سائنس و فلسفہمذہبی مضامین

مذہبیات کی سائنسی توجیہ ایک فکری تجزیہ

✍️ پٹیل عبد الرحمن مصباحی ،گجرات (انڈیا)

انگریزی کی ایک کہاوت ہے،
The theology, that marries the science of today, will be the widow of tomorrow.
"آج اگر مذہبیات کی شادی سائنس سے کرائی گئی تو کل وہ(مذہبیات) بیوہ ہو جائے گی.”

کم نصیبی سے آج کل یہ کام بڑے پیمانے پر دینی علوم کی تشریح میں کیا جا رہا ہے. اسلام نے اشیا میں اصل اباحت کو قرار دیا ہے، یہی ایک قاعدہ تمام سائنسی ایجادات اور جدید نظریات کو قبول کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے کافی ہے، جب تک وہ اسلامی اصولوں سے متصادم نہ ہوں. اس کے ساتھ قرآن کی؛ تدبّر و تفکّر اور تسخیرِ کائنات کی دعوت؛ ہر جدید کو اپنے اندر ضم کرنے اور اس سے دینی و دنیوی فوائد حاصل کرنے کے جواز کا اہم ماخذ ہے. بلا وجہ دور از کار تاویلات میں پڑ کر سائنسی تشریح کا فخر حاصل کرنے کی آج کل جو ریس لگی ہوئی ہے، اس کے لیے "اِثمُہ اکبرُ مِن نَفعہ” کی تعبیر متوازن معلوم ہوتی ہے. المیہ یہ بھی ہے کہ اہل سنت و جماعت؛ جن کے اسلاف اس قسم کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ تھے؛ آج کل وہ بھی کسی حد تک اسی جدید توجیہات والے چکر میں مبتلا ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں.

بلا شبہ حِکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے اور جو حکمت یافتہ ہے وہ خیرِ کثیر کا مالک ہے. لہٰذا احکام کی حکمتوں کو اجاگر کرنا اور ان کے ذریعے اسلام کی حقانیت کا اعلان کرنا؛ یقیناً ایک محمود و مؤثر عمل ہے. فقہا نے صدیوں تک مسائل کی علتوں کا استخراج کیا ہے، پھر معقول علّتون پر احکام کو دائر بھی کیا ہے. حتیٰ کہ وہ نصوص جو بظاہر عقل کے خلاف معلوم ہوں ان کی معقول توجیہ یا ان کے دائرہ عمل کی تحدید بھی کی ہے. مثلاً قہقہہ سے فساد نماز و وضو کی نص کو اس کے مورد یعنی کہ رکوع سجدہ والی نماز کے ساتھ خاص قرار دیا ہے. حکمت و علت کے اِس تاریخی تسلسل کے باوجود توجہ طلب امر یہ ہے کہ حکمت اور چیز ہے اور جدید سائنس چیزے دیگر. بلکہ خود حکمت و علت بھی ایک دوسرے کے غیر ہیں. حکمت اپنے دامن میں مادّیت اور روحانیت کے دونوں جہان لیے ہوئے ہے، جب کہ جدید سائنس اپنی تنگ دامنی کے سبب محض مادّی دنیا تک محدود ہے. جدید سائنس اپنی اصل میں ظاہر پرست واقع ہوئی ہے جب کہ اسلام دین ہونے کے حیثیت سے دنیا و آخرت، ظاہر و باطن، عقیدہ و عمل اور ایمان بالظاهر و ایمان بالغیب کے مجمع البحرين میں غوطہ زنی کا داعی ہے. ایسے بحر ناپیدا کنار کو مادّہ سے بنی ہوئی سائنس کی ظاہر پرست کشتی کے ذریعے عبور کرنے کی کوشش کرنا؛ چمچ سے سمندر خالی کرنے جیسا بلکہ اس سے بھی زیادہ غیر معقول ہے.

کوئی ضرورت نہیں کہ اسپیس شپ کی سائنسی ایجاد کے پس منظر میں براق کی توجیہ کی جائے یا شقِ صدر کو آپریشن کا پیش خیمہ قرار دیا جائے یا شق القمر کی توجیہ کے لیے ریموٹ کنٹرول کی مثال سامنے رکھی جائے یا اوقات ممنوعہ میں نماز سے روکے جانے کو سورج کی مضر شعاعوں کے ساتھ جوڑا جائے…… وغیرہ وغیرہ. اس لیے کہ خرقِ عادت افعال اور روحانی تجربات کو کبھی بھی مادّیت کے تنگ دائرے میں مقید نہیں کیا جا سکتا. جب بھی اس قسم کی کوشش کی جائے گی تب ہم خود جانے انجانے میں معجزات کے تخیل کا اعلیٰ معیار گرانے اور روحانیت کے عظیم تصور کو مجروح کرنے میں ساتھ دے رہے ہوں گے. اس قسم کی جدید بمعنی لایعنی توجیہات کی واضح مثال سر سید کی نیچریت، مودودی صاحب کی سیاست، غامدی صاحب کی جدّت اور وحید الدین خان کی وطنیت پر مبنی توجیہات میں دیکھی جا سکتی ہے. ایک صدی تک پھیلی ہوئی چاروں افراد کی مفاہمتی کوششوں کا حاصل سوائے نئی نسل کی مذہب بیزاری کے اور کچھ نہیں نکلا.

سائنس کے نقش قدم پر مذہبیات کی مادّی توجیہ کا یہ عمل اس لیے بھی خطرناک ہے کہ یہ دو دھاری تلوار ہے اور اس کے دونوں ہی کنارے ہمارے لیے ایمان لیوا ہو سکتے ہیں. ایک طرف یہ کھٹکا ہے کہ جس سائنسی تحقیق پر توجیہ کی بنیاد رکھی گئی ہے اگر وہ کسی نئی تھیوری کے سبب راتوں رات تبدیل ہو گئی تو اس وقت کیفیت یہ ہو جائے گی کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن. سائنس کو کوستے بھی بات نہیں بنے گی اور مذہب کے دفاع کی بھی کوئی راہ نہیں سوجھے گی. دوسری طرف اس بات کا بھی ڈر ہے کہ ملحدین جو اب تک دین کے اعتقادی و روحانی نظام کی وجہ سے لا جواب ہیں ان کو مادّیت کے میدان میں دین کو مات دینے کی آسان راہ ہاتھ لگ جائے گی. ان کے لیے بہت آسان ہوگا کہ ہماری توجیہ میں دکھائی گئی مطابقت کو باطل قرار دے کر کسی سادہ ذہن کو دین سے بدظن کر دیں. یاد رکھیں سائنس کے نظریات کبھی بھی حتمی نہیں ہوتے، ہر نئی ریسرچ کے بعد ایک نیا موقف سامنے آ جاتا ہے. یہی وجہ ہے کہ مغرب میں ism اور logy کی بھرمار نظر آتی ہے. جیسے ہمارے یہاں الفاظ تبدیل کر کے مصدر بناتے ہیں ویسے سائنسی دنیا میں آئے دن ازم اور لوجی کے نام پر ایک نیا نظریہ مان لیا جاتا ہے. نتائج کے اعتبار سے غیر یقینی ہونے کا یہی وہ عیب ہے جس کی وجہ سے سائنس کبھی بھی مذہب کا متبادل نہیں ہو سکتی.

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ، جدید سائنس اور مذہب کے بیان کردہ روحانی تجربات یا ماورائے عقل معجزات کے درمیان مفاہمت کی؛ اس قسم کی کوشش؛ منسوخ ادیان کے ذریعے ماضی قریب میں ہو چکی ہے اور نتیجے میں انہیں الحاد سے منہ کی کھانی پڑی ہے. ہندوازم ہو چاہے عیسائیت یا یہودیت؛ سب یہ غلطی کر چکے ہیں اور اب انہیں تدارک کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی. گَنِیش کے دھڑ پر ہاتھی کا سر فٹ کرنے والی روایت کو آپریشن کی بنیاد بتا کر اِترانے والا ہندو؛ آج تک ملحدين کا یہ اعتراض سن کر ہکاّ بکاّ کھڑا ہے کہ اگر انسان کے سر کی جگہ جانور کا سر لگانا ٹھیک ہے بلکہ قابل فخر ہے تو مرد کے آلہ تناسل کو عورت کے آلہ تناسل میں تبدیل کرنا کیوں غلط ہے، خصوصاً تب جب کہ دونوں ہی انسان ہیں. ایسے ہی تثلیث کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا عیسائی جب ملحدین کی Mathematics کے ہاتھ چڑھتا ہے تو ایک سے تین کی جگہ بے چارے کی تین سے ایک کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے. ایسی لایعنی تشریحات کے نتیجے میں آخر کار یہ منسوخ مذاہب؛ ما بعد جدید دور میں اپنی الحاد زدہ شکل ہی پر رضا مند ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں.

ناسخ الادیان اور دین کامل کے طور پر انسانیت کی آخری پناہ گاہ اسلام ہے. خدا کے آخری پیغام کی روشنی اور آخری پیغمبر کی رہنمائی میں آخری دور کی امت کے لیے وحی اور سنت کی جو عظیم شاہ راہ دکھلائی گئی ہے وہ اسلام ہے. وحی اور پیغمبرانہ فراست کی وسعتوں کو جدید سائنس کے محدود پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے وہ بچہ جس کے حواس ابھی کمال کو نہیں پہنچے ہیں اس کا بتکلّف اعلیٰ تجربات کے میدان میں اپنی حیثیت منوانے کی کوشش کرنا. بسا اوقات ہم اچھی نیت کے ساتھ مذہبیات کی سائنسی توجیہ کا دروازہ کھولتے ہیں مگر جب اس میں بے احتیاطی کا مست ہاتھی لے کر کوئی نااہل داخل ہونے لگتا ہے تو صرف ظاہری ڈھانچے ہی کو نہیں، بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے. ہمیں صراحت کے ساتھ یہ بتانا ہوگا کہ ہم اسلام کو پیغمبرانہ تعلیمات کی بنیاد پر مانتے ہیں؛ جن کا ماخذ وحی ہے، اپنی ناقص عقلوں کی بنیاد پر نہیں مانتے. ہم کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی اسلامی حکم کا Reason تلاش کریں اور اس کے ذریعے عقل کو مطمئن کریں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم عقل کے گھوڑے پر سوار ہو کر وحی کی آسمانی عظمتوں کو فراموش کر چکے ہیں. جیسے دلیل کی بنیاد پر بات کو ماننا ہمارا ایک طریق ہے ایسے ہی وحی کی بنیاد پر عقل سے ماورا باتوں کو ماننا ہمارا اولین طریق ہے.

تقریرِ مسئلہ، تقریبِ فہم، تسکینِ مخاطب اور معترض پر معارضے کے لیے جدید سائنس کا سہارا لینا مذموم نہیں، لیکن اگر اس سے آگے بڑھ کر دین کی بنیاد سائنس پر رکھنے کا طریقہ اپنایا جائے تو یہ غیر کفو میں رشتہ کرنے کے مترادف ہوگا. مناسب تو یہ ہے کہ دین جس قسم کی اعلیٰ اقدار پر مشتمل ہے، اس کے لیے وحی جیسا اعلیٰ source of knowledge ہی چنا جائے تاکہ جوڑا بھی خوبصورت ہو اور ان کا گھر یعنی دنیا بھی آباد رہے. مذہبیات کے لیے وحی سے کم تر کوئی سہارا تراشا گیا تو آج کی مذہبیات کل بیوہ ہو کر رہ جائے گی۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button