مذہبی مضامین

دونوں جہان میں فلاح و ظفر حافظ قرآن کے لیے ہے

تحریر: محمد اشفاق عالم نوری فیضی
خطیب وامام: نہالیہ جامع مسجد دکھن نارائن پور،آر،گوپالپور، کولکاتا۔136
رابطہ نمبر 9007124164

عزیزان ملت گرامی! اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے کہ” اے محبوب آپ فرمادیجئے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے کیا دونوں برابر ہیں ؟” کسی شاعر نے علم کے متعلق کیا ہے خوبصورت نقشہ کھینچا ہے؀

پگھلنا علم کے خاطر مثال شمع زیبا ہے
بغیر اس کے نہیں پہچان سکتے ہم خدا کیا ہے۔

بلاشبہ یہ علم ہی ہے جو بے علم اور ذی علم کے مابین امتیاز نظر آتا ہے۔اسی لئے آیت مذکورہ اپنے دامن میں بے شمار حکمتیں اور افہام ومطالب لئے ہوے ہیں جبھی تو انسان اپنی ذات کو اس آیت مبارکہ کو سمجھنے کے لئے فنا کردیتا ہے اور چند سالہ زندگی مدرسہ کے چاردیواری میں شب وروز گزار کر اپنے آپ کو اس قابل بنا لیتا ہے کہ فراغت کے بعد الحمدللہ کسی مسجد کے ممبر ومحراب کا زینت بنتے ہوے نظر آتے ہیں اور ہاں جب رمضان المبارک کا رحمتوں،برکتوں اور مغفرتوں والا مہینہ آتا ہے تو یقینا ایک حافظ قران کے لئے رمضان المبارک کی راتوں میں نماز تراویح کی ادائیگی کرانا گویا فلاح و ظفرکی منزل طے کرنے کے مترادف ہےاس کااندازہ بخوبی وہی لگا سکتا ہے جو حافظ قرآن عزمِ مصمم لئے تراویح پڑھانے کے لئے محنت شاقہ کرتے ہیں اور رمضان المبارک میں ممبر ومحراب کو زینت بخشتے ہوئے نماز تراویح میں قرآن شریف مکمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
الحمدللہ کتنے نیک بخت اور خوش قسمت ہیں حافظ قرآن جنہوں نے قرآن کو اپنے سینے میں محفوظ کیا تو اللہ ربّ العزت نے انہیں عام لوگوں سے ممتاز اور مرتبے میں بلند وبالا کردیا جیساکہ ناچیزکی معلومات میں ایک حدیث پاک ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ مروی ہے درت الناصحین کے حوالے سے کہ انہوں نے کہا میں نے حضور اکرم ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جو شخص اللہ تعالی عزوجل کی ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہیےکہ وہ اللہ عزوجل کے اہل کی عزت کرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ عزوجل کا بھی کوئی اہل ہے؟ آپ ﷺ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پوچھا گیا وہ کون ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا دنیامیں اللہ تعالی عزوجل وہ اہل ہیں جو قرآن کریم تلاوت کرتے ہیں۔خبردارجو انکی عزت و تکریم کرتاہےاللہ عزوجل اسکی عزت و تکریم فرماتاہے اور اسے جنت بھی عطاء فرماتا ہے اور جو شخص انکی توہین اور بے عزتی کرتاہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے ذلیل ورسوا کرتا ہے اور اسے دوذخ میں داخل کرےگا۔مزید آقا علیہ السلام نے فرمایا اے ابو ہریرہ! اللہ تعالیٰ عزوجل کی بارگاہ میں قرآن پاک کے حافظ سے بڑھ کر کوئی بھی ذیادہ معزز و محترم نہیں ہے۔مزید آپ ﷺ نے فرمایا کہ یقینا حافظ قرآن سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سواے انبیاء کرام کے کوئی بھی معززو محترم نہیں۔

صاحب قرآن کا اعزاز حدیث پاک کی روشنی میں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی ﷺ نے فرمایا۔ صاحب قرآن قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ قرآن کہے گا اے پالنہار اسے آراستہ فرمادے۔چنانچہ اسے عزت و شرف کا تاج پہنایا جائے گا پھر وہ کہے گا اے پروردگار اسے اورنواز اس کے بعد اسے عزت و شرف کا جوڑاپہنایاجائےگا پھر وہ کہے گا اے رب اس سے راضی ہوجا اللہ تعالی عزوجل اس سے راضی ہو جائے گا پھر صاحب قرآن سے کہاجاےگا تم قرآن پڑھو اور اوپر چڑھو اوروہ ہر آیت کے ساتھ ایک درجہ بڑھتا چلا جائے گا۔(الترغیب والترہیب ،ص 585) یعنی روز قیامت صاحب قرآن( قرآن کا اہتمام) کرنے والے اسکی تلاوت اس کا مطالعہ اور اس کے معانی سمجھنے والوں کو یہ اعزازحاصل ہوگا کہ قرآن کی سفارش سے ان کو عزت و شرف کے تاج اور اعزاز کے لباس سے آراستہ کیا جائے گا اور انہیں حکم دیا جائے گا کہ جنت کے بلند درجوں میں چڑھتے چلے جائیں دوسری روایت میں ہے کہ ہر آیت کے ساتھ ایک درجہ بلند ہونگے۔ ترمذی،ابو داؤد وغیرہ اور حاکم نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھو اور اوپر چڑھواورٹھہر ٹھہرکر پڑھو جیسا دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے یقینا تمہاری منزل اس آخری آیت کے پاس ہے جس کو تم پڑھوگے۔
خطابی نے فرمایا روایت میں آیا ہے کہ قرآن کی آیات کا عدد جنت کے درجوں کے برابر ہے قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا تم درجوں میں اس کے بقدر چڑھوجتنی تم قرآن کی آیتیں تلاوت کرتے تھے چنانچہ جو شخص پورا قرآن پڑھ لے گا وہ آخرت میں جنت کے آخری درجہ پر قابض ہو گا اور جو قرآن کا ایک حصہ پڑھے گا تو آیتوں کی تعداد کے لحاظ سے درجوں میں اس کی ترقی ہوگی جس کا حاصل یہ ہوا کہ جہاں پرھنے کی انتہا ہوگی وہیں ثواب و جزاء کی انتہا ہوگی(جس درجہ پر اس کی تلاوت ختم ہوگی اسی درجہ پروہ فائز ہوگا۔(الترغیب والترہیب ،127)

علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللّٰہ علیہ رقم طراز ہیں:
دانی نے فرمایا ہے اس بات پر اجماع ہے کہ آیات قرآنی کی تعداد چھ ہزار ہے۔ چھ ہزار سے زائد کتنی ہیں اس میں اختلاف ہے اور یہ سب اقوال ہیں (1)دو سو چار آیتیں (2) چودہ آیتیں (3) انیس آیتیں(4) پچیس آیتیں (5) چھبیس آیتیں۔علامہ طیبی فرماتے ہیں بعض نے یہ کہا ہے صاحب قرآن کی پیہم اور مسلسل ترقی ہوتی ہی رہے گی جس طرح ختم ہوتے وقت تلاوت یہ چاہتی ہے کہ اسے پھر اس طرح شروع کیا جائے کہ سلسلہ ٹوٹے نہیں اسی طرح تلاوت ہوگی اور نہ ختم ہونے والے پہلے درجوں میں ترقی ہو گی یہ تلاوت اہل قران کے لئے اس طرح ہوگی جیسے فرشتوں کے لئے تسبیح و تلاوت لطف اندوزی میں داخل انداز نہ ہو گی بلکہ اس میں سب سے زیادہ لذت محسوس ہوگی۔

رام ہرمزی کی حدیث میں ہے کہ صاحب قرآن رات دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کا التزام کرے گا تو قرآن اسے یاد رہے گا اور اگر التزام نہ کرے گا تو بھول جائے گا۔”بخاری وغیرہ نے روایت کی ہے جو قرآن کریم یاد کرنا چاہتا ہے پھر اسے حفظ کرنے سے پہلے ہی وفات پا جاتا ہے اس کےپاس قبر میں ایک فرشتہ آتا ہے وہ اسے قرآن مجید سکھاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ عزوجل سے اس حال میں ملتا ہے کہ قرآن اسے یاد کر چکا ہوتا ہے طبرانی اور بیہقی کی روایت میں ہے جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس سے نکل جانا چاہتا ہے مگر یہ اسے چھوڑتا نہیں یعنی قرآن یاد رکھنا چاہتا ہے مگر بھول جاتا ہے پھر یہ شخص کوشش کرتا ہے کہ بھولنے نہ پائے اس کے لئے دواجر ہے۔ اورجو اس کا بہت شوق رکھتا ہے اوروہ اس پرقابو نہ پاتا ہواس پر اس کو قدرت حاصل نہ ہوتی ہو مگر یہ اسے چھوڑتا بھی نہ ہو ، اللہ ربّ العزت ایسے شخص کو قیامت کے دن شرفاء اہل قرآن سے اٹھائے گا۔ حاکم وغیرہ نے روایت کی ہے جو قرآن پڑھتا ہے گویا وہ اپنے پلوؤں کے بیچ نبوت رکھ لیتا ہے مگر اس کے پاس وحی کے نہیں آ سکتی۔صاحب قرآن کے لئے مناسب نہیں کہ نادانی کرنے والوں کے ساتھ نادانی سے پیش آئے جب کہ اس کے سینے میں اللہ رب العزت کا کلام ہے۔

علامہ طیبی کہ حدیث شریف میں جو لفظ منزل آیا ہے اس سے مراد یہی ہے کہ حفظ وتلاوت میں جو بندہ کا مرتبہ ہوگا اسی لحاظ سےاسے منصب و اعزاز ملے گا کیونکہ کہ دین کی یہ ایک بنیادی بات ہے کہ کتاب اللہ پر عمل کرنے والا اس پر تدبراور غور و فکر کرنے والا حافظ قرآن اس تلاوت کرنے والے سے افضل ہے جو عمل اور تدبر سے عاری ہوتا ہے اس میں کیا شبہہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے بڑے حافظ اور ان سے زیادہ تلاوت کرنےض والے حضرات موجود تھے مگر آپ ان سب سے مطلقاً افضل تھے اس لیے کہ آپ اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب کی معرفت اس پر تدبر اور اس پر عمل کرنے میں آگے تھے اگر ہم اسی صورت کو راجح اور صحیح قرار دیں اور یہی دونوں شکلوں میں بہتر اور کامل تر ہےتو وہ درجے جن کا تلاوت کرنے والا مستحق ہوگا ان سے مراد درجنوں پر چڑھنے والا ہوگا اس وقت قیامت میں تلاوت کا اندازہ اسکے عمل کے اندازہ سے ہوگا یہ نبی کریم ﷺ کے لئے مکمل اور بھرپور ہے پھرآپ کے بعدآپ کے امتیوں کو ان کے دین اور معرفت و یقین کے مرتبہ کے لحاظ سے یہ حاصل ہوگا اس طرح جو جس قدراس پر تدبر اور عمل کرے گا اتنا ہی گویا وہ قرآن پڑھ سکےگا۔

حفاظ کرام کے تعلق سے الحمدللہ بے شمار احادیث کریمہ موجود ہیں ہم احادیث کریمہ کا مطالعہ کریں جبھی تو انکی اہمیت و فضیلت معلوم ہوگی جہالت کی بنیاد پر آج ہم ان حفاظ کرام کو نشانہ بناتے ہوئے نظر آتے ہیں اور انکی آمدنی پر انکے رہن سہن پر انکے لباس پر کوستے ہیں آج کچھ نااہل لوگ دنیا میں اپنی کامیابی دیکھ کر انکا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ایک مرتبہ کا اتفاق ہے کہ ایک شخص کے گھر میں مدرسہ سے چند طالب علم قرآن خوانی کے لئے پہنچے اس قرآن خوانی میں بحیثیت امام دعاے خیر کے لئے ناچیزبھی حاضر تھا جب قرآن خوانی سے فارغ ہوئے تو نماز ظہر کی ادائیگی کے لئے ہملوگ مسجد چلے گئے نماز ظہر سے فراغت کے بعد انکے دولت کدہ پر دعائیہ مجلس کا انعقاد ہوا اختتام دعاء ہوتے ہی مدرسہ کے طالب علموں کو کھانا کھانے کیلئے بیٹھادیے گئے اور ہملوگوں کو اس کے بعد میں کھانے کا اشارہ کیا تواس فیصلے پر ہم نے بھی حامی بھرلی کہ یہ بچے مدرسہ سے آے ہیں ٹھیک ہے پہلے ہی کھا لیں انکے بعد ہم لوگ کھانے کے لئے بیٹھ جائیں گے۔ بچوں کے کھانے سے فراغت کے بعد جب ہم لوگ بیٹھے تو کیا دیکھا کہ ایک بڑی سینی میں بریانی آگئی ہے دل ہی دل میں سوچا کہ یہ کیا معاملہ ہے بھائی ایک ہی گھر میں مدرسہ کے بچوں کے لئے سادہ چاول اور دال گوشت  اور ہمارے لئے بریانی یہ کیسا انصاف کا تقاضہ ہے خیر کسی طرح چند سوالات کے گھیرے میں الجھتے ہوے کھانے سے فارغ ہوے اسکے بعد صاحب خانہ کو ایک کنارے میں بلا کر کہاکہ آپ نے اس طرح کیوں کیا؟ انھوں نے جواب دیا وہ تو مدرسہ کے بچے ہیں۔ تو ہم نے کہا کہ ناچیز آپ کے اس برتاؤ سےقطعی خوش نہیں ہیں اس لئےکہ حقیقت میں اس بریانی کا حقدار تو وہیں مدرسہ کے بچے ہیں جنھوں نے گھنٹوں آپ کے دولت کدہ پر قرآن کریم کی تلاوت کی اور آپکے مرحومین کے لئے دعائیں کیں اور آپ کیا سوچ رہے ہیں کہ آپ نے اچھا کیا۔سراسر آپ نے یہ کام غلط کیا ہے اس لئے کہ ہمارامذہب ہمیں اس طرح ان بچوں کے ساتھ سلوک کرنے سے منع کرتاہے جبکہ خود ہمارے پیارے آقا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں " اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو خود کیلئے پسند کرتے ہیں " تو قول مبارک کس کے لئے ہیں؟ ہم امتی کے لئے ہی تو ہے وہ شخص بڑا نادم وشرمندہ ہوا اور آئندہ اس طرح کی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ بہر حال اس طرح کے درجنوں مثالیں ہیں ہمارے پاس اگر ایک ایک کرکے رقم کیے جائیں تو نہ صرف یہ مضمون رہے گا بلکہ کتابچہ کی شکل اختیار کر بیٹھےگی۔ 

مگر افسوس صد افسوس آج ہمارے پاس دینی علم نہ ہونے کیوجہ سے اس طرح کے رویہ اختیار کررہے ہیں اور ہم میں سے کسی کے پاس علم ہے بھی تو عمل ندارد ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ان حفاظ کرام کی شان تو کل میدان محشر میں دکھائی جاے گی اور ہاں یہیں حفاظ کرام درجنوں گناہگارافراد کو اللہ ربّ العزت کی بارگاہ سے بخشش و مغفرت کرواکر مستحق جنت بنائیں گے انکے والدین کے سر پر قیامت کے دن اللہ ربّ العزت ایسا تاج زریں پہنائیں گا جس تاج کے سامنے سورج کی روشنی بھی ماند پڑ جائے گی۔خدارا ان حفاظ کرام کی خدمت کریں تعظیم وتوقیر بجالائیں ان سے جب شرف ملاقات کریں تو عاجزی و انکساری کے ساتھ اس لئے کہ یہ صاحب قرآن ہیں انکے سینے میں قرآن محفوظ ہے جیسا کہ آپ کو واقفیت ہےکہ قرآن کریم کا جزدان کم سے کم قیمت کا کیوں نہ ہو قرآن کریم کا جزدان بن کر قیمتی سے قیمتی کپڑوں پر بھاری اور معزز مکرم نظر آتا ہے۔ جی ہاں! یہ سب قرآن کریم کا ہی تو اعجاز ہے۔خیر اللہ ربّ العزت ہم سبھوں کو حفاظ کرام اور علمائے عظام سے محبت رکھنے اور انکی خیرخواہی کی توفیق مرحمت فرماے اور انہیں کے صدقے وطفیل ہماری بخشش و مغفرت فرمائے۔آمین آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔؀
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جزبہ قرآن زیستن۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے