غزل: پاس میں دولتِ حق بیانی تو ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

خیال آرائی: خوشنما حیات ایڈوکیٹ، بلند شہر اُتر پردیش بھارت

پاس میں دولتِ حق بیانی تو ہے
یہ وراثت میری خاندانی تو ہے

خوش ہوں میں میری کوئی کہانی تو ہے
وہ نہیں ہے تو اس کی نشانی تو ہے

بے وفا جو کبھی خود کو کہتا نہی
وہ مجھے دیکھ کر پانی پانی تو ہے

آج کل آپ کچھ بولتے ہی نہی
آپکے دل میں کچھ بدگمانی تو ہے

خوشنما کچھ نہ بولو کے اُن کے سبب
میری سانسوں میں اب تک روانی تو ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

غزل: مدتوں تک کوئی بہلول رہا ہے مجھ میں

از قلم.. دلشاد دل سکندر پوری زہر ہوں اور شہد گھول رہا ہے مجھ میںکون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔