فخرِ صحافت حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی علیہ الرحمہ داغِ مفارقت دے گئے
محسن رضا ضیائی، پونے
صبح فجر سے قبل نازشِ فکر و قلم، فخرِ صحافت حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی صاحب کے انتقال کی اندوہناک خبر موصول ہوئی، جس نے دل و دماغ کو مکمل طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا، ابتدا میں اِس خبر پر یقیناً کر پانا بے حد دشوار تھا، لیکن جب مختلف ذرائع سے اِس کی تصدیق ہوئی تو زبان پر بے اختیار کلمہء استرجاع جاری ہوگیا۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
علامہ موصوف بے حد با اخلاق و کردار اور نہایت ہی متواضع شخصیت کے حامل تھے۔ خاص طور سے اصاغر نوازی کے لیے بڑے مشہور بھی تھے۔ راقم الحروف پر بہت زیادہ مشفق و مہربان رہا کرتے تھے۔
تقریباً تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ماہ نامہ اشرفیہ، مبارک پور کی ادارت فرمائی اور اپنی بے باک قلمی و صحافتی خدمات سے اِس شمارے کو ہندوستان کے صفِ اول کے جریدوں میں شامل فرمایا، جو آج تک پورے برِ صغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے منفرد شمارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
ملک بھر کے قدیم وجدید سبھی شمارے حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہوکر تعطل کا شکار ہوگئے، لیکن آپ اپنے عزم و استقلال سے ماہ نامہ اشرفیہ کو تسلسل کے ساتھ شائع کرتے رہے، جس کو افتادِ زمانہ سے بالکل محفوظ رکھا۔
آپ کی بے شمار دینی، علمی، تدریسی، صحافتی، قلمی اور سماجی خدمات اور کارنامے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اہم اور نمایاں یہ ہے کہ آپ نے ماہ نامہ اشرفیہ کے ذریعہ نئی نسل کے علما میں قلمی صلاحیت کو پروان چڑھایا، جن میں ایک راقم الحروف بھی شامل ہے، جو تقریباً 2017ء سے اِس شمارے سے جڑا ہوا ہے۔ آپ نے متعدد تحریریں شائع فرمائیں اور مزید حوصلوں کو جلا بخشا۔ جب بزمِ دانش کالم کے لیے مخصوص موضوعات پر مضامین مطلوب ہوتے تو راقم الحروف کو ضرور یاد فرماتے اور فون پر محبت بھرے انداز میں گویا ہوتے :
مولانا صاحب! فلاں موضوع پر ایک مضمون لکھیے۔
اپنی کم علمی و کم مائیگی کے احساس کے باوجود حضرت کے حوصلہ افزا کلمات اِس طرح ڈھارس بندھا دیتے کہ آپ کی ترغیب اور اعتماد کے سہارے مضمون تیار ہوجاتا اور یوں ایک علمی و قلمی خدمت کا مرحلہ طے پا جاتا۔
اس کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً فون کرکے خیریت دریافت فرمالیا کرتے تھے۔ یہ ان کی اصاغر نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بڑے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہاہے کہ آج ملتِ اسلامیہ ایک عظیم عالمِ دین، بے باک صحافی، ادیبِ شہیر، کئی ایک تحقیقی کتابوں کے مصنف اور ماہ نامہ اشرفیہ کی روحِ رواں شخصیت سے محروم ہوگئی۔
محترم پیامی صاحب کئی ماہ سے رسالے کی ادارت فرمارہے تھے۔ ان کے ذریعہ معلوم ہوا تھا کہ حضرت علیل چل رہے ہیں، لیکن یہ گمان نہیں تھا کہ اِس طرح جلد ہی ہمارے درمیان سے رخصت ہوجائیں گے۔ آپ کا انتقال نہ صرف پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم خسارہ ہے بلکہ مجھ جیسے کتنے ہی طالبِ علم کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جنہوں نے آپ کو پڑھ کر لکھنے کا ہنر سیکھا، آپ کی تربیت میں رہ کر قلم پکڑنا سیکھا اور آپ کی ادارت میں مضامین کو چھپتے ہوئے حوصلوں کو اڑان بھرتے ہوئے بھی دیکھا۔
آپ کی ہشت پہلو شخصیت پر لکھنے کے لیے الفاظ نا کافی ہیں۔ آپ افقِ صحافت اور قلمی دنیا میں ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے اور آپ کے یوں چلے جانے کا بے حد افسوس بھی ہوتا رہے گا۔
محمود رامپوری کے بقول :
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
اللہ تعالیٰ آپ کو غریقِ رحمت فرمائے، آپ کی جملہ دینی، علمی، تدریسی، صحافتی، قلمی اور سماجی خدمات کو قبول فرمائے اور آپ کے پس ماندگان کو صبرِ جمیل اور اس پر اجرِ جزیل عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین وعلیہ افضل الصلوة والتسلیم