تعلیم

ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ

تحریر: ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری

انسانی زندگی کی ابتداء ماں کے بطن سے ہوتی ہے۔ بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر دنیا میں آتا ہے۔ اسی لیے ماں کی گود کو بچے کا پہلا مدرسہ کہا جاتا ہے۔ اسی لیے اگر کسی بچے کو ماں کی دینی گود ملے تو وہ بچہ خوش قسمت ہوگا کیونکہ پہلے مدرسے سے اس کو صراط مستقیم کی تعلیم میسَّر ہوگی۔ تو آگے جاکر وہ اسی راستے پر چلے گا۔ اور اگر پہلا مدرسہ درست نہ ہوا تو آگے اس بچے کی زندگی بھی اجیرن ہوگی۔

اسلئے ماؤں کی گود کو دینی گود بنانے کی ضرورت ہے۔ عورتوں کو دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم دینا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ جب کوئی مستری کسی دیوار کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دیتا ہے تو وہ دیوار آسمانوں تک اُونچی چلی جائے اس کا ٹیڑھا پن بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ماں کی اپنی زندگی میں دیندادی نہیں اور وہ بچے کی پرورش کررہی ہے تو وہ بچے میں دین کی محبت کیسے پیدا کر پائے گی۔ اس لیئے پہلی اینٹ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

کسی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ اگر کسی کے دو بچے ہوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی اور اس کی حیثیت اتنی ہو کہ دو میں سے ایک کو تعلیم دلوا سکتا ہے تو اس کو چاہیئے کہ بیٹی کو تعلیم پہلے دلوائے اس لیئے کہ عورت پڑھی خاندان پڑھا۔

آج کل کے مردوں میں ایک بات مشہور ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ عورتیں عقل اور دین میں ناقص ہوتی ہیں۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ عورتوں کے عقل میں جذباتیت زیادہ ہوتی ہے ، ذرا سی بات پہ بھڑک اُٹھتی ہیں ، محسوس جلدی کرلیتی ہیں ، اور بعض اوقات جذبات میں آکر دین کی باتوں کو بھی ٹھکرا بیٹھتی ہیں۔

لیکن یہ ایسی ناقصات ہیں کہ بڑے بڑے عقل مند مردوں کے عقل کو اُڑا دیتی ہیں۔ اس لئے یہ بات تجربے میں بھی آئی ہے کہ عورتیں جب کسی چیز کو منوانے پہ تل جائیں ، ضد کریں ، ہٹ دھرمی کریں یا خاوند کو پیار و محبت کی گولی کھلائیں ، خاوند کو مجبور کرکے اپنی بات منوا لیتی ہیں۔ تو جب دنیا کی یہ باتیں منوا لیتی ہیں تو دین کی تعلیم حاصل کرنے کی یہ بات کیوں نہیں منوا سکتیں۔

آپ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں میں کوئی نبیّہ نہیں بھیجا مگر نبیّوں کی ماں ضرور بنایا ہے۔ یہ عورت کا مقام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب عورت کو اپنے دین کے خدمت کیلئے قبول کرے تو اسکی نسل نسل میں دین کو آباد رکھتا ہے۔

اللہ رب العزت نے عورت کے اندر بڑی غیر معمولی صلاحتیں رکھی ہیں۔ اگر یہ تعلیم و تربیت سے منوَّر ہوجائے تو اس کے اندر بڑی تحمَّل مزاجی بھی پیدا ہوجاتی ہے ، صبر بھی پیدا ہوجاتا ہے اور آنے والی نسل کے لئے خیر کا باعث بنتی ہے۔

لہذا! ہمیں چاہئے کہ عورتوں کو دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی خاص خیال رکھیں تاکہ وہ معاشرے میں بہترین کردار ادا کرسکیں۔ ایک عورت کی وجہ سے پورا خاندان صحیح سمت چل سکتا ہے اور نسلوں میں اس کا اثر چلتا رہتا ہے۔ بعض لوگ تو عورتوں کے تعلیم کے مخالف ہوتے ہیں۔ اور جو مخالف نہیں تو وہ دینی تعلیم کا انتظام نہیں کرواتے۔

لہذا! دینی و دنیوی دونوں قسم کے تعلیم سے عورت کو منوَّر کرنا چاہئے تاکہ وہ اس معاشرے کی دیوار کی پہلی اینٹ کو درست لگادے تو باقی دیوار خود بخود سیدھی سمت چلے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے