آفتابِ علم و قلم غروب ہو گیا

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

زندگی کی کتاب میں بعض صفحات ایسے ہوتے ہیں جنہیں پڑھتے وقت آنکھیں اشک بار اور دل سوگوار ہوجاتا ہے۔ آج ایسا ہی ایک المناک لمحہ پیش آیا کہ جب واٹس ایپ پر نظر پڑی تو ایک جانکاہ خبر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معلوم ہوا کہ میرے دیرینہ رفیقِ درس، مخلص دوست، ممتاز عالمِ دین، صاحبِ قلم ادیب، استاذِ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، مدیرِ ماہنامہ اشرفیہ اور تنظیم ابنائے اشرفیہ کے روحِ رواں حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ اس جہانِ رنگ و بو سے رخصت ہوکر بارگاہِ ربِّ ذوالجلال میں حاضر ہوگئے۔
یوں محسوس ہورہا ہے کہ علم و ادب کا ایک روشن چراغ گل ہوگیا، فکر و دانش کا ایک درخشاں باب بند ہوگیا اور بزمِ اشرفیہ کی ایک تابندہ شخصیت نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ ان کی وفات محض ایک فرد کی رحلت نہیں بلکہ ایک علمی، ادبی اور فکری عہد کے اختتام کا اعلان ہے۔
حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ ان خوش نصیب اہلِ علم میں تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم کے ساتھ قلم کی قوت اور فکر کی گہرائی بھی عطا فرمائی تھی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے مطالعہ، تحقیق، تصنیف اور تحریر ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ کتابوں سے رفاقت اور قلم سے وابستگی ان کی طبیعت کا جزوِ لازم بن چکی تھی۔ یہی ذوقِ تحریر آگے چل کر ایک عظیم علمی سرمایہ میں تبدیل ہوا اور پھر جامعہ اشرفیہ کی علمی قیادت نے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے "ماہنامہ اشرفیہ” کی ادارت ان کے سپرد کی۔
انہوں نے مدیرِ مسئول کی حیثیت سے اس رسالے کو محض ایک جریدہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکر و تحقیق، علم و ادب اور دعوت و اصلاح کا ایسا مؤثر ترجمان بنایا جس نے ملک و بیرونِ ملک اہلِ علم سے بھرپور داد و تحسین حاصل کی۔ ان کی ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ نے معیار، وقار اور اعتبار کی وہ منزلیں طے کیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
خطابت کے میدان میں بھی آپ کا انداز منفرد اور اثر آفرین تھا۔ آپ کے خطابات علم کی گہرائی، فکر کی پختگی اور دل کے درد کا حسین امتزاج ہوتے تھے۔ عصرِ حاضر کے مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں ایسی بصیرت افروز گفتگو فرماتے کہ سامعین کے ذہنوں کے دریچے وا ہوجاتے۔ آپ کی مجلسیں صرف تقریری محفلیں نہیں بلکہ فکری تربیت گاہیں ہوا کرتی تھیں۔
آپ سچے عاشقِ رسول ﷺ، مخلص خادمِ دین اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے باوقار ترجمان تھے۔ عقائدِ اہلِ سنت کے تحفظ، فکرِ رضا کی اشاعت اور دینی اقدار کی ترویج میں آپ نے اپنی پوری زندگی صرف کردی۔ اعتدال، حکمت، اخلاص اور وسعتِ نظر آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔
ذاتی تعلقات میں بے حد شفیق، خوش مزاج اور خندہ پیشانی کے پیکر تھے۔ ہم سبق احباب سے ملتے تو محبتیں نچھاور کردیتے، پرانی یادوں کو تازہ کرتے اور علمی و ادبی گفتگو سے محفل کو معطر کردیتے۔ مجلسِ شرعی مبارک پور کے اجتماعات اور سیمیناروں میں ان کی شرکت باعثِ مسرت ہوتی۔ وہ مسائل کے حل، امت کی رہنمائی اور علمی مباحث میں نہایت سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ حصہ لیتے تھے۔
آج ان کی رحلت سے دل شدید رنج و الم میں ڈوبا ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بزمِ علم کی ایک درخشاں شمع بجھ گئی، فکر و قلم کا ایک عظیم مجاہد خاموش ہوگیا اور جامعہ اشرفیہ اپنی ایک قیمتی متاع سے محروم ہوگیا۔ ان کا علمی سرمایہ، ادبی خدمات، دینی کاوشیں اور اخلاقی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
ہم اس سانحۂ ارتحال پر پسماندگان، متعلقین، تلامذہ، احباب اور تمام اہلِ اشرفیہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کو اپنی بے پایاں رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو قبول فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبرِ جمیل، اجرِ عظیم اور حوصلۂ جمیل عطا فرمائے۔
وہ شخص رخصت ہوا ہے جس نے عمر بھر علم کی شمع جلائی، قلم کو دین کی خدمت کا ذریعہ بنایا اور اپنی فکر کی روشنی سے ہزاروں قلوب و اذہان کو منور کیا۔
رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً، وأسکنہ فسیح جناتہ۔

شریکِ غم: قاضی فضل رسول مصباحی
استاذ، دارالعلوم اہلِ سنّت قادریہ سراج العلوم برگدہی
ضلع مہراج گنج، یوپی

Leave a Comment