متفرقات

افق ادب کے درخشندہ ستاروں کا ٹوٹنا جہان ادب کے لیے نیک فال نہیں

عظیم صحافی ریاض عظیم آبادی,ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی,فکشن نگار مشرف عالم ذوقی,شاعرہ ادیبہ محترمہ تبسم فاطمہ,سلطان تغزل سلطان اختر,مشہور افسانہ نگار انجم عثمانی اور پروفیسر مولابخش کے انتقال سے اردو داں طبقہ سوگوار,عوامی اردو نفاذ کمیٹی کے زیراہتمام فیض اردو اکیڈمی کیسریا میں منعقد ہوئی تعزیتی نشست

موتی ہاری: 22اپریل، ہماری آواز(عاقب چشتی)

عظیم صحافی ریاض عظیم آبادی,ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی,مشہور و معروف فکشن نگار مشرف عالم ذوقی,شاعرہ ادیبہ محترمہ تبسم فاطمہ,سلطان تغزل آبروئے غزل سلطان اختر,مشہور افسانہ نگار دوردرشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجم عثمانی اور پروفیسر مولابخش کی لگاتار رحلت سے اردو آبادی اور جہان اردو ادب کافی مایوس ہے انہوں نے جو اردو ادب کی خدمات انجام دیے وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے مذکورہ باتیں عوامی اردو نفاذ کمیٹی کے ضلع صدر انیس الرحمن چشتی نے کہی اور مزید بتایا کہ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی نے پوری زندگی علم وادب کی خدمت میں گزاری ان کا شمار زود نویس ادیبوں اور قلمکاروں میں ہوتا تھا انہوں نے تقریباً دوسو کتابیں تصنیف کیں ادب کی مختلف اصناف میں انہوں نے طبع آزمائی کی اور ہر صنف میں اپنا الگ نقش قائم کئے حالیہ دنوں میں بھی ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں کورونائی ادب پر بھی متعدد کتابیں انہوں نے تحریر کی ہیں ان کی پیدائش 1948ء کو نالندہ ضلع میں ہوئی تھی بھاگلپور یونیورسٹی میں اردو پروفیسر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے تھے ان کی عمر تقریباً 73سال تھی نہایت سنجیدہ اور با وقار انسان تھے جبکہ عوامی اردو نفاذ کمیٹی کے ضلعی ترجمان سعید احمد قادری نے بتایا کہ مشہور فکشن نگار اور درجنوں کتابوں کے مصنف مشرف عالم ذوقی نے حکومت وقت کے مظالم اور مسلمانوں کے قتل عام کو اپنا موضوع بنایا اور حکومت وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے باک طریقے سے سلگتے مسائل کو قلمبند کیا ریاست بہار کے ضلع آرہ بھوجپور میں 24 مارچ 1962ء کو پیدا ہوئے اور ساری زندگی اردو ادب کی خدمت میں صرف کیا اور سب سے بڑا سانحہ تو یہ ہے کہ ایک دن بعد ہی آپ کی اہلیہ معروف صحافی اور مشہور افسانہ نگار وشاعرہ محترمہ تبسم فاطمہ شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کرسکیں اور اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ان کی بھی عمر تقریباً پچاس سال تھی پسماندگان میں ایک بیٹا شامل ہے ذرائع کے مطابق وہ لیور کینسر سے متاثر تھیں جس کا علاج چل رہا تھا مرحومہ فاطمہ تبسم نے دوردرشن کے لئے متعدد سیریلز بنائی تھیں وہ صحافت سے بھی وابستہ تھیں اور کئی اداروں میں میڈیا ایڈوائزر کی ذمہ داری بھی ادا کی تھی انہوں نے افسانے کے ساتھ شاعری بھی کی ان کے شعری مجموعہ کا نام ’تمہارے خیال کی آخری دھوپ‘ ہے وہ بے حد ملنسار اور مہمان نواز تھیں
جبکہ عوامی اردو نفاذ کمیٹی کے متحرک و فعال کارکن ماسٹر ہدایت اللہ احسن چمپارنی نے کہا کہ سلطان تغزل آبروئے غزل سلطان اختر 16 ستمبر 1946ء کو سہسرام میں پیدا ہوئے آپ کا اصل نام سلطان احمد انصاری تھا آپ نے منفرد انداز میں اور یکتائے زمانہ لب و لہجہ میں غزل کا سلسلہ شروع کیا جس نے آپ کو منفرد شناخت دلائی آپ کے انتقال سے ایک عہد زریں کا خاتمہ ہوا اس موقع سے قومی ایکتا فرنٹ کے صدر وصیل احمد خان,اتحاد ملت ٹرسٹ کے صدر توقیر رضا,صحافی اشرف عالم,صحافی نورالہدیٰ,چکیا بلاک مترجم الحاج خالد انور جیلانی,انجمن ترقی اردو کے ترہت سکریٹری صحافی شکیل شاغل,صحافی حامد رضا,مولانا غلام مصطفیٰ حیدری چکیا سب ڈویژن صدر,مولانا ناز محمد قادری,ماسٹر اختر حسین,محمد فاروق رضا,مولانا علی رضا,مولانا شہنواز عالم,سرور کلیان پوری سمیت درجنوں افراد نے تعزیت پیش کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے