مضامین و مقالات

خلوتِ محرم الحرام اور سلسلہ مبارکہ رفاعیہ

تحریر : مدثر جمال رفاعی تونسوی

اہل سنت و الجماعت کے سلاسلِ تصوف میں سے ہر سلسلے میں خلفاء و مریدین کی روحانی ترقی اور یکسوئی کے لیے کچھ ریاضتیں مجرب اور معمول ہیں ۔
اسی طرح سلسلہ مبارکہ رفاعیہ جو سلطان الاولیاء و العارفین ، غوثِ اکبر سیدی امام ابو العباس احمد الرفاعی الحسینی الانصاری قدس اللہ سرہ کی طرف منسوب ہے ، اس میں بھی متعدد ریاضتیں ہیں ، ان میں سے ایک خلوتِ محرم الحرام ہے ، جسے ”خلوتِ مُحَرَّمِیَّۃْ“ کہتے ہیں۔
یہ خلوت سات دن پر مشتمل ہوتی ہے ۔
یہ خلوت گیارہ محرم الحرام سے شروع ہوتی ہے اور سترہ محرم الحرام کو ختم ہوتی ہے ۔
اعمال کے لحاظ سے یہ خلوت دو قسم کی ہوتی ہے :
(1) خلوت برائے خلفاء کرام سلسلہ رفاعیہ
(2) خلوت برائے مریدینِ سلسلہ رفاعیہ
خلفاء کرام کے لیے جو خلوت ہوتی اس میں درجِ ذیل امور ہیں:
(1) خلوت کی شرائط ، جو درجِ ذیل ہیں :
یہ سات دن حتی الامکان تنہائی میں رہیں ، شادی شدہ ہوں تو بیوی سے بستر الگ رکھیں ، کھانے میں ذی روح چیز کی غذا استعمال نہ کریں مثلا مرغی کا گوشت وغیرہ ، اپنی توجہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رکھیں ، نظروں کی حفاظت رکھیں ۔
(2) خلوت کے وظائف جو درجِ ذیل ہیں:
پہلے دن ذکرِ لا الہ الا اللہ تیرہ ہزار مرتبہ اور ہر سو کے بعد درج ذیل دعاء:

اَللّٰھُمَّ اغْرِسْ فِیْ قَلْبِیْ شَجَرَۃَ لَا اِللہَ اِلَّا اللہُ وَ اَظْھِرْ عَلٰی لِسَانِیْ یَنَا بِیْعَ حِکْمَۃِ لَا اِللہَ اِلَّا اللہُ وَ انْشُرْ عَلٰی وَ جْھِیْ بُرْقُعَ نُوْرِلَا اِللہَ اِلَّا اللہُ وَ اَغْرِقْ رُوْحِیْ فِیْ بَحْرِ مَعْرِفَۃِ لَا اِللہَ اِلَّا اللہُ وَاحْفَظْنِیْ یَا رَبِّ مِنْ کُلِّ شَکٍّ وَکُفْرٍ وَ رِیَاءٍ وَ مِنْ مَکْرِ الْمَاکِرِیْنَ وَ حَسَدِ الْحَاسِدِیْنَ وَ عَدَاوَۃِ الْمُعَادِیْنَ وَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَ شَیْطَانِیْ وَ دُنْیَایَ وَ ھَوَ ائِیْ بِعِنَایَۃِوِقَایَۃِ حِفْظِ لَا اِللہَ اِلَّا اللہُ

دوسرے دن ذکر لفظ” اَللہ“ ستائیس ہزار مرتبہ اور ہر سو کے بعد درج ذیل دعاء :

اَللّٰھُمَّ اسْقِنِیْ مِنْ خَمْرِ الْمُشَاھَدَۃِ وَ اَغْرِقْنِیْ فِیْ بَحْرِ الْمُرَاقَبَۃِ وَ فَھِّمْنِیْ دَقَائِقَ الْمَعْرِفَۃِ وَ حَقَائِقَ الْحَقِیْقَۃِ لِاَکُوْنَ مِنْکَ خَائِفًا وَ بِکَ عَارِفًایَا اَللہُ

تیسرے دن ذکر لفظِ” وَھَّاب “ بتیس ہزار مرتبہ اور ہر سو کے بعد درج ذیل دعاء:

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ مِنْ مَوَاھِبِکَ الرَّبَّانِیَّۃِ مَوْھِبَۃً اَطَّلِعُ بِبَرَ کَتِھَا عَلٰی مَخْفِیَّاتِ الرُّمُوْزِ وَ مُغَیَّبَاتِ الْکُنُوْزِ فَتُجْلٰی عَیْنُ بَصِیْرَتِیْ بِکُحْلِ مَوْھِبَتِکَ یَا وَھَّابُ

چوتھے دن ذکر لفظِ ”حَیّ “ پینتیس ہزار مرتبہ اور ہر سو کے بعد درج ذیل دعاء:

اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ حَیَاۃً طَیِّبَۃً اَذُوْقُ مِنْھَا حَلَاوَۃَ حَیَاۃِ الْحُبِّ وَطَعْمَ شَرَابِ الْقُرْبِ فَاَکُوْنُ بِکَ حَیًّا وَ لَکَ وَلِیًّا، فَاَمُوْتُ بِکَ تَقِیًّا وَ اَحْیَابِکَ مَرْضِیًّا یَا حَیُّ

پانچویں دن ذکرِ لفظِ ” مَجِیْد“ اٹھتیس ہزار مرتبہ اور ہر سو کے بعددرج ذیل دعاء:

اَللّٰھُمَّ مَجِّدْ قَدْرِیْ بِحُبِّکَ وَ شَرِّفْ مَرْتَبَتِیْ بِقُرْبِکَ حَتّٰی اَکُوْنَ بِحُبِّکَ مُمَجَّدًا، وَ بِقُرْبِکَ مُؤَیَّدًا، وَ اَطَّلِعَ عَلٰی دَقَائِقِ الْمَجْدِ وَ دَقَائِقِ الْمَدَدِ وَ الْجِدِّ، وَ اَ لْبِسْنِیْ مِنْ تِیْجَانِ الْمَجْدِ وَ السَّعْدِ بِفَضْلِ بَرَاھِیْنِ مَجْدِکَ یَا مَجِیدُ

چھٹے دن ذکر لفظِ ”مُعْطِیْ“ چالیس ہزار تین سو مرتبہ اور ہر سو کے بعد درج ذیل دعاء:

اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِیْ مِنْ فَضْلِکَ عَطَاءً وَفِیًّا اَتَقَرَّبُ بِسَبَبِہِ لِاَ بْوَابِ مَحَبَّتِکَ، وَ اَکُوْنُ مِنْ اَھْلِ حَضْرَتِکَ، وَ اُشَاھِدُ اَسْرَارَکَ الْقُدْسِیَّۃِ بِعَطِیَّۃِ جُوْدِکَ الْوَفِیَّۃِ یَا مُعْطِیْ

ساتویں دن ذکر لفظِ” قُدُّوْس“ پینتالیس ہزار مرتبہ اور ہر سو کے بعد درج ذیل دعاء :

اَللّٰھُمَّ قَدِّسْ سِرِّیْ وَ رُوْ حِیْ بِسِرِّ سِرِّکَ وَ بِرُوْحِ رُوْحِکَ ، وَ اَدْخِلْنِیْ لِمَنَازِلِ الْاُنْسِ ، وَ اسْقِنِیْ مِنْ مَشَارِبِ الْقُدْسِ فَیَکُوْنُ سِرِّیْ بِکَ مُقَدَّسًا مُطَھَّرًامِنْ کُلِّ عَیْبٍ وَ دَنَسٍ عَرَضِیٍّ اَوْ وَ ھْمِیٍّ ثُبُوْتِیٍّ اَوْ خَاطِرِیٍّ بِبَرَکَۃِ قُدْسِکَ یَا قُدُّوْسُ

(2) خلوت برائے مریدین سلسلہ رفاعیہ
ان کے لیے بھی دو چیزیں ہیں :
(1) شرائطِ خلوت جو درج ذیل ہیں :
ان سات دنوں میں روزے رکھنا ، ہمیشہ باوضو رہنا اور بیوی کے ساتھ ایک بستر پر نہ سونا اور ذی روح چیز کو اپنی خوراک میں استعمال نہ کرنا ، اپنی زبان کی حفاظت کرنا ، ہر وقت دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھنا اور مرشد کی روحانی توجہات کو ذہن میں مستحضر رکھنا ۔
(2) وظائفِ خلوت جو درج ذیل ہیں :

ان سات دنوں میں ہر نماز کے بعد ایک سو مرتبہ ”یَا وَھَّابُ“ اور ایک سو مرتبہ یہ درود شریف پڑھیں :

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الطَّاھِرِ الزَّکِیِّ وَ عَلٰی آلِہِ وَ صَحْبِہِ وَ سَلِّمْ

ہر وظیفے کے وقت آغاز اور اختتام پر نبی کریم ﷺ ، ان کے اصحاب ، ان کی اولاد اور صاحبِ سلسلہ امام رفاعی اور سلسلہ مبارکہ کے دیگر شیوخ ، اپنے شیخ ، ان کے والد اور دیگر تمام مسلمانوں کی نیت کر کے ان کے ایصال ثواب کے لیے سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنا ۔
(بحوالہ : السیر و المساعی فی احزاب و اوراد السید الغوث الکبیر الرفاعی للسید ابراھیم الراوی الرفاعی رحمۃ اللہ علیہ )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے