نرسنھانند کی دریدہ دہنی اور توہینِ رسالت کے بڑھتے معاملات

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر: شمیم رضا اویسی امجدی
شعبہ تحقیق فی الفقہ جامعہ امجدیہ رضویہ مدینۃ العلماء گھوسی مئو

مذہب اسلام کے ماننے والوں کا ہر دور میں شر کی بادِ صرصر، اہلِ باطل کی شر انگیزیوں، کفر کی بلا خیز آندھیوں اور شاتمانِ خدا و رسول کی فتنہ بازیوں، زبان درازیوں اور فسوں طرازیوں کا سامنا ہوتا رہا ہے، لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھیلنے انہیں اشتعال دلانے اور ذلیل و رسوا کرنے کے لیے اسلام دشمن طاقتوں نے ایک ایسا انداز اپنایا ہوا ہے کہ ہر چند مہینوں میں کوئی نہ کوئی دریدہ دہن، شیطان صفت انسان ایک نئے طرزِ اذیت ایک نئے انداز تمسخر اور ایک نئے طریقِ سلب و نہب کے ساتھ اسلامی شعائر، پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت اور قرآن کریم کی تعلیمات کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے اپنی اندرونی غلاظت کا اظہار کرتا ہے،

بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ناپاک شرارتیں محض ایک انفرادی حیثیت رکھتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انکے پیچھے ایک منظم اور سوچی سمجھی سازشیں کارفرما ہوتی ہیں، جنکا مقصد یہ ہوتا کہ مسلمانوں کو ہر طرح سے بے بس، لاچار، ہراساں اور خوفزدہ کیا جائے اور انکے خلاف ایک نفرت اور انتشار کی کیفیت پیدا کی جائے، یہی وجہ ہے کہ کبھی فسادات کے ذریعے گجرات کے اندر مسلمان بستیوں کو آگ لگا کر بھسم کرنے کا کھیل کھیلا جاتا ہے، کبھی مظفر نگر اور دہلی جیسے شہروں میں مسلمانوں پر جبر و تشدد کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، کبھی کشمیر کی سرزمین پر بم اور بارود کی بارشیں کر کے مسلمانوں کے خون کی ہولیاں کھیلی جاتی ہیں، کبھی معصوم ماں، بیٹی اور بہنوں کی عصمت دری کر کے انکی عزتِ نفس کو تار تار کیا جاتا ہے، کبھی بے قصور مسلمانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر کے انکی زندگیوں کو تباہ کیا جاتا ہے اور یہ سب کرنے کے باوجود بھی جب انکی ظالم طبیعت پورے طور پر سیر آسودہ نہیں ہوتی تو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کر کے انہیں اذیت پہونچانے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں ،

اور افسوس کہ اب تک اس پیرائے میں ناموسِ رسالت پر حملے کے واقعات بکثرت رونما ہوتے چلے آ رہے ہیں، کبھی پنڈت دیانند سرسوتی "ستیارتھ پرکاش” اور راج پال جیسے خبیث "رنگیلا رسول” نامی کتابیں لکھ کر پیغمبر اسلام کی ناموس پر حملہ کرتے ہیں، کبھی نام نہاد مسلمان تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی جیسے حرامی النسل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی منزہ حیات اور مطہر شخصیت کو داغدار کرنے کی بے ہودہ جسارت کرتے ہیں، کبھی کملیش تیواری اور اس جیسے بے شمار ناعاقبت اندیش تاجدار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر کے مسلمانان عالم کو تکلیف دینے اور اذیت پہونچانے کی سعی مذموم کرتے ہیں،
غرضیکہ گزشتہ کچھ عرصوں میں انسانیت کے مجرم بدبختوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان اطہر میں طعن و تشنیع کرنے کو ایک مہم اور مشن کے طور پر اپنا لیا ہے،

اور اسی ناپاک مہم کو برقرار رکھتے ہوئے حالیہ دنوں غازی آباد میں واقع شیو شکتی مندر کا پجاری یتی نرسنگھا نند سرسوتی جو ایک مسلح گنڈوں پر مشتمل "ہندو سوابھیمان” نامی تنظیم کا بانی ہے اور اپنے سخت گیر خیالات کے لیئے کافی مشہور ہے، ماضی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس نے بے شمار وڈیوز اور اشتعال انگیز بیانات جاری کیئے ہیں، دلی کے فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے میں اس شخص کا ایک کلیدی رول تھا لیکن بی جے پی لیڈران کی بشت پناہی کے باعث اس معاملے میں مکمل طور پر سرگرم رہنے کے باوجود بھی ہر طرح کے کیسز سے محفوظ و مامون رہا،

یہ نطفہ نامعلوم اسلام کے خلاف جب اپنی غلاظت کا اظہار کرتا ہے تو کہتا ہے،،
” میں صرف اسلام سے لڑتا رہا ہوں میرا مقصد پوری روئے زمین سے(معاذاللہ) اسلام نام کی گندگی کو ختم کرنا ہے، اسلیئے کہ اگر اسلام ختم نہ ہوا تو دنیا سے کبھی انسانیت ختم نہیں ہو سکتی”

کبھی جہاد کے مفہوم کو غلط طور پر پیش کرکے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے انہیں آتنکواد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے

کبھی ہندو دھرم کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے ہوئے کہتا ہے،،
"جو شخص اپنے پاس ہتھیار نہ رکھے میں اسے ہندو ہی نہیں مانتا، اسلیئے کہ تمام دیوی دیوتاؤں کے ہاتھوں میں ہتھیار ہیں لہٰذا تمام ہندوؤں کو اب تیاری کرنی پڑے گی”

مزید کہتا ہے،،
” ہر ہندو بھائی کے گھر میں 5_6 بچے پیدا ہونے چاہئیں، اور جسکے پاس 5_6 سے کم بچے ہونگے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی نسل کو برباد ہوتے ہوئے دیکھے گا "

کبھی ہندوؤں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے،،
” مسلمانوں نے اپنے باپ، دادا، بھائی، چچا تک کو قتل کر دیا تم ان سے اپنے زندہ رہنے کی امید کیسے کر سکتے ہو "

اور گزشتہ دنوں تمام تر حدیں پار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ،،
"اگر محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا سچ دنیا کے مسلمانوں کو پتہ چل جائے تو مسلمانوں کو انکے مسلمان ہونے پر شرم آئے گی” معاذاللہ صد بار معاذاللہ

مزید کہتا ہے کہ،،
"محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) کے شوہر کو قتل کرکے ان سے شادی کر لی ” نعوذبااللہ من ذالک

انکے ماسوا بھی بہت ایسی جسارتیں اس نجس العین نے شان رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں کی ہیں جو ناقابل بیان اور ناقابلِ برداشت ہیں،

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے رہینگے، آخر کب تک اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کو ایذا اور تکلیف پہونچانے کا سلسلہ قائم رہے گا، کب تک مسلمانوں کے خلاف منافرت اور شدت پسندی کا بیج بویا جائے گا، کب تک انکے پیشواؤں کے خلاف توہین آمیز جملے بکے جائینگے! کیوں نہیں ان توہینِ رسالت کے مرتکبین کے لیئے کوئی سخت قانون بنایا جاتا، کیوں نہیں مذہبی پیشواؤں کے خلاف لب کشائی اور خامہ فرسائی کی جرات پر لگام لگائی جاتی، کیوں نہیں انکے خلاف لکھی گئی کتابوں کی اشاعت پر پابندی نافذ کی جاتی، مگر افسوس کہ ایسے موقعے پر ہمہ وقت مسلمانوں کی قیادت کا راگ الآپنے والے قائدین بھی خاموشی اور غفلت کی چادریں اوڑھ نہ جانے کہاں روپوش ہو جاتے ہیں، اگر کبھی کسی کی احتجاج بھری ہلکی سی آواز نکلتی بھی ہے تو چند لمحوں کے بعد اس پر ایک مہیب سناٹا طاری ہو جاتا ہے،

اے کاش اگر کم از کم مسلمان ممالک کے حکمران ہی اس کی طرف توجہ دیتے اور ایسے لوگوں کو سبق سکھانے کے لئے محض ایک دن کے لیئے ان لمبی زبانوں اور انکے ممالک کا معاشی مقاطعہ کرتے تو شاید دشمن بغیر کسی جنگ کے ہی سیدھا ہو جاتا، اور اپنے ناپاک عزائم سے فی الفور باز آ جاتا!

رب قدیر اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور اسلام دشمن طاقتوں اور انکے باطل منصوبوں کو ناکام بنائے، آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

دینی آزمائش

تحریر: محمد توحید رضا علیمیخطیب مسجدرحیمیہ میسور روڈ جدید قبرستان، بنگلورمہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔