مانک پور: عرس سید راجی حامد شاہ مانکپوری رحمۃ اللہ علیہ سے علما کا خطاب

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

مانکپور/کنڈہ/پرتاپ گڑھ: 2اپریل، ہماری آواز(ضٰاءالمصطفیٰ ثقافی) کنڈہ تحصیل کے مانکپور میں ہر سال کی اس سال بھی بڑی شان وشوکت کے ساتھ عرس راجی حامد شاہ منعقد ہواجس کی سرپرستی مفتی شاہ نواز عالم ازہری اور صدارت مولانا ضیا المصطفی ثقافی نے انجام دیا مقرر خصوصی کی حیثیت سے پرتاپ گڑھ سے آئے مولانا محمود ریاض رضوی سیرت اولیاء اللہ پر مدلل ومفصل خطاب فرمایا انہوں نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی دنیا میں بے شمار مخلوق کو پیدا فرمایا لیکن ان بے شمار مخلوق میں کچھ ایسی مخلوق ہیں جس کی عظمت وسیرت دیگر مخلوق کے مشعلہ راہ ہے جس کی سیرت وکردار پر عمل کرکے انسان اپنی دنیا وآخرت کی زندگی سنوار سکتا ہے مزید انہوں نے کہا کہ جن کے عرس میں ہم سب حاضر ہیں یہ کوئ عام نہیں ہے بلکہ ایک ایسی شخصیت کا نام راجی حامد شاہ ہے جن کے علمی وروحانی مقام سے شہر جون پور آباد ہے جس کو جون شہر کی ولایت عطا کیا گیا تھا، مزید انہوں نے کہا کہ سید راجی حامد شاہ جمال ولایت اور کمال تصرف کے ساتھ شہر جون میں داخل ہوئے تو پورے شہر جون اور اطراف ونواحی میں آپ کا غلغہ مچ گیا مولانا نے آپنے آخری بیان میں کہا کہ آج ہم سب اللہ کے ولیون سے محبت کا دعوی کرتے تو ہیں لیکن ہماری یہ محبت سچی نہیں ہے بلکہ سچی محبت کرنے والے شخص کی نماز نہیں ترک ہوتی ہے اور آج ہم اللہ کے ولیوں کے آستانہ پر چادر کے لئے نہ جانے کتنے پیسہ خرچ کرتے ہیں اس کی جگہ پہ ہم سب کو صاحب آستانہ کے عرس کے موقع پر غریب لڑکیوں کی شادی میں کرانا چاہئے عرس کے پروگرام میں تاکہ یہ ایک یادگار رہے لیکن آج جو حالات ہیں آستانوں کی اسکا کسی طرح بھی شریعت وطریقت سے کوئ تعلق نہیں ہے، پروگرام کے سرپرست اعلی مفتی شاہ نواز عالم ازہری نے صاحب عرس راجی حامد شاہ کی سیرت پہ روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ راجی سید حامد شاہ مخدوم حسام الحق مانکپوری کے مرید وخلیفہ تھے اپنے عہد کے کبار وفضلائے زمانہ میں سے تھے تصوف میں بہت عالی شان بلند حال اور انتہائ دل پسند مرتبہ رکھتے تھے مفتی صاحب نے اپنی آخری بیان میں مجمع سے خطاب کرکے کہا کہ سید راجی حامد شاہ کے عرس میں ہم سب حاضر ہیں ہم سب کو یہاں یعنی بزرگوں کے در سے درس وعبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، نبی پاک کی سیرت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جلسہ وعرس میں خرچ پر کنٹرول کرنے کی ضرورت یے زیادہ منہگے جلسہ کرنے کے بجائے تعلیم پر غریب ویتیم وبے سہاروں کے سہارا بنے کی ضرورت ہے، مزارات پر زیادہ چادر چڑاہنے کے بجائے غریب بچیوں کی شادی میں مدد کرنے کی ضرورت ہے، جلسہ کی نظامت مولانا ارمان اویسی اور تلاوت کے فرائض انجام قاری یونس حنفی نے دیا جبکہ مولانا شاداب رضا مولانا عاقل وسید حیدر علی علی گڑھی وعبد الوکیل وحافظ ذاکر وجاوید برقی نیپالی نے خراج عقیدت پیش کیا اس موقع پر مولانا شریف قاری ساجد قاری نزاکت وعبید مانکپری وبھائ جان مانکپوی موجود رہے کمیٹی کے رضوان قریشی سبھاسد ونسیم بھائ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا مفتی شاہ نواز عالم ازہری کی دعا پہ عرس کا اختتام ہوا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ضیاءالمصطفیٰ ثقافی

Check Also

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول بھی کالے پڑ گئے

ازقلم: محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یوپی مکرمی! یہ بات سب کو معلوم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔