مراسلہ

بھاری مصیبت اور بڑی ضرورت

ازقلم: طارق انور مصباحی، کیرالہ

چھوٹی مصیبتوں اور معمولی ضرورتوں میں احباب واقارب ہاتھ بٹاتے ہیں اور ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں,لیکن اس سے دھوکہ نہ کھائیں۔

بڑی مصیبتوں میں اور بڑی ضرورتوں میں بہت سے رشتہ دار وقرابت دار اور بہت سے دوست واحباب کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

ایسے سخت مواقع پر خونی رشتہ دار کی اکثریت اور دوستوں کی اقلیت آپ کے ساتھ ہوتی ہے۔

زندگی کے بیتے ہوئے حصوں کا تجزیہ کریں۔اپنے سچے ہمدردوں اور وقتی ٹائم پاس دوستوں میں فرق وتمیز پیدا کریں۔اللہ تعالی اور اس کے نیک بندوں سے نزدیکی پیدا کریں۔

بہت مشہور مقولہ ہے: اللہ مہربان تو بندہ پہلوان

جو لوگ آپ کی بڑی مصیبتوں اور اہم ضرورتوں میں آپ کا ساتھ دیتے ہوں,ان سے روابط وتعلقات مضبوط رکھیں۔ٹائم پاس دوستوں کو وقت کم دیں اور ان اوقات کو ذکر خداوندی,درود شریف اور بزرگوں کی یاد میں صرف کر دیں۔

اگر بات سمجھ میں آ گئی تو ٹھیک ہے,ورنہ دو تین بار پڑھیں اور اپنی زندگی کے گزرے ہوئے لمحات کا مطالعہ فرمائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے