مضامین و مقالات

جلد بازی نہ کریں

تحریر: ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان

ایک والد کے 4 بیٹے تھے۔ والد نے سوچا کہ ان بیٹوں کو نصیحت کرنی ہے کہ کبھی بھی جلدی میں کوئ فیصلہ مت کرنا اب والد یہ سوچ رہا تھا کہ یہ نصیحت کس طرح بیٹوں کو سمجھائو کہ ان کو یہ نصیحت سمجھ میں آ جائے۔

اسی جستجو میں اس کو خیال آیا اور بیٹوں کو بُلا کر کہا کہ فلان علاقے میں ایک ”ناشپتی” کا درخت ہے۔ ایک بیٹا سردی میں جائے ، ایک بیٹا خزاں میں جائے ، ایک بیٹا بہار میں جائے ، ایک بیٹا گرمی میں جائے۔اس درخت کو دیکھ کر آئیں کہ درخت کس حالت میں ہے۔

مختلف موسموں میں چاروں بیٹے باری باری دیکھنے کیلئے گئے اور واپس آگئے۔ اب والد نے چاروں کو اپنے پاس بلایا اور درخت کی کیفیت معلوم کی کہ درخت کس حالت میں تھا۔

سردی میں جانے والے نے کہا کہ درخت زمین کی طرف مائل تھا اور بد صورت تھا۔

خزاں میں جانے والے نے کہا کہ نہیں درخت تو زمین سے اٹھا ہوا تھا اور بد صورت نہیں تھا۔

بہار میں جانے والے نے کہا کہ نہیں درخت پر پتے وغیرہ تھے۔

گرمی میں جانے والے نے کہا کہ نہیں درخت پر پتے بھی تھے اور اس درخت سے خوشبو بھی مہک رہی تھی۔

باپ نے چاروں کی باتیں سن کر کہا تم چاروں اپنی اپنی جگہ پہ درست بول رہے ہو۔ کہ سردی میں ٹھنڈ کی وجہ سے درخت بد صورت لگتا ہے۔ اور گرمی میں سورج کی کرنیں پڑنے سے اپنی حالت پہ آجاتا ہے۔

اگر آپ نے سردی میں درخت کو دیکھ کر یہ فیصلہ کردیا کہ درخت بد صورت ہے اور اس کو چھوڑ دیا۔تو آپ کو گرمی میں اس سے ملنے والے فوائد نہیں ملیں گیے۔ اور آپ ان فوائد سے محروم رہیں گیں۔

لہذا کبھی بھی کوئ فیصلہ کرنا ہو تو ایک حالت میں دیکھ کر فیصلہ مت کرنا ورنہ اس کی دوسری حالت سے ملنے والے فوائد سے آپ محروم ہو جائیں گیں۔

اسی طرح کسی بندے کو غصے کی حالت میں دیکھ کر قطع تعلقی کا فیصلہ کردیا تو اس کی دوسری حالت میں اس سے ملنے والے فوائد سے محروم رہیں گیں۔

لہذا جب بھی کوئ فیصلہ "کرنے” یا "نہ کرنے” کا کریں تو سب سے پہلے اچھی طرح سوچ و سمجھ لیں۔ اور اس کے فوائد و نقصانات کو بھی پیش نظر رکھ کر فیصلہ کریں۔تاکہ آپ کو کسی قسم کا نقصان اٹھانا نہ پڑے۔

بس آخری بات یاد رکھیں!! کبھی بھی کسی بھی فیصلے میں جلد بازی مت کریں۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button