی بڑی راتوں (شبِ معراج، شبِ برأت، لیلۃ القدر اور لیلۃ الجائزۃ وغیرہ وغیرہ ) میں نوافل کی جگہ قضا نمازیں ہی ادا کرے اور الله کریم کے فضل سے یہ امید رکھے کہ وہ قضا کوقبول فرما کر نوافل کے ثواب سے بھی محروم نہ رکھے گا۔
ایک دن کی ۲۰؍ رکعتیں ہوتی ہیں، یعنی فجر کے فرض کی ۲ ؍ رکعات ، ظہر کے فرض کی ۴ ؍ رکعات، عصر کے فرض کی ۴ ؍ رکعات، مغرب کے فرض کی ۳ ؍ رکعات، عشاء کے فرض کی ۴ ؍ رکعات اور وتر کی ۳ ؍ رکعات واجب؛ ان نمازوں کو سوائے طلوع و غروب اور زوال کے ( کہ اس وقت سجدہ حرام ہے۔) ہر وقت ادا کرسکتا ہے۔ اور اختیار ہے کہ پہلے فجر کی سب نمازیں ادا کر لے پھر ظہر، پھر عصر، پھر مغرب، پھر عشاء۔ یا سب نمازیں ساتھ ساتھ ادا کرتا جائے اور ان کا ایسا حساب لگائے کہ تخمینہ میں باقی نہ رہ جائے؛ زیادہ ہو جائے تو حرج نہیں۔ ساری قضا نمازیں بہ قدر طاقت رفتہ رفتہ جلد ادا کر لے، کاہلی نہ کرے۔جب تک فرض ذمہ باقی رہتا ہے کوئی نفل قبول نہیں کی جاتی۔
جب قضا نمازوں کی ادائیگی کے لیے کھڑا ہو تو اس وقت اس کی نیت کرنی ضروری ہے۔ مثلاً: فجر کی نیت یوں کرے: ’’مَیں نے سب میں پہلی فجر پڑھنے کی نیت کی؛ جو مجھ سے قضا ہوئی؛ اللہ تعالی کے لیے، کعبہ شریف کی طرف متوجہ ہوکر، اللہ اکبر۔‘‘
اسی طرح ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور وتر کی نیت کرے، جن لوگوں کے ذمہ قضا نمازیں بہت زیادہ ہوں ان کے لیے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمۃ نے تخفیف کی ۴ ؍ صورتیں ارشاد فرمائی ہیں تا کہ وہ آسانی کے ساتھ قضا نمازیں ادا کرسکیں۔
اول: فرض کی تیسری و چوتھی رکعت میں الحمد شریف کی جگہ فقط ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘۳ ؍مرتبہ کَہ کر رکوع میں چلے جائیں۔ مگر یہاں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ سیدھے کھڑے ہوکر سبحان اللہ شروع کریں اور سبحان اللہ پورا کھڑے کھڑے کَہ کر رکوع کے لیے سر جھکائیں۔ یہ خفیف(کمی) صرف فرض کی تیسری و چوتھی رکعت کے لیے ہے۔ وتر کی تینوں رکعتوں میں الحمد اور سورۃ دونوں ضرور پڑھی جائیں۔
دوم: تسبیحاتِ رکوع و سجود میں صرف ایک ایک بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْم؛ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰى کہے؛ مگر یہ ہمیشہ ہر طرح کی نماز میں یاد رکھنا چاہیے کہ جب آدمی رکوع میں پورا پہنچ جائے اس وقت سبحان کا’’سین‘‘ شروع کرنے اور جب عظیم کا’’میم‘‘ ختم کرے اس وقت رکوع سے سر اٹھائے، اسی طرح جب سجدوں میں پورا پہنچ جائے اس وقت تسبیح شروع کرے اور جب پوری تسبیح ختم کر لے تو سجدہ سے سراُٹھائے۔ بہت سے لوگ جو رکوع اور سجدہ میں آتے جاتے یہ تسبیح پڑھتے ہیں بہت غلطی کرتے ہیں۔
سوم: یہ کہ نماز فجر میں التحیات اور یوں ہی ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور وتر میں پچھلی التحیات کے بعد درود شریف اور دعائے ماثورہ کی جگہ صرف یہ درود شریف اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ پڑھ کر سلام پھیر دیں۔
چہارم: یہ کہ نمازِ وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ تین یا ایک بار رَبِّ اغْفِرْلِیْ کہے۔
( فتاویٰ رضویہ، جلد۳ ،ص ۶۲۱- ۶۲۲۔ الملفوظ، جلد ۱ ،ص ۶۰-۶۱)
شذرہ:مبارک راتوں میں مسلمان نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ جن کے ذمہ فرض و واجب کی قضا نمازیں ہوں انہیں چاہیے کہ پہلے قضا نمازیں ادا کریں اس کے بعد نوافل۔ مبارک راتوں میں کیے جانے والے اعمالِ صالحہ یقیناً جائز و مستحب ہیں؛ ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنےوالے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کا باعث ہیں۔ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ ان کی باتوں کو ملحوظِ خاطر نہ لائیں اور کسی بھی شرعی معاملہ میں علمائے اہلِ سنت سے رجوع کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے