رمضان المبارک مذہبی مضامین

مسائل رمضان: فقہ شافعی کی روشنی میں

رَمضان، یہ ’’ رَمَضٌ ‘‘ سے بنا جس کے معنٰی ہیں ’’ گرمی سے جلنا ۔ ‘‘ کیونکہ جب مہینوں کے نام قدیم عربوں کی زبان سے نقل کئے گئے تو اس وَقت جس قسم کا موسم تھا اس کے مطابق مہینوں کے نام رکھ دے گئے اِتفاق سے اس وَقت رمضان سخت گرمیوں میں آیا تھا اسی لئے یہ نام رکھ دیا گیا۔
(اَلنِّہَایَۃ لِابْنِ الْاَثِیر ۲ص۲۴۰) حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں :
بعض مفسرین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے فرمایا کہ جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو جس موسم میں جو مہینا تھا اُسی سے اُس کا نام ہوا ۔جو مہینا گرمی میں تھااُسے رَمضان کہہ دیا گیا اور جو موسم بہار میں تھا اُسے ربیعُ الْاَوّل اور جو سردی میں تھا جب پانی جم رہا تھا اُسے جُمادَی الْاُولٰی کہا گیا
(تفسیر نعیمی ج ۲ص۵ ۲۰ )
رَمضان میں پانچ حروف ہیں ر، م، ض، ا، ن۔رسے مراد رَحمتِ الٰہی، میم سے مراد مَحبّتِ الٰہی ، ض سے مراد ضمانِ الٰہی، اَلِف سے امانِ اِلٰہی، ن سے نورِ الٰہی۔اور رَمضان میں پانچ عبادات خصوصی ہوتی ہیں : روزہ، تراویح، تلاوتِ قراٰن، اِعتکا ف ، شبِ قَدر میں عبادات ۔تو جو کوئی صِدْقِ دِل سے یہ پانچ عبادات کرے وہ اُن پانچ اِنعاموں کا مستحق ہے۔
(تفسیر نعیمی ج۲ص۲۰۸)

روزہ کی لغوی تعریف
ہر چیز سے روکنا اور باز رہنا
(البیان ج 3 ص 457)

روزہ کی شرعی تعریف
پیٹ،شرمگاہ اور منہ کی شہوت کو اللہ کی اطاعت میں نیت کے ساتھ فجر کے پہلے سے غروب تک روکنا
(حاشیۃ الجمل ج3ص 395)
(مغنی المحتاج ج1ص 567)
(المعتمد ج2ص 155)

سوال
رمضان کے روزے کس مہینے میں فرض ہوے؟

جواب
رمضان مبارك کے روزے ہجرت کے دوسرے سال ماہ شعبان میں فرض ہوے..

وفرض رمضان في شعبان ثاني سني الهجرة
(تحفة المحتاج 3/370)
(مغني المحتاج 2/140)
سوال
روزہ کی فرضیت کے منکر کا کیا حکم ہے؟
🖊جواب:🖊
روزہ کی فرضیت کا انکار کرنے والا اسلام کے دائرہ سے نکل جاتا ہے لیکن اگر اس کی فرضیت کا تو منکر نہیں ہے مگر بغیر عذر کے روزہ نہیں رکهتا ہے اور کہتا ہے:- "روزہ مجھ پر فرض ہے لیکن میں روزہ نہیں رکھوں گا” تو اسے(اسلامی حکومت ہوتو) قید میں رکھا جائے گا اور دن میں کھانے پینے نہیں دیا جائے گا تا کہ اس کے ذریعہ روزہ صورت حاصل ہوجائے۔
بغیر عذر کے رمضان کا روزہ نہ رکھنے والا گناہ گار ہے
يجب صوم رمضان وهو معلوم من الدين بالضرورة فمن جحد وجوبه فهو كافر…
و من ترك صومه غير جاحد من غير عذر …حبس ومنع الطعام والشراب نهارا ليحصل له صورة الصوم بذلك .
(مغنی المحتاج ج ١ص٤٢٠)
سوال
نبي كريم صلي الله عليه وسلم نے اپنے زندگی میں ماہ رمضان کے روزے کتنے سال رکھے؟

جواب
نبي کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زندگی میں ماہ رمضان کے روزے 9سال رکھے…
فیکون صلي الله عليه وسلم صام تسع رمضانات

(حاشية البجيرمي 2/371)
(إعانة الطالبين 2/242)
(حاشية الجمل 2/302 )
(حاشية الشرواني 3/370)

سوال
حضور ﷺ کو اپنی زندگی میں کتنے رمضان مکمل 30 دن کے ملے؟

جواب
حضور ﷺ کو اپنی زندگی میں ایک رمضان 30 دن کا ملا باقی 29 کے ملے

وكان حكمة «أنه – صلى الله عليه وسلم – لم يكمل له رمضان إلا سنة واحدة والبقية ناقصة
( تحفة المحتاج 3/370 )
(حاشية البجيرمي 2/371 )
(إعانة الطالبين 2/242)
(حاشية الجمل 2/302 )

سوال
کیا رمضان کے روزے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے؟

جواب

نہیں رمضان کے روزے یہ امت محمدیہ ﷺ کی خصوصیت ہے۔
فُرِضَ الصَّوْمُ فِي شَعْبَانَ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ الْهِجْرَةِ وَشَهْرُهُ أَفْضَلُ الشُّهُورِ وَهُوَ مِنْ خَصَائِصِ هَذِهِ الْأُمَّةِ
(التجريد لنفع العبيد 2/63)
(حاشية الجمل 2/302)
(فتح المعين مع الحاشية 2/242 )

روزہ کو توڑنے والی چیزیں کیا ہیں؟

روزہ کو توڑنے والی چیزیں یہ ہیں
(1)جان بوجھ کر کھانا پینا(2)کان ناک جا شرمگاہ میں دوا وغیرہ ڈالنا
(نوٹ) کان میں بڈ ڈالنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے
جان بوجھ کر سے کرنا،اگر خود بخود سے نکلے تو روزہ نہیں ٹوٹتا(4) شرمگاہ میں وطی کرنا،یعنی حشفہ کا دا خل کرنا چاہے منی خارج نہ ہو (5) ہاتھ سے منی نکالنا،اگر سوچنے دیکھنے یا سونے میں منی نکلے تو روزہ نہیں ٹوٹتا (6)حیض کا آنا(7)نفاس کا آنا(8)پاگل ہونا(9)مرتد ہونا
(مغنی المحتاج ج1ص 58)

روزہ کے مستحبات

روزہ کے مستحبات یہ ہیں
(1) سحری کرنا(2) سحری میں تاخیر کرنا(3) جھوٹ،غیبت،چغلخوری،گالی گلوج،جھگڑے وغیرہ سے زبان کو محفوظ رکھنا(4)سورج ڈوبنے کے بعد افطار میں جلدی کرنا(5)افطار کے بعد یہ دعا پڑھنا اللھم لک صمت وعلی رزقک الفطرت ذھب الظما وابتلت العروق وثبت الاجر ان شاءاللہ تعالیٰ (6)کھجور یا پانی سے افطار کرنا
(المجموع ج1ص 322 )
(الاقناع ج1ص204)
روزہ کے مکروہات
(۱)بحالت روزہ زوال کے بعد مسواک کرنا(۲)طلوع صادق سے غروب آفتاب تک خوشبو لگانا(۳)بلاضرورت کسی چیز کو چکھنا یا چبانا(۴)غسل کے وقت پانی میں غوطے لگانا(۵)کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے وقت مبالغہ کرنا
(تحفۃ المحتاج ج ۳ ص ۴۸۹ تا ۵۰۴)

سوال
روزے کے کتنے فرائض ہیں؟

جواب
روزے کے دو فرائض ہیں
1)ہر دن کے روزے کی نیت کرنا
2)روزے کو توڑنے والی چیزوں سے رکنا.
فروض الصوم اثنان:الأول النية لكل يوم و الثاني الإمساك عن المفطرات
(خلاصة الفقه الاسلامي ،الجزء الثاني،١٩٤)

سوال: روزہ واجب ہونے کے شرائط کیا ہیں ۔؟

جواب: روزہ واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں ۔(١)مسلم ہو (٢)بالغ ہو (٣)عقلمند ہو (٤)روزہ رکھنے پر قادر ہو
وشرائط وجوب الصیام اربعتہ اشیاء الاسلام۔والبلوغ۔والعقل والقدرہ علی الصوم
(تیسیر الاقناع ج٢ص١٠۔١١)

سوال: فرض روزے کے نیت کی کتنی شرائط ہے۔؟

جواب: فرض روزے کے نیت کی دو شرائط ہے۔
1)رات میں نیت کرنا یعنی سورج کے غروب ہونے کے بعد سے فجر صادق کے طلوع ہونے سے پہلے نیت کرنا
2)تعین یعنی جو روزہ رکھنا ہے اس کی نیت کرنا
(و شرط فرضه) أي الصوم و لو نذرا أو كفارة او صوم استسقاء امر به الامام(تبييت) ….(و تعيين)….نويت صوم رمضان
(اعانة الطالبین ،الجزء الثاني،٢٢٢،٢٢٣،٢٢٤)

سوال: کیا رمضان کے پورے مہینے کے روزے کی نیت ایک ساتھ کرسکتے ہیں؟

جواب: جی نہیں ہر روزے کے لئے الگ نیت کرنی پڑےگی

وَيُشْتَرَطُ التَّبْيِيتُ لِكُلِّ يَوْمٍ؛ لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ مُسْتَقِلَّةٌ
(تحفة المحتاج 3/387 )
(الاقناع 1/235 )
(مغني المحتاج 2/149 )
سوال
سحری کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟
جواب
سحری کا وقت آدھی رات گزرنے کے بعد شروع ہوتا ہے.
و يدخل وقته بنصف الليل….هنا
(مغني المحتاج ج۲ ص۱۴۷)
التسحر في نصف الليل الأخير
(خلاصة الفقه الاسلامي الجزء الثاني،ص١٩٤)
سوال
کب تک سحری کھانا سنت ہے؟
جواب
اتنی دیر تک سحری کھانا سنت ہے کہ فجرِ صادق (فجر کا وقت شروع ہونے) میں ۵۰ آیت پڑھنے کی مقدار وقت باقی رہے لہذا فجر کا وقت شروع ہونے میں قرآن کی ۵۰ آیت پڑھنے کی مقدار میں وقت باقی ہو تو اب کھانا اور پینا چھوڑنا سنت ہے.
(قوله: و تأخيره) أي بان يفعله اذا بقي بينه و بين الفجر خمسون آية للاتباع كردي
(📚ترشيح المستفدين١٦٤ )

سوال
کتنا کھانے سے سحری ہوجائے گی ؟
جواب
تھوڑا کھانے سے بھی سحری کھانا کہلاتا ہے, اِسِی طرح زیادہ کھانے سے بھی سحری ہوتی جاتی ہے.
و يحصل بقليل المطعوم و كثيره لخبر<<تسحروا و لو بجرعة ماء>>
(نهاية المحتاج الجزء الثالث،١٨١)

سوال
سحری کھانا کب سنت ہے
جواب
رمضان اور رمضان کے علاوہ مہینوں میں روزہ رکھنے والے کے لیے سحری کھانا سنت ہے.
و سن لصائم رمضان و غيره تسحر
(فتح المعين١٩٨)

سوال
افطاری کب کرنا چاہئے
جواب
جب سورج کے غروب ہوجانے کا یقین ہوجائے تو افطاری میں جلدی کرنا سنت ہے.
و سن تعجيل الفطر اذا تيقن الغروب
(فتح المعين١٩٨)

سوال
افطاری کس سے کریں؟
جواب
افطاری سوکھی کجھور سے کرنا سنت ہے اور سوکھی کھجور گیلی کھجور سے افضل ہے اور کجھور پر افطاری کی سنت ادا ہوجائے گی ایک کھجور سے لیکن تین کھجور سے افطاری کرنے سے کجھور کے ذریعے افطاری کرنے کی پوری سنت حاصل ہوگی.
و يسن كونه و ان تأخر كما افادته عبارة اصله (على تمر) و افضل منه رطب…. و التثليث الذي ….شرط لكمال السنة الخ
(تحفة المحتاج ج ٣ص٤٣٠)

سوال
رمضان میں اہل وعیال پر خرچ کرنا کیسا
جواب
رمضان میں سنتِ مؤکدہ ہے اور رمضان کے آخری عشرے میں زیادہ تاکید ہے کہ زیادہ سے زیادہ صدقہ کیا جائے, اہل و عیال پر خرچ میں کشادگی کی جائے(زیادہ خرچ کیا جائے) اور رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے.
(و يستحب في رمضان التوسعة علي العيال و الإحسان الى الأرحام و الجيران و اكثار الصدقة)….و المعني في ذلك تفرغ الخ
(شرح ابن حجر على المختصر،الجزء الثاني١٨٨،١٧٨)

سوال
اِفطاری کی دعا کب پڑھنا سنت ہے
جواب
اِفطاری کرنے والے کے لیے اِفطاری کی دعا کچھ کھانے کے بعد پڑھنا سنت ہے, کچھ کھانے سے پہلے یا کھاتے وقت نہیں پڑھے گا
و يسن أن يقول عقب الفطر : اللهم لك صمت، و علي رزقك افطرت الخ
(فتح المعين٢٧٩)
(وقوله:عقب الفطر) اي عقب ما يحصل به الفطر،لا قبله، و لا عنده
(اعانة الطالبين الجزء الثاني٢٧٩)

سوال
رمضان میں خوشبو کب لگائے
جواب
رمضان اور رمضان کے علاوہ مہینوں میں سحری کے وقت خوشبو لگاناسنت ہے.
(قوله:و سن تطيب وقت سحر) أي مطلقا في رمضان و غيره
(إعانة الطالبينالجزء الثاني،٢٤٥)

سوال
اِفطاری کی دعا کونسی
جواب
اَللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَ عَلَى رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَ ثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ.
تَرْجَمَہ:-اے اللہ میں نے صرف تیری رضا کے لیے روزہ رکھا اور تیرے فضل سے حاصل ہونے والے رزق پر اِفطاری کیا,پیاس بجھ گئ, رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہوا ان شاء اللہ
(خلاصة الفقه الاسلامي،الجزء الثاني١٩٥)

سوال
رمضان میں اہل وعیال پر خرچ کرنا کیسا
جواب
رمضان میں سنتِ مؤکدہ ہے اور رمضان کے آخری عشرے میں زیادہ تاکید ہے کہ زیادہ سے زیادہ صدقہ کیا جائے, اہل و عیال پر خرچ میں کشادگی کی جائے(زیادہ خرچ کیا جائے) اور رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے.
(و يستحب في رمضان التوسعة علي العيال و الإحسان الى الأرحام و الجيران و اكثار الصدقة)….و المعني في ذلك تفرغ الخ

(شرح ابن حجر على المختصر،الجزء الثاني١٨٨،١٧٨)

سوال
روزہ کی حالت میں پرفیوم اور عطریات کے استعمال کا شرعاً کیا حکم ہے
جواب
روزہ دار کے لیے اپنے نفس کو شہوت کے قبیل کی ہر اس چیز سے بچانا مندوب ہے جس سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے اس کا تعلق سونگھنے سے ہو یا دیکھنے سے ہو یا پہننے سے ہو جیسے پھول کی خوشبو سونگھنا، اسکی طرف دیکھنا اور اس کو چھونا وغیرہ وغیرہ، اور ان تمام کو فقھاء رحمہم اللہ نے مکروہ قرار دیا ہے اس لیے کہ یہ تمام چیزیں حکمت صوم کے منافی ہے.
لہذا روزہ کی حالت میں پرفیوم اور عطریات کو ترک کرنا مستحب ہے اور روزہ کی حالت میں ان کا استعمال مکروہ ہے.

علامہ زکریا انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
و) ينبغي له كف (النفس عن الشهوات) التي لا تبطل الصوم كشم الرياحين والنظر إليها ولمسها لما في ذلك من الترفه الذي لا يكاسب حكمة الصوم ويكره ذلك
(أسنى المطالب : ٤٢٢/١)
علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
و) ليصن (نفسه) ندبا (عن الشهوات) التي لا تبطل الصوم من المشمومات والمبصرات والملموسات والمسموعات كشم الرياحين والنظر إليها ولمسها وسماع الغناء لما في ذلك من الترفه الذي لا يناسب حكمة الصوم، وهي لتنكسر النفس عن الهوى وتقوى على التقوى، بل يكره له ذلك.
(مغني المحتاج : ١٦٧/٢)

سوال
رمضان میں خوشبو کب لگائے
جواب
رمضان اور رمضان کے علاوہ مہینوں میں سحری کے وقت خوشبو لگاناسنت ہے.
(قوله:و سن تطيب وقت سحر) أي مطلقا في رمضان و غيره
(📚إعانة الطالبين الجزء الثاني،٢٤٥)
سوال
روزہ کی حالت میں غسل کرنے کا کیا حکم ہے ؟
🎤جواب🎤
روزہ کی حالت میں غسل کرنا جائز ہے. لیکن غوطہ لگاکر غسل کرنے یا تیرنے کی صورت میں پانی کان کے اندر چلا جاے تو روزہ ٹوٹ جاے گا ۔ البتہ طلوع صادق سے پہلے غسل کرنا بہتر ہے…
"ومن ثم لا یضر … الاغتسال فلا یفطر بذالک وان وصل جوفه لانه لما لم يصل من منفذ مفتوح كان في حيّز العفو ولا كراهة في ذالك لكنه خلاف oالأولي”
(📚الحواشی المدینة ج٢ص١٧٦)
قال الأذرعي: لو عرف من عادته أنه يصل إلى جوفه من ذلك لو انغمس ولا يمكنه التحرز عن ذلك حرم عليه الانغماس وأفطر بذلك وهو واضح إن أمكن غسله بغير هذه الكيفية
(📚حاشية الجمل ج٣ص٤٢٢ )

سوال
کیا سر میں تیل لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے
🎤جواب🎤
سر میں تیل لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا.
(و شرط الواصل كونه في منفذ) بفتح أوله و ثالثه(مفتوح فلا يضر وصول الدهن بتشرب المسام)الخ
(📚تحفة المحتاج الجزء الثالث،٤٨٠)
سوال
روزہ کی حالت میں سرمہ لگانا کیسا
🎤جواب🎤
روزہ میں سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے سرمہ لگانے سےسرمے کا رنگ تھوک میں پایا جائے یا حلق میں سرمے کا ذائقہ محسوس ہولیکن روزے میں سرمہ لگانا خِلَافِ اَوْلی ہے.
(و لا الاكتحال و ان وجد) لونه في نحو نخامة و (طعمه) أي الكحل (بحلقه) …. فالوجه قول الحِلْيَةِ انه خلاف الاولي و قد يحمل عليه كلام المجوع.
(تحفة المحتاج الجزء الثالث٤٨٠)
(قوله:الأولى للصائم ترك الاكتحال) ….يعلم من التعبير بالاولوية ان الاكتحال: خلاف الاولي فقط،فلا يضر الخ
(اعانة الطالبین الجزء الثاني،٢٨١)
سوال
روزےکی نیت کیا ہے۔
🎤جواب🎤
رمضان کے روزے کے لئے کم سے کم اتنی نیت ضروری ہے۔
نَوَيْتُ صَوْمَ رَمَضَانَ
رمضان کے روزے کے لئے کامل نیت یہ ہے
نَوَيْتُ صَوْمَ غَدٍ عَنْ اَدَاءِ فَرْضِ رَمَضَانِ هَذِهِ السَّنَةِ لِلّهِ تَعَالى.

فاقل النية المجزئة نويت صوم رمضان و لو بدون فرض علي المعتمد…(و اكملها) أي النية (نويت صوم غد عن أداء فرض رمضان) بالجر لإضافته لما بعده (هذه السنة لله تعالي لصحة النية حينئذ اتفاقا

(📚 فتح المعين الجزء الثاني،ص ٢٢٤،٢٢٥، )
سوال
روزے کی نیت کب کریں

🎤جواب🎤
مغرب سورج ڈوبنے اور صبح صادق کے درمیان کبھی بھی روزے کی نیت کرسکتے ہیں لیکن افطار کے فرا بعد اگلے دن روزے کی نیت کرنا سنت ہے
وعبارةالایعاب عقب تناول المفطر قال سلیم ونصر المقدسی ویسن ان یعقد نیة الصوم حینئذ

(📚حاشیة الشروانی ج۳ص٤۲۵)
سوال
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کے روزوں کا کیا حکم ہے ؟ کیا یہ عورتیں روزہ چھوڑ سکتی ہیں ؟
🎤جواب🎤
حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے 
(📚سنن ترمذی۷۵۱)
حدیث پاک سے پتہ چلاکہ حاملہ یا دودھ پلانے عورت کیلئے یہ اجازت ہے کہ وہ مشقت کے وقت روزہ چھوڑ دے. جس کی تفصیل یہ ہے، کہ
١- اگر روزہ رکھنے سے اسے اپنی ذات کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو ، یااپنے ساتھ ساتھ بچہ اورحمل کوبھی تکلیف کا اندیشہ ہوتو اس صورت میں وہ روزہ ترک کرے گی اور بعد میں اس پر صرف اس روزے کا قضا کرنا لازم ہوگا.
٢- اگر روزہ رکھنے سے اپنے بچے کو کوئی تکلیف ہونے کا خدشہ ہو اور اپنی ذات کوکسی قسم کی تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتو ان کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوگی. اور بعد میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا کرے گی اور ہر روزے کے بدلے ایک مد اناج(جو آج کل کے حساب سے تقریباً 700 گرام چاول کے برابر ہے ) کا فدیہ ادا کرے گی.
واللہ أعلم.
وإن خافت الحامل والمرضع على أنفسهما.. أفطرتا، وعليهما القضاء، دون الكفارة، كالمريض.
وإن خافتا على ولديهما.. أفطرتا، وعليهما القضاء، وفي الفدية ثلاثة أقوال:
أحدها – وهو الصحيح -: أن عليهما الكفارة لكل يوم مد من طعام،.
والدليل على ما ذكرناه: ما روي عن ابن عباس، وابن عمر – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ – وأرضاهم: أنهما قالا: (الحامل والمرضع إذا خافتا على أولادهما.. أفطرتا، وأطعمتا مكان كل يوم مسكينًا) . ولا يعرف لهما مخالف.
(📚البیان للعمراني ج۳ص٤۷۳/٤۷٤)
ان خافتاعلی انفسھما ای مع الحمل فی الاولی.والولدفی الثانیۃ ….افطرتاوجوباوعلیھماالقضاء
(📚حاشیۃ البیجوری ج۱ص٤٤٦)
سوال
ﺣﺎﺋﻀﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ رکھ ﺳﮑﺘﯽ،ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻗﻀﺎﺀ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ،ﺍﻭﺭ ﻗﻀﺎﺀ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ،ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮐﻔﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
🎤ﺟﻮﺍﺏ🎤
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﻀﺎﺀ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﮐﮯ ‏( ﺑﺨﺎﺭﻱ : ١٩٥٠ ‏)
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﺴﻘﻼﻧﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺷﺮﺡ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﻀﺎﺀ ﮐﯽ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺁﺟﺎﺋﮯ۔
(📚 ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﻱ ج۵/ص٧٠٨ )
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﭘﺎﺋﮯ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﺽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﮐﺮﮮ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﻭﺭ ﻗﻀﺎﺀ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺁﺟﺎﺋﮯ، ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ، ﭘﮭﺮ ﻗﻀﺎﺀ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ، ﭘﮭﺮ ﮨﺮ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﮑﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﺋﮯ۔
‏(📚 ﺍﻟﺪﺍﺭ ﻗﻄﻨﻲ ج۲/ص ١٩٧)
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺍﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﺳﺘﺪﻻﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﻋﺬﺭ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﮐﯽ ﻗﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﮐﺮﮮ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺭﻭﺯﮮ ﮐﯽ ﻗﻀﺎﺀ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺪ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ۔
ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﺴﻘﻼﻧﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
ﻭﻳﺆﺧﺬ ﻣﻦ ﺣﺮﺻﻬﺎﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ ﻓﻲ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﺀﻧﻪ ﺍﺍ ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺄﺧﻴﺮ ﺍﻟﻘﻀﺎﺀ ﺣﺘﻰ ﻳﺪﺧﻞ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺁﺧﺮ
ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻛﺮﻳﺎ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭﻱ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﺗﺠﺐ ﺍﻟﻔﺪﻳﺔ ﺑﺘﺄﺧﺮ ﺍﻷﻭﻟﻰ ﺑﺘﺄﺧﻴﺮ ﺍﻟﻘﻀﺎﺀ، ﻓﻠﻮ ﺃﺧﺮﻫﺎ ﻗﻀﺎﺀ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺑﻼ ﻋﺬﺭ ﺇﻟﻰ ﻗﺎﺑﻞ ﻓﻌﻠﻴﻪ ﻣﻊ ﺍﻟﻘﻀﺎﺀ ﻟﻜﻞ ﻳﻮﻡ ﻣﺪ۔
‏( 📚ﺃﺳﻨﻰ ﺍﻟﻤﻄﺎﻟﺐ ج۲/ص ٢٥٩ )
(📚ﺍﻟﻨﺠﻢ ﺍﻟﻮﻫﺎﺝ ج۳ص ٣٤١)
(📚ﻣﻐﻨﻲ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺝ ج۲ص ١٩١ )
(📚 ﺍﻟﺤﻮﺍﺷﻲ ﺍﻟﻤﺪﻧﻴﺔ ج۲ص ١٩٨)
سوال
اپنی بیوی کے ساتھ دخول کے بغیر صرف مباشرت کی وجہ سے منی نکل گی تو روزہ کا کیا حکم ہے؟
🎤جواب🎤
اگر بیوی کے ساتھ دخول کے بغیر صرف مباشرت کی وجہ سے منی نکل گی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اس طور پر کہ بوس کنار کیوجہ سے یا چھونے کی وجہ سے یا ساتھ میں بلا حائل سونے کی وجہ سے منی نکل گی تو روزہ ٹوٹ جائے گا، لہذا روزہ کی صرف قضاء ضروری ہے اگر منی کے نکلنے کا یقین ہو تو اس طرح کا فعل انجام دینا حرام ہے اور حرام کے کرنے پر گناہ ہوتا ہے، لہذا اس طرح کا فعل کرنا بھی حرام ہے اگر اس طرح کرنے سے منی کے نکلنے کا خوف نہ ہو تو ان چیزوں سے بچنا مسنون ہے.

ﻭﺣﺮﻡ ﻧﺤﻮ ﻟﻤﺲ ﻛﻘﺒﻠﺔ۔۔ ﺇﻥ ﺣﺮﻙ ﺷﻬﻮﺓ) ﺧﻮﻑ اﻹﻧﺰاﻝ (ﻭﺇﻻ ﻓﺘﺮﻛﻪ ﺃﻭﻟﻰ) ﺇﺫ ﻳﺴﻦ ﻟﻠﺼﺎﺋﻢ ﺗﺮﻙ اﻟﺸﻬﻮاﺕ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻟﻢ ﻳﺤﺮﻡ ﻟﻀﻌﻒ اﺣﺘﻤﺎﻝ ﺃﺩاﺋﻪ ﺇﻟﻰ اﻹﻧﺰاﻝ.

(📚حاشية البجيرمي ج۲ص۷۵)

ﻣﺎ ﻳﻔﺴﺪ اﻟﺼﻮﻡ ﻧﻮﻋﺎﻥ: ﻧﻮﻉ ﻳﻮﺟﺐ اﻟﻘﻀﺎء ﻓﻘﻂ، ﻭﻧﻮﻉ ﻳﻮﺟﺐ اﻟﻘﻀﺎء ﻭاﻟﻜﻔﺎﺭﺓ.
اﻷﻭﻝ ـ ﻣﺎ ﻳﻔﺴﺪ اﻟﺼﻮﻡ ﻭﻳﻮﺟﺐ اﻟﻘﻀﺎء ﻓﻘﻂﻳﻔﺴﺪ اﻟﺼﻮﻡ ﻭﻳﺠﺐ اﻟﻘﻀﺎء ﻓﻘﻂ ﺩﻭﻥ اﻟﻜﻔﺎﺭﺓ ﺑﺎﻷﻣﻮﺭ اﻵﺗﻴﺔ، …اﻻﺳﺘﻤﻨﺎء (ﻭﻫﻮ ﺇﺧﺮاﺝ اﻟﻤﻨﻲ ﺑﻐﻴﺮ ﺟﻤﺎﻉ، ﻣﺤﺮﻣﺎ ﻛﺄﻥ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﺑﻴﺪﻩ، ﺃﻭ ﻏﻴﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﻛﺈﺧﺮاﺟﻪ ﺑﻴﺪ ﺯﻭﺟﺘﻪ)، ﻭﺧﺮﻭﺝ اﻟﻤﻨﻲ ﺑﻠﻤﺲ ﻭﻗﺒﻠﺔ ﻭﻣﻀﺎﺟﻌﺔ ﺑﻼ ﺣﺎﺋﻞ؛ ﻷﻧﻪ ﺇﻧﺰاﻝ ﺑﻤﺒﺎﺷﺮﺓ.
(📚الفقه الإسلامي وأدلته ج۳ص۱۷۲۱)
سوال
روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے اور سرمہ لگانے سے روزہ توٹے گا یا نہیں ؟

🎤جواب🎤
روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے اور سرمہ لگانے سے روزہ نہیں توٹے گا کیونکہ آنکھ منفذ مفتوح (یعنی کھلی ہوئی چیزوں) میں داخل نہیں ہے اگرچہ دوائی کا اثر حلق میں پایا جائے ، البتہ روزہ کی حالت میں سرمہ لگانا خلاف اولی ہے ۔

ولاالاکتحال وان وجدلونہ فی نحو نخامتہ وطعمہ ای الکحل بحلقہ ازلامنفذ من عینہ لحلقہ فھو کالواصل من المسام ….ومع ذلک قال لایکرہ وفیہ نظرفالوجہ قول الحلیۃ انہ خلاف الاولی

قال فی الحلیۃ الاولی للصائم ترک الاکتحال ای لمافیہ من الزینۃ والترفہ اللذین لایناسبان الصوم …..ویعلم من التعبیربالاولیۃ ان الاکتحال خلاف الاولی فقط
(📚اعانۃ الطالبین ج۲ص۲٤۹)
(📚تحفۃ المحتاج ج۲ص٤۰۳)
(📚فتح العزیز ج۳ص۱۹٤)
(📚اسنی المطالب ج ۳ص۲۳)
سوال
اگر کسی شخص کا صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو اس ارادے کی وجہ سے ایسے شخص کو اس دن کا روزہ نہ رکھنا جائز ہے ؟
🎤جواب🎤
اللہ رب العزت کاارشادہے: فمن شھدمنکم الشھر فلیصمه
(البقرہ آیت ۱۵۸)
اس آیت کے ضمن میں امام رازی فرماتےہیں. روزہ اس شخص پر فرض ہے جو روزہ کے وقت مقیم ہو مسافرنہ ہو .
(📚احکام القرآن ج۱ص۲۵٦)
لہذا جو روزہ کی ابتداء کے وقت مقیم ہوگا اس پر روزہ رکھنا فرض ہوگا. اگر صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو اس ارادہ سفر کی بناء پر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنے کے جواز کے لیے یہ شرط ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے ہی اپنے گاوں کی ابادی چھوڑدے، اس لیے اگر کسی کا صبح صادق کے بعد سفر کا ارادہ ہو تو روزہ رکھے پھر دوران سفر روزہ مشکل معلوم ہوتو روزہ توڑ دے اور بعد میں قضاء کرلے ۔
ﺃﻥ ﺷﺮﻁ اﻟﻔﻄﺮ ﻓﻲ ﺃﻭﻝ ﺃﻳﺎﻡ ﺳﻔﺮﻩ ﺃﻥ ﻳﻔﺎﺭﻕ ﻣﺎ ﺗﺸﺘﺮﻁ ﻣﺠﺎﻭﺯﺗﻪ ﻟﻠﻘﺼﺮ ﻗﺒﻞ ﻃﻠﻮﻉ اﻟﻔﺠﺮ ﻭﺇﻻ ﻟﻢ ﻳﻔﻄﺮ ﺫﻟﻚ اﻟﻴﻮﻡ
(📚 تحفة المحتاج مع حواشىج۳ص۵۲۲)

(ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ) : ﻭﻟﻮ ﺃﻥ ﻣﻘﻴﻤﺎ ﻧﻮﻯ اﻟﺼﻴﺎﻡ ﻗﺒﻞ اﻟﻔﺠﺮ ﺛﻢ ﺧﺮﺝ ﺑﻌﺪ اﻟﻔﺠﺮ ﻣﺴﺎﻓﺮا ﻟﻢ ﻳﻔﻄﺮ ﻳﻮﻣﻪ ﺫﻟﻚ؛ ﻷﻧﻪ ﻗﺪ ﺩﺧﻞ ﻓﻲ اﻟﺼﻮﻡ ﻣﻘﻴما
( 📚كتاب الام ۳ص۲۵٦)
سوال
عام طور پر رمضان کے مہینے میں اذان کے بعد افطار کے لئے کچھ وقت دیا جاتا ہے. اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے ؟
🎤جواب🎤
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کهانا قریب کیا جائے اور نماز کا وقت حاضر ہوجائے تو تم مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کهانا کهاو (مسلم رقم حدیث ۵۵۷)
اس حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر رمضان میں مغرب کی آذان کے بعد افطار کیلئے کچھ وقت جو دیا جاتا ہے وہ درست ہے. لیکن اتنی تاخیر درست نہیں کہ کهاتے کهاتے وقت ہی نکل جائے. یا مغرب کی نماز کا افضل وقت (اول وقت) نکل جاے-
في هذه الأحاديث كراهة الصلاة بحضرة الطعام الذي يريد أكله لما فيه من اشتغال القلب به وذهاب كمال الخشوع وكراهتها مع مدافعة الأخبثين وهما البول والغائط ويلحق بهذا ما كان في معناه مما يشغل القلب ويذهب كمال الخشوع وهذه الكراهة عند جمهور أصحابنا وغيرهم إذا صلى كذلك وفي الوقت سعة فإذا ضاق بحيث لو أكل أو تطهر خرج وقت الصلاة صلى على حاله محافظة على حرمة الوقت
(📚شرح مسلم للنووی ج۵ص٤٦)
سوال
روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرنا کیسا

🎤جواب🎤
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ روزہ کی حالت میں پچھنا (بدن سے فاسد خون نکالنا) لگواتے تھے
(📙بخاری شریف رقم حدیث ۱۹۳۹)
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی بناء پر مسئلہ نقل کیا ہے کہ
ان مذھبنا انه لایفطر بھا لا الحاجم ولا المحجوم
ہمارا مذہب ہے کہ پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں میں سے کسی کا روزہ نہیں ٹوٹے گا
(📚المجموع ج٦ص۳٦٤)
اسی طرح اگر کسی مریض کو حالت روزہ میں مرض کی تشخیص کیلئے ڈاکٹر خون ٹیسٹ کرنے کی ہدایت دے تو خون ٹیسٹ کے لئے خون نکالنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا

سوال
کیا بلغم کے نگلنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ؟
🎤جواب🎤
دماغ اور باطن (حاء کے مخرج کے بعد ) سے بلغم نکال کر تھوکنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن ایسے روزے کی قضا سنت ہے.اگر بلغم اندر کے اندر پیٹ میں چلاجائے تو اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اگر بلغم حلق کی ظاہری حد میں آنے کے بعد تھوکا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر بلغم ظاہری حد میں آئے اور اسے تھوکنے کی قدرت کے باوجود نگل جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اگر تھوکنے پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے تھوک نہ پایا تو روزہ باطل نہ ہوگا.
(و كذا) لا يفطر (لو اقتلع نخامة) من الدماغ أو الباطن…. فإنه يفطر قطعا
(📚،تحفة المحتاج الجزء الثالث،٣٩٩)
وإن نزل الريق إلى حلقه على ما جرت به العادة.. لم يفطر، وهكذا: لو اجتمع الريق في فمه بغير اختياره، مثل: أن يطيل الكلام، فيجتمع لأجله الريق، فابتلعه، أو نزلت نخامة من رأسه إلى جوفه، ولم يمكنه رميها.. لم يفطر بذلك؛ لأنه لا يمكنه الاحتراز عن ذلك.
وإن أخرج الريق من فيه إلى يده، وابتلعه، أو أخرج نخامة من صدره أو رأسه وأمكنه رميها، فلم يفعل، وابتلعها.. أفطر بذلك؛ لأنه قد أمكنه الاحتراز منه
(📚البیان ج ٣ص٥٠٥)

روزوں کا فدیہ ایک ساتھ رمضان کے شروع میں نکالنا جائز ہے یا روزانہ دنوں کی ترتیب سے نکالنا ہوگا؟

🎤جواب🎤

ایسا شخص جو بڑھاپے کی انتہاء کی بناء پر روزہ رکہنے سے عاجز ہوجاۓ اس کے لۓ ہر روزہ کے بدلہ ایک مد(700گرام)گرام چاول یا گیہوں بطور فدیہ دینا واجب ہے اور ہر روز اس دن کے روزہ کا فدیہ نکالنا واجب ہوگا اگر کوئی شخص آئندہ کل کے روزہ کا فدیہ رات ہی میں نکالے یا تمام روزوں کا فدیہ رمضان کے مہینہ کے آخر میں اداء کرے تو اس طرح کرنا جائز ہوگا البتہ رمضان کے شروع میں تمام روزوں کا فدیہ دینا جائز نہیں ہوگا.
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اتفق أصحابنا على أنه لا يجوز للشيخ العاجز والمريض الذي لا يُرجى برؤه تعجيل الفدية قبل دخول رمضان، ويجوز بعد طلوع فجر كل يوم، وهل يجوز قبل الفجر في رمضان؟ قطع الدارمي بالجواز، وهو الصواب”.
(📚المجموع:260/6)

علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وليس لهم -أي الهرم والمريض- ولا للحامل ولاللمرضع تعجيل فدية يومين فأكثر، كما لا يجوز تعجيل الزكاة لعامين، بخلاف ما لو عجل من ذكر فدية يوم فيه أو في ليلته فإنه جائز”.
(📚مغنی المحتاج:176/2)
علامہ باعشن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"لو أخر نحو الهرم الفدية عن السنة الأولى، لم يجب شيء للتأخير؛ لأنّ وجوبها على التراخي”.
(📚شرح مقدمۃ الحضرمیۃ:578)

: "يتخير –أي الشيخ الهرم- في إخراجها بين تأخيرها، وبين إخراج فدية كل يوم فيه أو بعد فراغه، ولا يجوز تعجيل شيء منها لما فيه من تقديمها على وجوبه؛ لأنه فطرة”.
(📚فتاوی رملی :74/2)
سوال
اگر کسی عورت پر پچھلے کئے سالوں کے رمضان کے ایام حیض کے روزوں کی قضاء باقی ہو، اب وہ عورت ان روزوں کی قضاء کرنا چاہتی ہے تو قضاء کے ساتھ فدیہ کی کیا ترتیب ہوگی؟

🎤جواب🎤
اگر کسی عورت پر پچھلے کئی سالوں کے ایام حیض کے قضا روزے باقی ہو تو اس پر قضا روزوں کے ساتھ تاخیر کی وجہ سے فدیہ بھی دینا ضروری ہے اور جس سال کے فدیہ کے ادا کرنے میں جتنی تاخیر کی جائیگی فدیہ بھی اتنا ہی دگنا ہوتا رہیگا، مثلا اگر کسی پر ۲۰۱۴میں فدیہ ادا کرنا تھا، لیکن نہیں کیا، اب ۲۰۲۱ میں وہ ادا کر رہی ہے، تو اس کو سات سال کا فدیہ ادا کرنا ہوگا، اسی طرح اگر کسی نے فدیہ تو ادا کیا، لیکن قضاء نہیں کیا، تو اس کو اگلے سال قضاء کے ساتھ فدیہ دوبارہ ادا کرنا ہوگا.
امام شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: والأصح تكرره أي المد إذا لم يخرجه بتكرر السنين… فإن أخرجها ثم لم يقض حتى دخل رمضان آخر وجبت ثانيا بلا خلاف۔
(📚مغني المحتاج:١٩١\٢)
(📚نهاية المحتاج:١٦٤\٣)
(📚حاشية الجمل:٤٥٦\٣)

از
محمد لقمان ابن معین الدین سمناکےشافعی
صدر مدرس
مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور ،رتناگیری،مہاراشٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے