غزل گوشہ خواتین

غزل: پاس میں دولتِ حق بیانی تو ہے

خیال آرائی: خوشنما حیات ایڈوکیٹ، بلند شہر اُتر پردیش بھارت

پاس میں دولتِ حق بیانی تو ہے
یہ وراثت میری خاندانی تو ہے

خوش ہوں میں میری کوئی کہانی تو ہے
وہ نہیں ہے تو اس کی نشانی تو ہے

بے وفا جو کبھی خود کو کہتا نہی
وہ مجھے دیکھ کر پانی پانی تو ہے

آج کل آپ کچھ بولتے ہی نہی
آپکے دل میں کچھ بدگمانی تو ہے

خوشنما کچھ نہ بولو کے اُن کے سبب
میری سانسوں میں اب تک روانی تو ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے