علما و مشائخ

مفتی برجیس القادری علیہ الرحمہ اپنی حیات و خدمات کے آئینے میں

از : افضل فیضی خادم جامعہ مرکزالصالحات سکھےٹانڈ گریڈیہ جھارکھنڈ

آپ کا اسم گرامی محمد برجیس القادری ہے آپ کی ولادت 01/01/1970 ء مطابق 12 ربیع الاول 1391 ھ بروز جمعرات ضلع جہان آباد میں ہوئ آپ کا مختصر نصب نامہ اس طرح ہے محمد برجیس القادری بن محمد ادریس القادری بن عبد الرؤف بن محمد چمن حسین
ابتدائ تعلیم اپنے ہی والد گرامی حضرت علامہ ادریس القادری علیہ الرحمہ سے حاصل کی تھی آپ کے والد گرامی کو ایک عمدہ عالم دین بنانے کی دیرینہ خواہش تھی البتہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لۓ آپ کا داخلہ آپ کے والد گرامی نے ازہر ہند الجامعتہ الاشرفیہ عربی یونیورسٹی مبارک پور میں کرایا
مکمل تعلیم آپ نے وہیں حاصل کی تھی 1992 ء میں الجامعتہ الاشرفیہ سے دستار فضیلت سے نوازے گۓ اور 1992 ء میں ہی آپ کا عقد ضلع جہان آباد کی نفیسہ خاتون صا۔حبہ سے ہوا تھا آپ کو چھ اولادیں ہوئیں چار صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں آپ اپنے وقت کے جید عالم دین اور مفتئ کامل تھے درس و تدریس کا سلسلہ آپ نے سب سے پہلے مدرسہ اشاعت الاسلام جھریا اور مدرسہ فیض الاسلام چاس بھرا سے شروع فرمایا تھا
غالبا چار یا پانچ سالوں کے بعد رئیس القلم قائد اہل سنت مناظر اسلام حضرت علامہ ارشدالقادری نوراللہ مرقدہٗ کے حکم کے مطابق آپ اسلامی مرکز ہند پیڑھی رانچی تشریف لاۓ اور اٹھارہ سال کے عرصہء دراز تک آپ نے درس و تدریس اور افتاء کا فریضہ بہت ہی عمدہ طریقے سے انجام دیا آپ اپنی علمی صلاحیت و لیاقت کی بنیاد پر ادارۂ شرعیہ جھارکھنڈ کے نائب قاضی بھی منتخب کۓ گۓ پھر اس کے بعد آپ راور کیلا کے ایک ادارہ اور مسجد میں تشریف لے گئے اور چند سالوں تک وہاں بھی دین و مسلک کی خوب خدمت فرمائ اور وہیں سے آپ کی طبیعت ناساز ہوئ اور ٹائفڈ بخار کے بہانے بتاریخ 15 اپریل 2021ء مطابق 2 رمضان المبارک 1442ھ بروز جمعرات بوقت دو بجے دن اپنے وطن رانچی میں اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور اپنے معبود حقیقی سے جا ملے انا للہ و انا الیہ راجعون ۔آپ کا جنازہ شریف مفتئ جھارکھنڈ حضرت علامہ مفتی انور نظامی مصباحی قاضی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ نے پڑھائ ضلع گریڈیہ اور دھنوار پرکھنڈ کی مشہور بستی ماما اہری کے قبرستان میں سپردخاک کۓ گۓ آپ کے جنازہ میں عوام الناس سے کہیں زیادہ علماۓ کرام اور طالبان علوم نبویہ شریک ہوۓ جو اپنے آپ میں ایک زندہ مثال ہے چند معروف علماۓ کرام کے اسماۓ گرامی قابل ذکر ہیں حضرت علامہ انوار احمد مصباحیی۔ حضرت مفتی مشرف حسین مصباحی۔حضرت علامہ عبد المبین رضوی۔حضرت مفتی عالم نوری۔حضرت مفتی شمس الدین مصباحی۔حضرت مفتی غلام سرور قادری۔ حضرت مولانا مختارعالم رضوی۔ حضرت مولانا ذاکر حسین مصباحی۔حضرت مولانا منظور احمد قادری ۔حضرت مولانا امان اللہ ثقافی۔حضرت مولانا منظور مصباحی۔ حضرت مولانا جاوید نظمی بکاوری۔حضرت مولانا محفوظ عالم مصباحی۔ حضرت قاری منور حسین ثقافی۔ حضرت قاری فیروزاختر رضوی۔ حضرت مولانا صغیرعالم رضوی ۔حضرت قاری افتخار عالم رضوی۔شاعر اسلام قاری رئیس کوثر جمالی ۔شاعر اسلام قاری شمس تبریز دھنبادی۔ مداح رسول قاری شہرت کمالی وغیرھم۔آپ انصاری برادری اور سلسلہء قادریہ سے تعلق رکھتے تھے علماءنوازی اور تقوی‌‍’شعاری آپ کی زندگی کا اہم مشغلہ تھا 2002 ء میں آپ کو ایک بار حج بیت اللہ کا بھی شرف حاصل ہوا تھا آپ کا وصال یقینا جماعت اہل سنت کے لیۓ عظیم خسارہ ہے آپ کے وصال سے صرف صوبہء جھارکھنڈ ہی نہیں بلکہ سارا عالم اسلام غمزدہ ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ وجہ تخلیق کائنات صلے اللہ تعالی علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ موت العالم موت العالم کہ ایک عالم کی موت دنیا کی موت ہے لہذا ! تنظیم مجدد الف ثانی ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی کے جملہ اراکین مولی تعالی سے دعا گو ہیں کہ مفتی صاحب قبلہ کے درجات کو خوب بلند فرماۓ اور جماعت اہل سنت کو ان کا نعم البدل عطا فرماۓ اور ان کے جملہ پسماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطا فرماۓ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین علیہ وعلی آلہ افضل الصلاۃ واکمل التسلیم

آسماں ان کی لحد پر ہردم گہرباری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے