علما و مشائخ

ارشادالطالبین علاؤ الملۃ والدین استاذ العلماء والشعراء حضرت مولانا شاہ محمد علاؤالدین طالب القادری تیغی علیہ الرحمہ والرضوان کی مختصر حیات و خدمات

تحریر: غلام ربانی فارح مظفر پوری

آپ صوبہ بہار کے ممتاز علما و صوفیا میں شمار کںٔے جاتے ہیں ۔
ضلع مظفر پور جو ریاست بہار کا ایک مشہور ضلع ہے۔ جس کی آغوش سے بے شمار علما، فضلا، ادبا اور صوفیا نکلتے رہے ہیں جن کی علمی و ادبی خدمات کا ایک جہاں معتقد ہے
شہر سے متصل چالیس کلو میٹر دور ایک گاؤں ہرپور رتوارہ ہے، جو پارو تھانہ حلقہ ضلع مظفرپور میں واقع ہے ۔
اس گاؤں کو اگر قریۃ العلما کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ وہی آپ کا آبائی وطن ہے ۔
1757ء سے قبل آپ کے آبا کا گاؤں رَمَولی ضلع مظفرپور (موجودہ ضلع ویشالی) رہا ہے ۔ آپ کے چوتھے دادا شیخ جمال الدین (کمانڈر نواب سراج الدولہ 1733ء تا 1757ء) انگریزوں کے ظلم کی وجہ سے ہجرت کر کے رتوارہ میں آباد ہو گئے
وہیں شادی ہوئی نسلیں بڑھی شجاعت و بہادری وراثتا منتقل ہوتی رہی آپ کا گھرانہ شجاعت و بہادری کے ساتھ تقویٰ و پرہیزگاری میں گاؤں کے لیے مثال تھا
ولادت باسعادت آپ کے نانا شیخ غلام رسول صاحب (رسول میاں) کے یہاں غالباً ۱۳۴۳ھ مطابق ۱۹۲۵ کو بَرہَلوا مہسی ضلع مظفرپور (موجودہ ضلع مشرقی چمپارن ) میں ہوئی۔
اسم گرامی۔۔ محمد علاء الدین رکھا گیا
تخلص ۔۔ ابتدا ميں راجی آپ نے انتخاب کیا لیکن بعد میں علامہ علی احمد جید القادری تیغی صاحب ( سجادہ نشیں خانقاہ تیغیہ سرکانہی شریف مظفرپور) کی فرمائش پر طالب رکھا اور طالب القادری سے مشہور ہوئے
سلسلۂ نسب چار پشت اوپر شیخ جمال الدین کمانڈر (نواب سراج الدولہ) سے ملتا ہے
آپ کے والد کا نام ۔۔ شیخ ریاضت حسین ابن عبد الرحیم (رحیمن) ابن عمر علی ابن شیخ جمال الدین کمانڈر

تعلیم و تربیت
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے گھر پر ہی ہوئی
کم سنی میں ہی والد محترم کا سایہ اٹھ جانے کی وجہ سے غربت نے آپ کو گھیر لیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ نے کافی مشقتوں کا سامنا کیا گھر کے لوگ بتاتے ہیں کہ گھریلو اخراجات کی رقم پوری نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری کر کے گھر کے اخراجات پورے کیے جاتے
قلم اور کاپی خریدنے کے لیے رقم نہ ہونے کی صورت میں چاول بھون کر روشنائی تیار کرتے اور لکڑی کی تختی پر کنڈا کے قلم سے لکھا کرتے تھے
حصول تعلیم کی خاطر روزانہ گاؤں سے تین کلو میٹر دور پارو قصبہ مکتب جاتے
کافی تلاش و جستجو کے بعد رتوارہ، پارو کے علاوہ ظاہری تعلیم حاصل کرنے کا تذکرہ کہیں نہیں مل سکا
مولانا سجاد علائی چکنوی (حضرت کے شاگرد) کہتے ہیں کہ میں اپنے استاذ محترم کی بارگاہ میں دس سالوں کے قریب رہا درس گاہ میں ایک بار پوچھا کہ حضرت! آپ نے کتنے سالوں تک تعلیم حاصل کی تو فرمایا کہ مسلسل نو سالوں تک حضرت مولانا سید نذیر الحسن صاحب علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں تعلیم حاصل کی
مشفق استاذ نے ان نو سالوں میں آپ کو عربی، فارسی، ریاضی، اردو اور ہندی کا بہترین عالم بنا دیا
بقول مولانا سجاد فرماتے ہیں کہ میں نے اب تک جتنی کتابیں پڑھی ہیں اس کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زیادہ کی ہیں
علم نثر کے ساتھ ساتھ علم نظم بھی پڑھا اور اپنے وقت میں اردو و فارسی زبان میں زبردست نعتیہ شاعری فرمائی جس کا منہ بولتا ثبوت (انوار طالب) نعتیہ مجموعہ ہے

علوم ظاہری سے فراغت کے بعد
علوم باطنی کے حصول کے لیے حضرت شاہ غلام رسول مولائی بہاری خلیفہ حضرت مولٰی علی لعل گنجوی علیہم الرحمہ کی بارگاہ میں پہنچے.
اور ان سے شرف بیعت حاصل کی.

مگر علوم باطنی کی تکمیل کہیں اور ہونی تھی.
وقت کے شیخ المشائخ سرکار تیغ علی شاہ رحمۃاللہ علیہ سرکانہی شریف سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا.
پہلی ہی ملاقات میں شیخ المشائخ نے کیا دیکھا.
اور مرید صادق نے ان سے ملاقات میں کیا پایا کہ دل یہ پکار اٹھا.
دیکھا تو نہیں جلوۂ سرکار کو طالب
"ہم دیکھنے والے کی نظر دیکھ رہے ہیں”

پہلی ملاقات کیا ہوئی کہ انھیں کے ہوکر رہ گئے.
اور یہ کہتے رہے.
اضطراب شوق کو حد سے گذر جانے تو دو
آئیں گے آقا جلانے مجھکو مرجانے تو دو

المختصر
سیدنا سرکار تیغ علی شاہ رحمۃاللہ علیہ نے سند خلافت سے نوازا.
پھر انھیں قوم کی رہنمائی کے لیے انھی کے علاقے کی طرف مامور کردیا.

خدمات
1945ء کے قریب تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے ذریعۂ معاش کے لیے سب سے پہلے پارو کچہری میں کتابت شروع کی
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا چند ہی مہینوں کے اندر آپ کی ملاقات قطب مظفرپور شاہ تیغ علی علیہ الرحمہ سرکانہی شریف سے ہوئی سرکار سرکانہی نے 1946ء میں آپ کو نوراللہ پور بنگرہ، مظفرپور (نزد سرکانہی شریف) کی مسجد میں رہنے کا مشورہ دیا
بقول مفتی غلام غوث مصباحی چشتی ( ممدوح مکرم کے نواسۂ اکبر) مرشد برحق کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بارہ روپے ماہانہ مشاہرہ پر وہیں قیام کیا مسجد میں امامت کے ساتھ ساتھ مکتب میں آنے والے طلبہ پر بھی خاص توجہ فرمائی
اس درمیان سرکانہی شریف خانقاہ میں مسلسل حاضری دیتے ہوئے کتب تصوف اور علوم باطنی سے بھی مستفیض ہوتے رہے
بنگرہ میں آپ کا قیام چار سالوں تک رہا
1950 ۔ 51 ء کے درمیان مدرسہ احیاء العلوم تھتھیاں شریف مظفرپور بحیثیت معلم تشریف لے گئے
جہاں قوم کے نونہالوں کو علم دین سے آراستہ کرتے رہے
بقول مفتی حامد القادری (حضرت کے شاگرد) آپ کے سمجھانے کا یہ عالم تھا کہ کمزور سے کمزور طالب علم بھی پہلی دفعہ کے سمجھانے میں سمجھ جایا کرتا تھا
بعض نامساعد حالات کے پیش نظر 1967 ء میں مدرسہ احیاء العلوم تھتھیاں شریف کو خیرباد کہا
لیکن مدرسہ کی سرپرستی تا عمر اخیر فرماتے رہے
بقول مفتی مطیع الرحمن (بانی جامعۃ الخضریٰ مرون مظفرپور) جب آپ استعفیٰ دے کر نکلے تو احیاء العلوم کا تعلیمی نظام بالکل ٹھپ ہو گیا بحیثیت سرپرست اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے مفتی مطیع الرحمن صاحب کو 1973 ء میں بحال کیا

بقول مفتی حامد القادری (سجادہ نشیں خانقاہ نمازیہ تھتھیاں شریف مظفرپور ) 1967ء میں حالات کے پیش نظر اپنے قائم کردہ ادارہ مدرسہ مصباح العلوم، جعفرپور، دیوریا، مظفرپور تشریف لے گئے چند مہینے میں حالات بہتر فرما کر 1968ء میں نیرسا ضلع دھنباد بہار (موجودہ ریاست جھارکھنڈ) اپنے ایک مرید سید فخرالدین صاحب کی عرضی پر تشریف لے گئے
لیکن اپنے علاقے میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی امید نے آپ کو وہاں نہ رہنے دیا
1968 – 69 کے درمیان چکنا شریف سریّا کوٹھی مظفرپور کی مسجد میں سو روپے پر بحال ہوئے
1968 تا 1985 یعنی سترہ سال کے قریب چکنا شریف میں آپ کا قیام رہا ان سترہ سالوں میں آپ نے وہ وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جنھیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا
فروغ اہل سنت بالخصوص مسلک اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا کرتے
اس وقت کے چیدہ چیدہ علما و صوفیا سے گہرے روابط تھے قوم و ملت کے مسائل کے حل کے لیے ان معتبر علما سے رابطہ کرتے
جن کے اسما گرامی قابل ذکر ہیں
شبیہ غوث اعظم علامہ مصطفیٰ رضا خاں المعروف مفتی اعظم ہند بریلی شریف ، جلالۃ العلم علامہ عبد العزیز محدث مراد آبادی المعروف حافظ ملت مبارکپور، ملک العلما علامہ ظفر الدین بہاری، شاہ حبیب الرحمن المعروف مجاہد ملت اڑیسہ، رئیس القلم علامہ ارشد القادری جمشیدپور ، خطیب مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی الہ آباد ، امین شریعت مفتی رفاقت حسین المعروف مفتی اعظم کانپور مظفرپوری اور مفتی آگرہ علامہ عبد الحفیظ صاحبان علیہم الرحمہ

یوں تو چکنا شریف میں آتے ہی مکتب کا آغاز کر دیا تھا
لیکن مسجد میں جگہ کی تنگی کے باعث بڑی جد و جہد کے بعد اہل چکنا کے تعاون سے سڑک کنارے ایک زمین لی گئی 1975 ء میں اس زمین پر ایک ادارے کی بنیاد ڈالی گئی جس کا نام مدرسہ تیغیہ ضیاء القرآن رکھا جو اب دارالعلوم تیغیہ علائیہ ضیاء القرآن کے نام سےمشہور ہے
مدرسہ کے قیام کے بعد علم دنیا سے قوم کے نونہالوں کو آراستہ کرنے کے لیے 1977ء میں مدرسہ سے متصل اسکول کے لیے زمین خریدی گئی
الحمد لله! اسکول حکومت بہار سے منظور شدہ ہے جہاں اس وقت درجہ آٹھ تک کی تعلیم ہوتی ہے
معمول تھا کہ چکنا سے ہر جمعرات کو آپ اپنے گاؤں رتوارہ شام کو اپنے اہل و عیال سے ملنے تشریف لے جاتے اور جمعہ سے پہلے آپ چکنا واپس لوٹ آیا کرتے
اسی درمیان 1980ء میں اپنے گاؤں رتوارہ کے بچوں کے تعلیمی نظام درست کرنے کے لیے مدرسہ حنفیہ غوثیہ کی بنیاد رکھی۔ ادارہ کی بنیاد رکھنے کی وجہ جناب عبد السمیع صاحب ( ممدوح مکرم کے چچا زاد بھائی) بیان کرتے ہیں کہ حضرت کہیں تشریف لے جا رہے تھے گاؤں کے ایک بچے نے کہا مولوی صاحب ! پرنام ( प्रणाम) ایک مسلم بچے کی زبان سے پرنام کا لفظ سن کر آپ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ۔ بڑی محنت سے گاؤں والوں کو بیدار کیا پھر مدرسے کی بنیاد رکھی
آج آپ کی ہی محنت کا ثمرہ ہے جو ہر دو تین سال بعد گاؤں کا کوئی نہ کوئی بچہ عالم، حافظ بن کر نکلتا ہے
آپ کی علمی قابلیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ علاقے میں جہاں بھی بدعقیدے سر اٹھاتے ان کا قلعہ قمع کرنے کے لیے آپ ہمیشہ پیش پیش رہتے
یہی وجہ ہے کہ آپ کے مرشد سرکار سرکانہی علیہ الرحمہ کو جہاں ایسی جگہوں پر جانا ہوتا جہاں بدعقیدے قوم کے ایمان کو لوٹنے کی کوشش کرتے مرشد گرامی آپ کو اپنے ساتھ لے جاتے
آپ بیک وقت باشرع عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ولی صفت بزرگ، ادیب، مصنف، شاعر اور خطیب کی حیثیت سے بھی پہچانے جاتے ہیں

حضور طالب القادری علیہ الرحمہ نے خدمت دین کے لیے کئی جگہوں کا سفر فرمایا.
اور قوم کی بہترین رہنمائی کرتے رہے.

بعدۂ چکناشریف، سریا کوٹھی، مظفرپور کو مستقل طور پر قوم کے رشد وہدایت کے لیے اپنا مسکن بنایا.
ایک بوسیدہ سی مسجد میں دینی تعلیم سے قوم کو مستفیض فرماتے رہے.
اپنی حیات ہی میں علم دین کے فروغ کیلئے کئی مدرسوں کی تعمیر کروائی.
جن میں ایک مدرسہ اپنے آبائی گاؤں میں ہے.
اور دوسرا مدرسہ تیغیہ علائیہ ضیاءالقرآن چکنا شریف میں ہے.

تصنیف و تالیف
آپ کئی مایہ ناز کتابوں کے مصنف بھی تھے
آپ کی دوتین کتابیں طبع ہوچکی ہیں.
جن میں ان کا نعتیہ نعتیہ مجموعے. . انوار طالب ، گلزار حرم
اور ایک اہم کتاب جو شمع نیازیکی فتنہ پرور کتاب "کعبے کی حقیقت” کے رد میں لکھی گئی
جو ـ اظہار حقیقت ـ کے نام سے موسوم ہے.

پھر
حضرت حافظ حنیف شاہ علیہ الرحمہ کی کتاب. ـ *انوار قادری.ـ
جوکہ حضور شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کی سوانح حیات پہ مشتمل ہے.
اس کی ترتیب فرماںٔی.

حضرت طالب القادری علیہ الرحمہ مسلسل اسلام دشمن عناصر کا قلعہ قمع بھی کرتے رہے.
جوکہ ان کے اس شعر سے واضح ہوتا ہے.

جب تک بدن میں جان ہے طالب خدا گواہ
ایوان کفر وشرک کو ڈھاتا رہونگا میں.

حضرت طالب القادری
سیدی سرکار اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کے بہت بڑے شیدائی تھے.
ہمیشہ ان کی خدمات کا تذکرہ اپنی تقاریر میں فرماتے.

اعلٰی حضرت کا لکھا ہوا ایک کلام ہمیشہ ان کی زبان پر رہتا.

وہ کمال حسن حضور ہیں کہ گمان نقص جہاں نہیں.

لوگ بتاتے ہیں کہ حضرت
اس کلام کو پڑھتے ہی خوب روتے پھر مسکراتے.

بیعت و خلافت
ایام طفولیت ہی میں شاہ غلام رسول مولائی علیہ الرحمہ گوری گاواں شریف ریپورہ مظفرپور خلیفہ شاہ مولا علی لعل گنجوی علیہ الرحمہ کے ہاتھوں پر بیعت سے شرف یاب ہوئے
پھر قطب مظفرپور الحاج الشاہ محمد تیغ علی قادری فریدی آبادانی علیہ الرحمہ سرکانہی شریف نے 1949ء کے قریب چاروں سلاسل کی سند اجازت و خلافت سے بہرور فرمایا۔

اولاد.
حضرت طالب القادری علیہ الرحمہ کی چار صاحبزادیاں ہوئیں.

اور ایک صاحبزادہ حضرت مولانا الحاج شہاب الدین قادری تیغی علاںٔی موجودہ سجادہ نشیں ہیں ۔
جو الحمدللہ اپنے والد بزرگوار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدمت دین میں مصروف ہیں.

وصال!

ایک دن بیمار ہوئے علالت بڑھتی رہی.
افاقہ نہ ہوا.
دوران علالت مریدین حاضر خدمت تھے کہ
قریب رکھی ہوئی تسبیح سے زور کی آواز ہوئی
لوگ گھبرائے.
حضرت نے فرمایا گھبراؤ نہیں لاؤ تسبیح مجھے دو یہ مجھے یاد کر رہی ہے.
تسبیح کا ان کے ہاتھ جانا تھا کہ آواز بند ہوگئی.

تقریبا دو ہفتے علیل رہنے کے بعد
بتاریخ ۲/جمادی الاخرٰی ۱۴۰۶ھ
مطابق. ۲۳/فروری ۱۹۸۵ء
بروز ہفتہ
بوقت بارہ بجکر بیس منٹ پہ دن میں
رشد وہدایت کا یہ آفتاب داعئ اجل کو لبیک کہہ دیا.

فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری
ہزاروں رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تجھ پر.

بتایا جاتا ہیکہ وصال کے بعد آپکی پیشانی سے مسلسل پسینہ نکل رہا تھا
اور لبوں پر مسکراہٹ تھی.

گویا ان کی مسکراہٹ یہ بتارہی تھی کہ.

پوچھتے انجام کیا ہو عشق کا اب دوستو
ہوگیا طالب شہید الفتِ تیغ علی

اللہ تبارک وتعالٰی اپنے پیارے حبیب کے صدقے ان کے مرقد انور پہ رحمت وانوار کی موسلا دھار بارش برسائے

اور ان کے فیض سے ہم سبھوں کو مستیفیض فرمائے.

آمین. بجاہ سیدالمرسلین وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقه وعلٰی اٰله واصحابه اجمعین.

عرس مبارک
جلسۂ خاص
ہرسال چاند کی تاریخ سے ۲/جمادی الاخرٰی کو صبح سے وقت قل شریف تک
اور

انگریزی تاریخ سے ہر سال
۲/اپریل کو بعد عشاء تا فجر
جلسۂ عام….

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے