غزل: اور تنہا ہو گئی ہوں نا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

خیال آرائی: خوشبو پروین قریشی، حیدرآباد

زبانِ حال میں ماضی کا قصہ ہو گئی ہوں نا
میں اس کے ساتھ رہ کر اور تنہا ہو گئی ہوں نا

مسلسل خشک دریا سے لگی چلتی رہی شاید
تو اب لگتا ہے میں مانوسِ صحرا ہو گئی ہوں نا

گھنے بادل تو ہیں لیکن نہیں آثار بارش کے
عجب سا ہجر موسم ہے میں تشنہ ہو گئی ہوں نا

دلاتی ہے یقیں کیوں میرے ہونے کا بھری دنیا
گماں سے پوچھتی ہوں، کوئی دھوکا ہو گئی ہوں نا

سمندر تک پہنچنا ہے مگر اف دھوپ کی شدت
میں اپنی ذات میں خود خشک دریا ہو گئی ہوں نا

سبب شاید کسی کا یاد آجانا بنا خوشبو
میں خود میں مر چکی تھی پھر سے زندہ ہو گئی ہوں نا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

ماہ نور قتل کی روح فرسا داستان

تحریر: صابر رضا محب القادری پران پور اعظم نگر کٹیھار عصمت دری گینگ ریپ اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔