غزل: اب بہاروں کی کوئی شام نہیں

خیال آرائی: ناطق مصباحی جب ترے دل میں احترام نہیںاس کی محفل میں تراکام نہیں مسکرا کر ہی ظلم ڈھاتے ہوظالموں میں تمہارانام نہیں مست کرتے ہواپنی نظروں سےاپنے ساقی کاکویءجام نہیں صبح نو ہےمسرتوں کے ناماب بہاروں کی کوئی شام نہیں اچھے اچھوں میں بہت اچھےہوجبکہ اچھوں میں ترانام نہیں اپنے قاتل کو سزاکیوں … Read more

غزل: گل محبت کے تو کھلائے جا

خیال آرائی: ممتا گپتا "ناز”اترولہ ، گونڈہ، اتر پردیش گل محبت کے تو کھلائے جااے مرے یار مسکرائے جا تو لگا کر قیاس باتوں کےمیرے احساس بس چرائے جا دل پہ جو گزرے وہ گزرنے دےتو کہ تیرِ نظر چلائے جا پاؤں تیرے بھلے زمیں پہ رہیںحق فلک پر مگر جتائے جا چھوڑ کر فکر … Read more

غزل: رُت بسنتی آگئی

از: نیاز جے راج پوری علیگاعظم گڑھ، یو۔پی۔ رُت بسنتی آ گئیآ کے گُل بُوٹوں کے گہنے دھرتی کو پہنا گئیرُت بسنتی آ گئیتِتلیاں ہیں اُڑتی پَر سَت رنگی پَھیلائے ہُوئےکلیوں پَر منڈرا رہے ہیں بَھنورے للچائے ہُوےجاگتی آنکھوں میں سپنے بُننے کی رُت آ گئیرُت بسنتی آ گئیبَور کی خوشبو سے مہکے مہکے ہیں … Read more

غزل: ہم ایک دوسرے سے محبت جتایئں

خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی ہمیں تم ستاؤ تمہیں ہم ستایئںہم ایک دوسرے سے محبت جتایئں اس اسرار الفت کو بس ہم ہی جانیںکبھی تم جو روٹھو تمہیں ہم منایئں یہ نفرت زدہ جھوٹی دنیا سے نکلیںہم اپنی الگ ایک جنت بنایئں یہ شکوے شکایت سبھی کچھ بھلا کرخلوص و وفا کا ہنڈولہ بنایئں ہے … Read more

غزل:نہ کلی میں اور نہ گل میں کبھی وہ نکھار آیا

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکویسعاد ت گنج، بارہ بنکی یو۔پی۔بھارت نہ کلی میں اور نہ گل میں کبھی وہ نکھار آیاجو شبابِ حسن افزا سرِجسمِ یار آیا یہ تکلفات چھوڑو اے بہارو جلد آؤمرا خیر خواہ آیا مرا غم گسار آیا بے ارادہ جھک گئی ہے یہ جبینِ شوق میریوہ مقامِ پرکشش بھی سرِ … Read more

غزل: ہم تو صحرا ہی میں یوں بھٹکتے رہے

خیال آرائی: گل گلشنممبئی جب سمندر ملا تشنگی نہ رہیہم تو صحرا ہی میں یوں بھٹکتے رہے دل نے ہم سے کہا تم جفا کار ہوہم ہی نادان تھے تم پہ مرتے رہے حسن اب غیر کا ان کو یوں بھا گیاہم تو ان کے لئے ہی سنورتے رہے چھوڑنا تو انھیں ہم پہ دشوار … Read more

غزل: جل گئے بے گھروں کے گھر تازہ

از: سید اولاد رسول قدسی مصباحی روز چھپتی ہے یہ خبر تازهجل گئے بے گھروں کے گھر تازہ یوں مسلط درندگی ہے یہاںخون پی کر ہوا بشر تازه تیره و تار لیلئِ شب سےپھوٹتی ہے نئی سحر تازہ اشک بہتے ہیں چشم غربت سےہاتھ میں ظلم کے ہے زر تازه درد میں بھیگتا رہا ساحلموج … Read more

غزل: ورنہ رشتے سبھی کاغذی سے رہے

خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی ہے بڑا تو وہی عاجزی سے رہےسارے شکوے بھلا کر خوشی سے رہے موت جب آئے گی تنہا لے جاۓ گیہم یہی سوچ کر سادگی سے رہے جب تلک ان کو ہم سے یوں مطلب رہاتب تلک مہرباں چاشنی سے رہے تیرے ہر ایک ستم کو گنوارا کیاہم نے کچھ … Read more

غزل: عقیدتوں میں جو میرے شگاف کرنے لگے

از: فارح مظفرپوری زمانہ ہم سے بڑا اختلاف کرنے لگےحقیقتوں کا اگر انکشاف کرنے لگے تباہی آئے گی اک روز اس کے جیون میںعقیدتوں میں جو میرے شگاف کرنے لگے میں اسکی ذات کوکچھ بھی نہیں سمجھتا ہوںجو صوفیوں کے مشن کے خلاف کرنے لگے انھی کے ٹکڑوں کو کھا کر پلے بڑھے ناداننسب سے … Read more

غزل: محفل میں ان کی جانا ذرا دیکھ بھال کے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان محفل میں ان کی جانا ذرا دیکھ بھال کےہاتھ ان سے تم ملانا ذرا دیکھ بھال کے کرنی ہے گفتگو ذرا آداب بھی رہےروداد تم سنانا ذرا دیکھ بھال کے لائق نہیں کبھی بھی دل ِاعتبار کےاُن پر بھروسہ کرنا ذرا دیکھ بھال کے محفل میں حاسدین کی لمبی … Read more