ذی الحجہ مذہبی مضامین

عیدقرباں اور غریب

تحریر : محمد خالد رضا مرکزی، سیتامڑھی بہار

میری معلومات کے مطابق دنیامیں بارہ اَرب لوگوں کےلئے اَناج دَسْت یاب ہوجاتاہے جبکہ دنیا کی آبادی ساڑھے سات اَرب بتائی جاتی ہے، اس کےباوجود 2 اَرب سے زیادہ لوگ وہ ہیں جنہیں پیٹ بھر کر کھانانہیں ملتا اورکئی تو بھوک کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں، ان میں ایک بھاری تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، ایک اِطلاع کے مطابق تین سے چار اَرَب لوگوں کا کھانا ضائع کردیا جاتا اور پھینک دیا جاتا ہے۔
سِتَم ظرفی ایک شخص اپنا واقعہ بڑےہی تفریحی انداز میں بیان کررہا تھا کہ ہم لوگ ”شامی کباب“بنا)یعنی گوشت کے ٹکڑوں کوآگ کےکوئلوں پر بُھون( رہے تھے، ہمیں بُھوننا توآتا نہیں تھا، لہٰذاوہ جَل کر کوئلہ ہوگئے اور کسی کے کھانے کے قابل نہ رہے۔(الامان والحفیظ) پیارےبھائیو! اس طرح کے ”شامی کباب“ بالخصوص عیدِ قُرْباں کےبعد گھروں کی چھتوں، تفریح گاہوں اورنہ جانے کہاں کہاں ہوتے ہیں! اس میں کچھ گوشت تو پکتا اور استعمال ہوتا ہےجبکہ کچھ جَل جاتا ہوگا، عام طورپرکھانے کا انداز بھی یہ ہوتا ہےکہ کچھ کھایا کچھ پھینکا اور کچھ ویسےہی ضائع کردیا، یہی گوشت اگر جَلنے، ضائع ہونے اورپھینکے جانے سے پہلےہی کسی غریب کے پیٹ میں چلا جاتا تو دینے والوں کو دعائیں تو ملتیں۔
”مِثالی معاشرہ “ کیسے بنےگا؟ جب ایک ہی محلے یا بلڈنگ میں ایک گھر کے افراد تو پیٹ بھر کر کھائیں پئیں اور آسائشوں میں رہیں جبکہ دوسرےگھر کےافراد بھوکے ہوں۔ ان کے حالات کا علم ہوتےہوئے بھی ہم ان کی حتّی الوسع مدد نہ کریں! ہمارے فریج قربانی کےگوشت اور کھانے پینے کی دیگر چیزوں سے بھرے ہوئےہوں مگر ہمارے غریب رشتہ دار اور پڑوسی دو وقت کے کھانے کے لئے ترس رہے ہوں،ان حالات میں ہمارا مُعاشَرہ کیسے مِثالی بن سکتا ہے !
ہمارےہاں لوگوں کی ایک بھاری تعداد غُربَت کی زندگی گزار رہی ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک وجہ آمدنی کا کم ہونا بھی ہے، اس لئےان کا گزر بَسربہت مشکل سے ہوتا ہے۔
غریبوں کوکہاں ڈھونڈیں؟ انہیں تلاش کرناکوئی مشکل نہیں، یہ آپ کے آس پاس، رشتہ داروں اور خاندان میں بھی ہوتے ہیں، بہر حال اگر آپ کے اندر غریبوں کی مددکرنے کا جذبہ ہوگا تویہ خودہی آپ کی راہنمائی کرےگا اورآپ مستحق اور سفیدپوش افراد کو ڈھونڈ کرانہیں قربانی کاگوشت پہنچانے اور اس کے علاوہ دیگر کئی معاملات میں ان کی مدد کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
بہت سی قرآنی آیات واحادیث نبوی ﷺ غریبوں، یتیموں کی امداد پر وارد ہیں، برائے مہربانی اس موقع سے اپنے مسلمان بھائیوں کا خاص خیال رکھیں۔
فریاد ہےکہ صرف عیدِقرباں کےموقع پرہی نہیں بلکہ زندگی بَھر غریبوں کی مدد کرنےکی نیّت کریں، اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے سے آپ کامال بڑھے گا گھٹے گانہیں، غربت وتنگدستی کاخوف نہ کریں، بُخْل کوختم کریں اورسخاوت و ایثارکاجذبہ پیدا کریں، اللہ پاک نے چاہا تو برکت آپ خود دیکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے