مضامین و مقالات

اسلام اور نظامِ معیشت

تحریر : رحیم الدین خان گوہرمصباحی بہرائچ

دنیا میں تعدد ادیان ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، ساتھ ہی ان کی کوتاہ دامنی اور دائرۂ کار کی تنگی بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے، جب کہ ان کےبالمقابل مذہب اسلام کی تعلیمات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے،رحم مادر سے لے کر آغوش قبر تک زندگی کا وہ کون سا شعبہ ہے جہاں آفتابِ اسلام کی کرنیں انسانوں کی رہنمائی کرنے سے معذرت خواہ ہیں ؟؟
عصر جدید میں مدعیانِ فلاح وبہبود اور نام نہاد ترقی کا پھریرا لہرانے والوں کی ایک لمبی لسٹ ہے جو عروج وارتقا کے نام پر امت کو بے وقوف بنانے میں سرگرداں ہیں جبکہ ملک کی اکثریت تعلیمی اور معاشی لحاظ سے روز بروز تنزلی کا شکار ہوتی جارہی ہے جس کا نہ تو ارباب حکومت کو خیال ہے نہ ہی کسی فرد انساں کو پاس ولحاظ ۔

باوجود اس کے تعصب و عناد اور اسلام دشمنی کا یہ حال ہوتا جارہا ہے کہ اگر کسی بھی زاویے سے ملک کی سالمیت و وقار کو خطرہ درپیش ہو تو اس کے اسباب کا تدارک کرنے کے بجائے یہاں بھی لوگ اسلام و مسلمان کو مجرم قرار دے کر جواب دہی کے کٹگھرے میں لا کر کھڑا کرنے کی سعئ مذموم کرتے نظر آتے ہیں،بالخصوص ملحدین کی زہر افشانیاں اور فتنہ انگیزیاں سراپا اسلامو فوبیا پر مبنی ہیں، حالاں کہ جن وجوہات کی بنا پر ملک،سماج،خاندان یا فرد تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں بنیادی طور سے وہ یا تو تعلیمی فقدان ہے یا معاشی ابتری ہے اور ان دونوں پہلؤوں پر اسلام کی جو تعلیمات ہیں بلاریب آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔
اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام اور نظام معیشت کے پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے،
"فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ”(پ28,جمعہ)
پس تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل(معاش) تلاش کرو۔
آیت مذکورہ میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو کسب معیشت کا واضح حکم صادر فرماکر خود کفالت کی روشن راہ دکھادی ہے،اب بندے کی ذمہ داری ہے کہ وہ جائز طریقہ سے زندگی کا گزر بسر کرنے کی حتی المقدور کوشش کرے۔
ایک مقام پر فرمایا: "ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل وتُدلُوا بھا الی الحکام لتأکلوا فریقا من أموال الناس بالاثم وأنتم تعلمون”(پ2،البقرۃ) لوگو!باہم ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔
دوسرے مقام پر فرمایا "یاأیّھا الذین امنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل الا أن تکون تجارۃ عن تراضِِ منکم”(پ5،النساء)
اے ایمان والو! باہم ایک دوسرے کا مال ناحق طریقہ سے مت کھاؤ مگر یہ کہ کوئ سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو۔
کون نہیں جانتاکہ چوری،غصب،رشوت، سود اور غدر وفریب کے ذریعہ کسی کا مال لوٹنا ایک باطل اور ناجائز طریقہ ہے جس کا انسداد صدیوں پہلے خالق کائنات نے مذکورہ بالا آیات میں کردیا ہے نیز جابجا اس پر بے شمار وعیدیں بھی بیان فرمایا ہے،مثلا خدائے تعالی کا ارشاد ہے "إن الذين يأكلون أموال اليتٰمي ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا۔وسيصلون سعيرا”(پ4،النساء )
"بلاشبہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے شکم میں نری آگ بھرتے ہیں اور عنقریب وہ بڑھکتی آگ میں جائیں گے”

اگر عقل سلیم اور فکر رسا ان تعلیمات کی گہرائیوں میں غوطہ زنی کرے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ قرآن کی ان آیات نے معیشت کا ایسا نظام با کمال عطا کیا ہے جو رہتی دنیا تک لوگوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
اس جیسی بے شمار آیتیں موجود ہیں، اہل انصاف کو چاہئے کہ بغور ان آیات کا مطالعہ کریں اور اسلام کے نظام معیشت کی افادیت کا اعتراف کریں۔

معیشت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے جہاں کسبِ معیشت کے باطل طریقوں سے اجتناب ضروری ہے وہیں حدودِ خرچ اور مصارفِ خرچ کی پاسداری بھی انتہائی لازمی امر ہے،کیوں کہ معاشی پسماندگی کا ایک سبب اسراف بھی ہے اور اسراف، مصارف خرچ و حدود خرچ کی عدم رعایت کا اک لازمی نتیجہ ہی ہے جس کی شدید مذمت قرآن وحدیث میں وارد ہے ۔
اللہ تعالی نے فرمایا” وکلوا واشربوا ولاتسرفوا،انہ لایحب المسرفین،،(پ8،الاعراف)
"کھاؤ اور پیو مگر حد سے نہ بڑھو بے شک اللہ تعالی حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا”
امام بیہقی رحمہ اللہ نے "شعب الایمان” میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا "أحل اللہ الأکل والشرب مالم یکن سَرَفا أو مخیلةً”
یعنی اللہ تعالی نے خورد ونوش کو حلال فرمایا ہے جب تک کہ بے جا خرچ یا تکبر نہ ہو۔
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے "الدر المنثور” میں مذکورہ آیت کے تحت ابو نعیم رحمہ اللہ کے حوالہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت بایں الفاظ نقل فرمایا ہے”إياکم والبطانة في الطعام والشراب فإنها مفسدة للجسد،مورثة للسقم،مکسلة عن الصلاة، وعليكم بالقصد فيهما، فإنه أصلح للجسد،وأبعد عن السرف”
یعنی ضرورت سے زائد کھانے پینے سے خود کو بچاؤ کیوں کہ یہ جسمانی فساد، بیماریوں اور نماز میں کوتاہیوں کا باعث ہے،اور خود پر خورد و نوش میں میانہ روی کو لازم کرلو، کیوں کہ اس میں اصلاح بدن بھی ہے اور بے جا خرچی سے دوری بھی”
سبحان اللہ! یہ نکتہ بیانی وباریک بینی اسلام ہی کا حصہ ہے۔

ایک مقام پر تو یہاں تک وارد ہے” إن المبذرین کانوا إخوان الشیاطین، وکان الشیطانُ لربه کَفورًا”(پ15،اسراء)یعنی فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائ ہیں اور شیطان اپنے رب کا انتہائ نافرمان ہے”
غور کریں خورد و نوش اور خرچ کے معاملہ میں اسلام نے کس قدر میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے؟ بلکہ اسے اوصاف حمیدہ سے شمار کیا ہے ۔مثلا اللہ تعالی کا فرمان ہے "والذین إذا أنفقوا لم یُسرفوا ولم یقتُروا وکان بین ذالک قَواما”(پ19،فرقان)
"اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اڑاتے ہیں اور نہ ہی تنگی(کنجوسی) کرتے ہیں بلکہ ان کا خرچ کرنا ان دونوں حدوں کے درمیان اعتدال پر مبنی ہوتا ہے۔”

اسی کو رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا "الإقتصاد فی النفقة نصف المعیشة”(مشکات،کتاب الآداب)یعنی خرچ میں میانہ روی آدھی معیشت ہے۔قربان جاؤ اسلام کے اس نظام معیشت پر۔
ایک دوسرے کی حق تلفی بھی نظام معیشت پر کاری ضرب ہے اگر ہر اہل حق کو اس کا حق مکمل دیانت داری سے برابر ملتا رہے تو بیشتر طبقہ معاشی کسم پرسی سے نجات پا جائے اس سلسلے میں محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اپنی مثال آپ ہیں۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "فأعط کلّ ذی حقِِ حقّه”(بخاری)
یعنی ہر حق والے کو اس کا حق دے دو۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا "مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ہی اس کی اجرت دے دو”
اس سلسلے میں آیات وراثت کا مطالعہ ناگزیر ہے،وراثت بھی معیشت کا اک حصہ ہے اسلام اور نظام وراثت خود ایک انتہائی وسیع موضوع ہے ۔

الغرض اسلام کی تعلیمات پر اعتراض کرنے والے آئیں اور فقط اس کے investing moderation System(خرچ میں اعتدال پسندی کے نظام) ہی کو پڑھ کر فیصلہ کریں کہ اسلام نے معاشی بحران سے نپٹنے کے لیے کیسے کیسے سنہرے قوانین وضع کئے ہیں۔
اللہ تعالی اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق خیر عطا فرمائے
آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے