ہم شب برات کیسے منائیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر: احمد رضا مصباحی، کوشامبی
موبائل نمبر : 9112534330

ماہ شعبان ان پانچ مہینوں میں سے ایک ہے جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں حرمت والے (احترام والے) مہینے سے یاد فرمایا ۔ اس مہینے میں اللہ رب العزت بے شمار برکت و رحمت نازل فرماتا ہے۔ اور اس کی پندرھویں شب کو نصف شعبان اور شب برات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں رب کائنات اپنا خصوصی فضل فرماتے ہوئے بے شمار بندگان خدا کو پروانۂ نجات عطا فرماتا ہے۔ ہمارے اسلاف کا معمول رہا ہے کہ اس مبارک شب میں جاگ کر الله تعالی کے حضور سجدہ ریزی فرماتے اور پوری رات ذکر و اذکار اور عبادت کر کے قربت خداوندی حاصل فرماتے ۔ اس رات کی اہمیت کے پیش نظر علماء اہل سنت نے اس میں شب بیداری کو مستحب فرما یا ہے ۔
شب برات کی فضیلت :
شعبان کی پندرھویں شب کو شب برات اس لیے کہتے ہیں ، کیون کہ اس رات اللہ رب العزت بہت سارے گناہ گاروں کو جہنم سے برات (آزادی ،نجات) فرماتا ہے۔ اس کے علاوہ اس رات کو لیلۃ المبارکہ (یعنی برکتوں والی رات) ، لیلۃ الرحمہ ( رحمتِ الہی کی رات ) ، لیلۃ الصك ( دستاویز والی رات ) اور لیلۃ التکفیر (گناہوں کو مٹانے والی رات ) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ اس رات میں اللہ تبارک وتعالی بنی کلب کی بکریوں کے بال کی تعداد کے برابر جہنمیوں کو جہنم سے نجات کا پروانہ عطا فرماتا ہے ۔ سوائے چند لوگوں کے ، کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو نہیں بخشتا ۔ مکاشفۃ القلوب میں ہے امام محمد غزالی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ؛( ایک طویل حدیث میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں:) ” کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سے سر مبارک اٹھا یا تو میں عرض گزار ہوئی : میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں ، آپ کس کام میں لگے ہوئے ہیں اور میں کس کام میں لگی ہوں ۔ آپ نے فرمایا : اے حمیرا ! کیا تجھے معلوم نہیں ہے ۔ کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے ، اس رات میں بنو کلب کی بکریوں کے برابر (تعداد میں) اہل دوزخ کو اللہ دوزخ سے آزاد فرماتا ہے ۔ مگر چھ شخصوں کو نہیں ؛(1) شراب نوشی کا عادی، (2) والدین کا نافرمان ۔ (3) زنا کا عادی شخص، (4) قطع رحمی کا مرتکب شخص ، (5) فتنہ باز ، (6) چغل خور ۔ (مکاشفۃالقلوب مترجم )
اللہ تبارک وتعالی ان مذکورہ اشخاص کو اس مبارک رات میں بھی برات اور بخشش نہیں عطا فرماتا ، ہاں اگر یہ حضرات اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں تو اللہ انہیں بھی معاف فرماتا ہے ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ رب العزت مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے ، اور ساری مخلوق کو بخش دیتا ہے ۔ سوائے مشرک اور بغض رکھنے والے کے ۔ ( اس حدیث کو متعدد محدثین نے روایت کیا ہے)۔   دمادِرسول مولاۓ کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اس رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ غروب آفتاب کے وقت سے آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ اور کہتا ہے : کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے ۔ کہ میں اس کی مغفرت کروں ؟ کیا کوئی رزق کا متلاشی ہے۔ کہ میں اسے رزق عطا کروں ؟ کیا کوئی مصیبت کا مارا ہے کہ میں اس کی مصیبت دور کروں ؟ کیا کوئی ایسا ہے ؟ کیا کوئی ایسا ہے ؟(ایسا ہی فرماتا رہتا ہے ) حتی کہ صبح صادق کا وقت ہوجاتا ہے ۔ (ابن ماجہ )
مذکورہ احادیث سے اس رات کی اہمیت اور فضیلت واضح ہے۔ تو ہمیں اس مبارک رات میں خاص اہتمام کے ساتھ نفلی عبادت میں مشغول رہنا چاہیے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنا چاہیے ۔
معمولات شب برات :
اس رات غسل کرے تاکہ عبادت کرنے میں تازگی رہے اور عشا کی نماز کے بعد نفلی نماز خوب پڑھے ۔ تلاوت قرآن اور ذکر و اذکار میں مشغول رہے۔ ماہ شعبان کی اس مقدس رات میں لوگوں کو معمول ہے کہ وہ صلوۃ التسبیح پڑھتے ہیں ۔ یہ نماز حدیث پاک سے ثابت ہے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے میرے چچا عباس ! کیا میں تمہیں ایک تحفہ ، ایک انعام اور ایک بھلائی یعنی ایسی دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ ان پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے سارے گناہ پہلے اور بعد کے ، نئے اور پرانے ، دانستہ اور نادانستہ ، چھوٹے اور بڑے ، پوشیدہ اور ظاہر سب معاف فرمادے ۔ وہ دس خصلتیں (باتیں) یہ ہیں : کہ آپ چار رکعت نماز ادا کریں ( پھر مکمل صلاۃ التسبیح کا طریقہ بیان فرمایا) (ابوداود)۔
فاتحہ خوانی:
اس مبارک رات میں اپنے مرحومین اور بزرگان دین کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی و فاتحہ کا اہتمام کریں ۔ کیوں کہ اس رات مردے اپنے گھر میں آتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ ہم پر صدقہ کرو ، ہماری غربت کو یاد کرو۔۔۔ فتاوی رضویہ میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عید یا جمعہ یا عاشورا کا دن یا شب برات ہوتی ہے تو اموات کی روحیں آکر اپنے گھروں کے دروازے پر کھڑی ہوتی ہیں اور کہتی ہیں : ہے کوئی ہمیں یاد کرے ، ہے کوئی کہ ہم پر ترس کھاۓ ،۔۔۔۔ ( فضائل شعبان علامہ نعمانی )۔
زیارت قبور :
اس برکت والی رات میں قبرستان جانا چاہیے ، اس لیے کہ اس رات میں قبرستان جانا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ شعبان کی پندرہویں شب میں جنت البقیع تشریف لے گئے تھے ۔ حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے رسول کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کو بستر میں نہ پایا تو میں آپ کو تلاش کرنے نکلی ، میں نے دیکھا کہ آپ جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں ۔ اللہ کے رسول نے حضرت عائشہ سے فرمایا : کیا تمہیں خوف ہے کہ اللہ اور اس کے ر سول تمہارے ساتھ ناانصافی کریں گے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یارسول (اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے سوچا شاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں ۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ پندرھویں شب کو اللہ آسمان دنیا سے نزول فرماتا ہے ۔ اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے (مسند احمد بن حنبل ، ترمذی) ۔ لہذا اس مبارک رات میں باوضو ہو کر، عزیز و اقارب کی زیارت قبور کو جائیں ، قبرستان پہنچ کر، مردوں کو سلام کرے اور کہیں : السلام علیکم یا اہل قبور ۔ پھر اندر جائیں۔، قبرستان میں اندر جانے کے لیے پرانے راستے کا انتخاب کریں ، اور قبور مسلمین کی حرمت کا پاس رکھیں ، قبر کے پاس پہنچنے کے بعد یا قبر معلوم نہیں ہے تو کہیں بھی کھڑے ہوکر ، جو سورتیں یا آیتیں حفظ ہوں پڑھے اور مردوں کو ایصال ثواب کریں ۔ قبرستان میں اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ قبر پر موم بتی اگربتی نہ جلائیں کہ یہ عمل شرعا ممنوع ہے ۔ بلکہ کسی مناسب جگہ پر جلائی جائے تاکہ لوگوں کو روشنی فراہم ہو سکے اور اس قبرستان میں آنے والے لوگوں کے لئے روشنی کا کام دے ۔
روزے رکھیں:
شعبان ایک مقدس مہینہ ہے ۔ اس میں نفلی روزے کثرت سے رکھنا چاہیے کیون کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے تھے ۔ حدیث شریف میں ہے ، ابو یعلی کی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے ( یعنی کثرت سے) تو میں نے اس کے بارے میں آپ سے پوچھا آپ نے فرمایا : اللہ تعالی اس میں اس سال مرنے والی جانوروں کو لکھ دیتا ہے ۔ تو مجھے یہ پسند ہے کہ میری موت آئے تو میں روزے دار ہوں ۔( فضائل شعبان علامہ نعمانی بحوالہ تفسیر در منثور)
اگر ہم کثرت سے روزے نہیں رکھ سکتے ہیں ، تو کم از کم پندرہ شعبان کا روزہ رکھ لیں ۔ مسلم شریف میں ہے ، رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک ہے ، عمران بن حصین سے روایت ہے ، کہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور سے فرمایا : تم نے شعبان کے وسط میں روزہ رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : "عید کے بعد تم دو روزے رکھ لینا” ۔ (فضائل شعبان بحوالہ مسلم )۔ اور ایک حدیث پاک ہے ۔ قوموا لیلها و صوموا نهارها ( ابن ماجہ). یعنی پندرھویں شب میں قیام کرو ،اور دن میں روزے رکھو ۔ لہذا اس مبارک ماہ میں خاص کر شعبان کی 15 /تاریخ کو روزہ رکھیں۔ اور اپنے اور جملہ مسلمین کے حق میں دعائے خیر و مغفرت کریں ۔
آتش بازی بری رسم :
اس مقدس اور مبارک رات میں ہم مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ عبادت اور قرآن کی تلاوت کرنا چاہئے اور اللہ کی بارگاہ سے اپنے گناہوں پر نادم ہو کر پروانۂ مغفرت حاصل کرنا چاہئے مگر اس کے برعکس بہت سے ناعاقبت اندیش مسلمان خاص کر ہمارا نوجوان طبقہ اس رات آتش بازی جیسے ناجائز کار شیطان انجام دیتے ہیں ، اور اپنی محنت کی کمائی کی دولت کو فضول خرچ کر دیتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ( بني إسرائيل_27) بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے . کیا کبھی ہم نے سوچا ہے! کہ ہماری اس آتش بازی کے ذریعے نہ جانے کتنے گھر ویران ہو جاتے ہیں ۔ اور کتنے لوگوں کے ساز و سامان جل کر راکھ ہو جاتے ہیں ۔ کتنے لوگ ہمارے پٹاخہ بازی اور آتش بازی سے پریشان ہوتے ہیں!!! کاش اللہ رب العزت کے دئیے ہوئے رزق حلال سے خریدے ہوئے پٹاخے اور بارود میں آگ لگانے سے پہلے سوچ لیتے!!! اگر خدا ناخواستہ ہمارا رازق ہم سے ناراض ہو کر رزق چھین لے ، تو ہم کیا کھائیں گے اور کیا پئیں گے ۔!!! لہذا اس رات ناجائز رسومات سے دور رہ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کرنا چاہیے ۔ اور ان کی خوشنودی حاصل کر کے ذریعۂ نجات بنانا چاہیے ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

شان رسالت میں گستاخی قطعی برداشت نہیں

ازقلم: محمد زاہد رضا، دھنبادمتعلم،جامعہ اشرفیہ،مبارک پور(رکن:مجلس علماے جھارکھنڈ) روز بروز فرقہ پرست طاقتیں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔