ازقلم: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور
شان الٰہی
عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
” اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ ".
{سنن الترمذي، أَبْوَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَابٌ : مَا جَاءَ فِي مُعَاشَرَةِ النَّاسِ، الحديث 1987}
ترجمہ : تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہا کرو۔ اور گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو جو اس کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو۔
اس حدیث کی جامعیت:
یہ حدیث بھی حضور صاحب جامع الکلم ﷺ کی جامع احادیث میں سے ایک ہے کہ اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو بس ایک جملے میں جمع فرما دیا ہے جو کہ اپنے دامن میں وسیع معانی کو سمیٹے ہوئے ہے، جیسا کہ محدث ابن رجب حنبلی – رحمة الله عليه – نے اس حدیث کے تحت ارشاد فرمایا :
فهذه الوصية وصية عظيمة جامعة لحقوق الله وحقوق عباده، فإن حق الله على عباده أن يتقوه حق تقاته –
(جامع العلوم و الحکم لابن رجب الدمشقي الحنبی، تحت الحديث الثامن العشر، ص 378، مطبوعہ دار ابن کثیر دمشق بیروت)
ترجمہ : یہ وصیت (حدیث) عظیم وصیت ہے (امت محمدیہ کے لیے)، جو کہ جامع ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی، تو بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیے –
__ہم نے چوں کہ ایمانیات کے باب میں اسے رکھا ہے (اگر چہ یہ معمولات کی بھی اعلی اور اتم حدیث ہے) اس لیے اس حدیث کے پہلے جز کی جامعیت پر غور کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی یہ ایمانیات کے باب کی ایک بڑی جامع حدیث ہے کہ اللہ رب العزت کے انکار کی وجوہات میں سے چند یہ ہیں کہ :
❶ ــــ اللہ کی معرفت نہ ہونے اور اس کے جلال کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے باطل معبودوں کو اپنانا آسان ہوتا ہے –
❷ ـــ معبود کو محدود (صرف کسی خاص جگہ پر موجود) سمجھنے کی وجہ سے، یہی وجہ ہے کہ جو آنکھ سے نظر آتے ہیں، ایک ہی جگہ بے حس و حرکت موجود ہوتے ہیں لوگ اسی کو اپنا معبود سمجھ لیتے ہیں اور اس کے سامنے تو نافرمانی، گناہ اور جرم کرنے سے ڈرتے ہیں لیکن جب اس سے منہ پھیر کر فرار ہوئے تو چوں کہ اب ان کے معبود سامنے موجود نہیں ہوتے اسی لیے جرم کرتے ہوئے خوف بھی نہیں رہتا –
❸ ــــ اللہ کے جلال اور اس کے عذابوں کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے، کچھ لوگ اتنے خائف ہو جاتے ہیں کہ اس کا انکار ہی کر بیٹھتے ہیں تاکہ اس کے خوف اور عذاب کی فکر سے نجات پا لیں –
اب……. اس پس منظر میں مذکورہ بالا حدیث کو دیکھیں اور ایک نظر پھر سے حدیث پر ڈالیں کہ اللہ کے رسول – ﷺ – نے کتنے جامع و مانع الفاظ سے صرف ایک ہی جملے میں کفر کی میخیں اکھاڑ پھینک دیا اور بڑے پیارے انداز میں ان تینوں وجوہات کی تردید فرما دی جس کی وجہ سے لوگ کفر اختیار کرتے ہیں؛ دیکھیں :
❶ ــــ پہلے حصے میں یعنی ” اتَّقِ اللَّهَ” میں حضور – ﷺ – نے واضح فرما دیا کہ تمہارا حقیقی معبود جو اللہ ہے وہ بڑی عظمت اور جلال والا ہے (جس طرح وہ بڑا رحیم ہے) لہٰذا تم عام چیزوں مثلاً : سورج چاند، پتھر مورت اور پیڑ پہاڑ کو اپنا معبود نہ بناؤ بلکہ اسی واحد ذو الجلال کو اپنا حقیقی معبود جانو اور اس کے علاوہ کو معبود اور خدا بنانے سے ڈرو اسی طرح اس کی نافرمانی اور حکم کے خلاف ورزی سے بھی خوف کھاؤ –
❷ ـــ اس کے آگے فرمایا : "حَيْثُمَا كُنْتَ” یعنی تم ان محدود، مجبور اور بے حس و حرکت معبود کو نہیں بلکہ اس معبود اور رب کو مانو جس کی پہنچ، جس کا علم تمام جگہوں کو محیط ہے، تم جہاں کہیں بھی رہو اپنے آپ کو اللہ رب العزت کی پہنچ اور دسترس سے باہر نہ جانو کہ یہی حقیقی معبود کی شان ہے –
❸ ــــ اس کے آگے کفر کو قبول کرنے والی ایک اور وجہ کی تردید کرتے ہوئے حضور – ﷺ – نے ارشاد فرمایا : "وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا” یعنی اپنے حقیقی معبود کے جلال سے خوف زدہ ہو کر بھاگنا محال ہے، اس کا انکار کر کے یہ سوچنا کہ ہم اس کے خوف اور عذاب سے بے نیاز ہو جائیں گے یہ بڑی بھول ہے –
یاد رکھو کہ اللہ رب العزت کا اعلان عام ہے : "وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۚ ” (الأعراف؛ 156) یعنی میری رحمت ہر شئی پر بھاری ہے اور اس کی رحمت تو یہ کہ اگر بندہ اس کا منکر اور کافر ہو لیکن وقت رہتے ہوئے سمجھ آ جائے اور ایمان قبول کر لے تو اسی ذو الجلال رب نے اپنی وسیع رحمت اور مغفرت کے بارے میں فرمایا :” قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ” (الزمر؛ ٥٣) یعنی : ’’آپ فرما دیجیے : اے میرے وہ بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے“ – یہ ہے اس رحمت والے حقیقی رب کی شان _
لہٰذا…….. گنہ گاروں کو اس کے جلال اور عذاب کے خوف سے پھرنا اور پھاگنا نہیں ہے بلکہ حضور ﷺ نے بہتر طریقہ بتایا کہ "وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا” یعنی اگر گنہ ہو جائے تو اس کے بعد (توبہ) نیکی کرو تاکہ اس کے صدقے گناہ مٹ جائے؛ کیوں کہ کریم رب کا ارشاد ہے : "إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ”(ھود؛ ١١٤) بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں –
تو ثابت ہوا کہ_ رب رحمٰن کی رحمت اس کے جلال پر بھاری ہے بندے کو نا امید ہو کر اس سے پلٹنا نہیں بلکہ اسی کی طرف بھاگنا چاہیے –
الغرض__ کفر اختیار کرنے کی تینوں وجوہات اور اس کے پیس منظر میں حدیث شریف کے مطابق سے ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور دل بار بار کہتا ہے کہ حضور ﷺ کے اس مختصر الفاظ والے جملے کی معنویت دیکھیں اور اپنے آقا ﷺ کی عظمت شان اور صفات حمیدہ پر رشک کریں؛
یہ تو صرف ایک پہلو سے مختصر وضاحت تھی جو ایمانیات کے متعلق میرے قلب و ذہن میں آیا ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں واضح کر دیا ورنہ اگر آقا ﷺ کے اس جملے کی کما حقہ شرح کی جائے تو بڑے بڑے دفاتر کے صفحات بھی کم پڑ جائیں اور تشریح مکمل نہ ہو؛ واہ ایسی فصاحت بھری باتیں (احادیث) پڑھ کر؛ دل جھوم جاتا ہے اور زبان و دہن مبارک کے لیے آواز نکلتی ہے؛
اس کی پیاری فصاحت پہ بیحد درود
اس کی دلکش بلاغت پہ لاکھوں سلام