مذہبی مضامین

خدا کی شان! وہ نادان ہمیں گونگا سمجھتا ہے

تحریر: محمد مجیب احمد فیضی
email:faizimujeeb46@gmail.com
رابطہ نمبر 8115775931

ایک ٹمٹماتے اور بجھتے ہوئے چراغ نے سورج کو آنکھ دکھانے کی احمقانہ کوشش کی ہے۔منزل من السماء کتاب (قرآن)جو آج بھی بے شمار حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہے۔پوری دنیا کے مسلمانوں کی شان اور ملت طاہرہ کی آن ہے۔اس کو نقصان پہونچانے کی مکمل سعئ نجس کوئ عقل سے عاری وخالی انسان کے علاوہ یہ حماقت کون کر سکتا ہے۔ابھی ماضی قریب میں ایک ملعون ومردود لائق سب و ستم "وسیم رضوی ” نامی ایک بد بخت کمبخت شخص نے آیات قرآنیہ کو حذف کرنے کے واسطے عدالت عظمی کادروازہ کھٹکھٹایا اس کی یہ حرکت صاف صاف ظاہر کرتی ہے کہ واقعی یہ چال کسی بدمذہب شیطان مردود کی ہے جس نے ملعون وسیم رضوی جیسے اعلی قسم کے جاہل اور ولڈ کے مستند منافق اور نمبر ایک بے غیرت شخص کا استعمال کیا ہے۔ لیکن قرآن کی آیتوں کا بدلنا یا حذف کرنا تو کجا ایک حرف کو بدلنے کی کسی انسان تو کیا کسی مخلوق کی طاقت وقوت میں نہیں۔
یقین نہ ہو تو عدالت عظمی کے سارے کے سارے اراکین اس پر طبع آزمائ کرلیں اس کی عظمت ورفعت کا اندازہ خودبخود لگ جائے گا۔ساڑھے چودہ سو بر س کاایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کے حرکات وسکنات پر فرق نہیں آیا اور قیامت تک آئے گا بھی نہیں کیوں کہ اس کی تحفظ وبقا کی ضمہ داری اللہ جل مجدہ الکریم نے اپنے ضمۂ کرم پر لیا ہے اور ارشاد فرمایا” بیشک ہم نے ہی قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں” اتنی بلند رتبہ کتاب ہے کہ جس کی حیثیت اور پاکی کی آج بھی قسم کھائ جاتی ہے اور رہتی دنیا تک کھائ جائے گی۔چار آسمانی بڑے کتابوں میں قرآن ہی وہ واحد اور آخری کتاب ہے جسے ام الکتاب کہاگیا ہے۔یہ وہ واحد اور لاجواب کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ رب کردگار نے خود لیا ہے۔اور تینوں آسمانی کتب تورات ہو یا زبور یاپھر انجیل مبارک سب میں اہل کتاب اور ان کے علماء نے مل جل کراپنی مرضی اور منشاء کے مطابق ردوبدل تحریف کرلیا اور وہ کتب سماویہ آج اپنی اصلی شکل میں باقی نہ رہیں۔مگر حضور تاجدار مدینہ سرور قلب وسینہ سید المرسیلن خاتم النبین روحی فداہ جناب احمد مجتبی محمد مصطفی علیۃ التحیۃ والثناء پر اللہ عزوجل نے جو کتاب نازل فرمائ وہ ہے قرآن پاک جو نہ مٹا ہے اور نہ مٹے گا۔مٹانے والے خود مٹ جائیں گے لیکن قرآن نہ مٹا ہے نہ مٹے گا۔اور پھر کلام باری مادر وطن ہندوستان کی تاریخ تھوڑی ہے, جو بدل دی جائے گی,قرآن مجید اسکول کالجز کا نصاب نہیں جسے حکومت اور عدالت بدل دے گی یا حذف کردے گی ہزارہا کوششوں کے بعد بھی نہ ارباب سیاست وسیادت اس کو مٹا سکتے ہیں اور نہ ارباب حکومت اگر یقین نہ ہو راقم الحروف کے اس چیلنج پر کوشش کر کے دیکھ لیں سوائے ذلت ورسوائ اور ہلاکت کے شاید کچھ ہاتھ نہ آئے ,قرآن اس دیش کی اردو زبان ٹھوڑی ہے جسے رکھنا یا مفقود کرنا حکام کے زیر سایہ اور ان کے بس میں ہے۔فزندان توحید کا ایمان اللہ جل مجدہ الکریم پر,اس کے رسول پر, اس کے تمام ملائکہ پر ,اس کی کتابوں پر ہے۔مسلمانان عالم کا اس بات پر ایمان ہے کہ قرآن یہ اللہ کا کلام ہے اس میں کوئ تبدیلی کر ہی نہیں سکتا کیوں کہ اس کی تحفظ وبقاء کی ضمہ داری اللہ رب العزت نے خود اٹھا رکھی ہے, کسی بھی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والا ہو, کسی بھی مسلک اور فرقے سے تعلق رکھنے والا ہو سب کا اس بات پر اعتقاد ضرور ہے کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں اس کے اندر قیامت تک زیر زبر پیش کا فرق پڑ ہی نہیں سکتا۔ملعون ومقہور عذاب خداوندی کا مکمل حقدار وسیم رضوی نے اپنا یہ ناپاک قدم اٹھا کر یہ ثابت کردیا کہ شیطان کی طرح اسلام جیسے پاک اور پوتر دھرم کا کھلا ہوا دشمن ہے۔اسلام دشمنوں یعنی اغیاروں نے خود اسے دفنانے کے لئے اسی کے ہاتھ سے اس کی قبر کھدوائ ہے,اس لئے وہ اسلام دشمنوں کا آلۂ کار بنا ہوا ہے۔اسلام کی پاک اور مقدس کتاب جس شعبۂ حیات کے تمام کا حل موجود ہے جو جینے کا صحیح سلیقہ اور انسانیت کے مکمل آداب سکھاتی ہے۔اس کتاب کو جادوگر نما جاہل ,ضمیر کےسوداءگر جیسے شخص نے چیلنج کیا۔ہائے افسوس صد افسوس!!! وسیم رضوی کو باالفور اپنا نام بدل لینا چاہیئے ۔وہ مسلمانوں کے نام پر ایک انمٹ کلنک اور دھبے کی مثل ہے۔اس کی بولی اور حرکت بتا رہی ہے کہ یہ اندھ بھگتوں اور حکومت کے چاپلوسوں کی بولی بول رہا ہے۔یہ ملعون جس عہدے پر ہو اس کو فوری طور پر برخاست کیا جائے,اور سپریم کورٹ سے اپیل کی جائے کہ ایسی درخواست کو نہ صرف رد کیا جائے بلکہ اس ملعون کو قرآن کے توہین کے جرم میں سخت سے سخت سزا تجویز کرے ,تاکہ اس کی طرح پھر کوئ سر پھرا دوبارہ قرآن کے متعلق لب کشائ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔اور اس کی تمام ملکیت جو ایک مسلم گھرانے سے ملی ہیں سلب کر جائیں۔اور سچ تو یہ ہے کہ اس مردود کا یہ عمل واقعی معافی کے قابل نہیں۔اس نے ام الکتاب یعنی قرآن مجید پر انگلی اٹھا کر یہ ثابت کردیا کہ اس کی حیثیت کیا ہے۔بی جے پی جیسی غیر مناسب پارٹیوں میں شامل شدہ بنام مسلمانوں کو ہوکیا گیا ہے? کیا دولت دنیا اتنی طاقتور ہے کہ اس سے ایمان کا سوداء ہو سکے۔لعنت بھیجتے ہیں ہم ایسے جاہل ضمیر فروش بنام مسلمان پر ,ایسے لوگوں کے بارے میں کلام باری میں آیا ہے کہ آخرت میں ان لوگوں کے لئے کوئ حصہ نہیں ہے۔اخیر میں میں رب کردگار کی بارگاہ صمدیت میں دست بدعاء ہوں کہ میرے مالک امت مسلمہ دلوں میں فرقان حمید کی خوب خوب محبت ڈال دے ۔ قرآن کے متعلق صحیح سوجھ بوجھ کی توفیق بخش دے۔آمیں یا رب العلمین بجاہ سیدالمرسلین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے