اصلاح معاشرہ نظم

نظم: سکوں جہیز کی دولت سے جا نہیں آتی

نتیجۂ فکر: شمس الحق علیمی، مہراج گنج

سکوں جہیز کی دولت سے جا نہیں آتی
ضمیر زندہ تو ہے کیا صدا نہیں آتی؟

جگر کے ٹکڑے کو والد نے دے دیا تم کو
"جہیز مانگ رہے ہو حیا نہیں آتی”

یہاں جہیز کے جو بھی حریص ہیں اُن کو
کسی کے نورِ نظر پر دیا نہیں آتی

جلا رہے ہو بہو کو جہیز کی خاطر
تمھیں ذرا بھی بہو پر دیا نہیں آتی

جہیز کے جو مخالف ہیں اس زمانے میں
گھروں میں ان کے کبھی بھی بلا نہیں آتی

سدا جہیز کی رٹ جو لگاتے ہیں اُن کے
لحد میں خلد سے ٹھندی ہوا نہیں آتی

اگر جہیز نہ ہو تو کسی کی بیٹی کی
زمین ہند سے ہرگز صدا نہیں آتی

بہت بری ہے نحوست جہیز کی شمسی
سوائے توبہ کے اس کی دوا نہیں آتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے