غزل

غزل: ہے ردیف اور قافیہ ہی نہیں

خیال آرائی: اشتیاق احمد شوق، ممبئی

جام الفت کا جو پیا ہی نہیں
زندگی اس نے پھر جیا ہی نہیں

لاکھ تکلیف جھیلتا میں رہا
نام تیرا مگر لیا ہی نہیں

جلوۂ یار تھا میسر، پر
تیرگی میں کوئی، دِیا ہی نہیں

نقشِ الفت مٹا دیا دل سے
پیار کی دل میں اب ضیا ہی نہیں

اس زمیں کے سفر پہ نکلا ہوں
"ہے ردیف اور قافیہ ہی نہیں”

یہ حقیقت نہیں فسانہ ہے
شوق نے ایسا کچھ کیا ہی نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے