یوم آزادی و یوم جمہوریہ

جنگ آزادی میں علما کی بے لوث قربانیاں

تحریر : راشق حسین سبحانی

باشندگان ہند کے لیے 15؍ اگست کی تاریخ بڑی اہمیتوں کی حامل ہے وہ اس لیے کہ اسی دن ظالم و غاصب انگریزوں کے ناپاک قدموں سے ارض کو پاکی نصیب ہوئی ۔آج بھی پورے ملک میں یہ دن یوم آزادی کے نام پر منایا جاتا ہے اور مختلف مقامات پر جشن آزادی کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جن میں رسمی طور پر آزادئی ہند سے متعلق چند باتیں بیان کر کے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے سرفروشان ہند کی بارگاہ میں خراج تحسین پیش کر لیا اور کما حقہ اپنے حق سے سبکدوش ہو گئے مگر ایسا نہیں ہے یہ محض ہماری بے حسی اور تاریخ سے لاتعلقی کا نتیجہ ہے ورنہ آزادئی ہند بڑی المناک اورانتہائی دردناک حقیقتوں پر مشتمل ایک طویل داستان ہے جسے محض چند لفظوں کی تقریر یا چند سطروں کی تحریرمیں نہیں سمیٹا جاسکتا ہے ۔
جب ہم پرائمری اسکول میں پڑھتے تھے تو 15؍اگست اور 26 ؍جنوری کے دن چند گھنٹوں پر مشتمل ایک رسمی تقریب ہوتی تھی جس میں سب سے پہلے راشٹ گیت ہوتی پھر ترنگا لہرایا جاتا اور اس کے بعد مجاہدین آزادی کو خراج تحسین پیش کرنے کے نام پر تھوڑا سا خطاب ہوتااخیر میں مٹھائیاں تقسیم ہوتیں اور اس طرح یہ تقریب اختتام پذیر ہوجاتی ،اس تھوڑے سے خطاب میں جن مجاہدوں کے کارنامے بیان کیے جاتے اور جن کے سروں پر آزادئی ہند کا سہرا باندھا جاتا وہ گاندھی جی ، جواہرلال نہرو ، سبھاش چندر بوس ، مولانا ابوالکلام آزاد ، حسرت موہانی ، اور اشفاق اللہ خان ہیں اور ان کے علاوہ دو چار نام اور لیے جاتے تھے ۔
یہ حقیقت ہے کہ جب تک ہم اسکول کی مصنوعی دنیا میں تھے ہمیں یہی بتایا پڑھایا گیا تھا اور ہم یہی سمجھتے تھے کہ آزادئی ہند انھیں مجاہدین کی قیادت و قربانی کا ثمرہ ہے اور گلشنِ ہند کا حسن و جمال انھیں کے لہو کا مرہونِ منت ہے لیکن جب ہم نے حقیقی دنیا میں قدم رکھا اور اصل تاریخ ِ ہند سے شناسائی ہوئی تب ہمیں پتا چلا کہ اسکولی نصاب میں کس قدر تعصب پرستی سے کام لیا گیا ہے بغض و عناد کی کیسی گلکاری کی گئی ہے اور تاریخِ ہند کو مسخ کرنے کی کیسی ناپاک سازش رچی گئی ہے؟ کہ جو لوگ مجاہدین کے قافلے میں سر راہ شامل ہوئے تھے اور جن کی نشست صفِ آخر میں تھی انھیں صفِ اول کا مصنوعی اور امام بنا کر ان کے سروں پر آزادئی ہند کا سہرا باندھ دیا گیا اور مجاہدِ آزادی ،شہیدِ وطن ،سپہ سالار ِ اعظم جیسے عظیم خطابات ان کے نام پر چسپاں کر دیے گئے، اور جنھوں نے اپنا سب کچھ آزادی کے نام پر قربان کر دیا ، جن کی جائدادیں ضبط کی گئیں ، جن کی لائبریریاں جلائی گئیں ، جن کے جسم پر رات بھر گرم گرم استریاں پھیری گئیں، جن کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ، جنھیں تختہء دار پر چھڑھایا گیا ، جن کے جسموں کو درختوں سے لٹکایا گیا ، جن کے سینوں میں گولیاں پیوست کی گئیں ، جنھیں سور کی کھالوں میں بند کر کے دہکتے تندوروں میں ڈالا گیا ، جنھیں بوریوں میں باندھ کر نہروں میں پھینک کر گولیوں سے بھونا گیا ، جن کو حبس دوام کی سزا دے کر جزیرئہ انڈمان کی زہر آلود اور ہلاکت آمیز فضاؤں میں بھیجا گیا ، جن کے سروں کو کاٹ کر چوراہوں کی زینت بنایا گیا اور جنھیں قید و بند کی سزاؤں سے دو چار کیا گیا ، ان تمام حقیقی مجاہدوں کے ساتھ نہ صرف دو رخا رویہ برتا گیا بلکہ اس حد تک ظلم وزیادتی کی گئی کہ ان کے کار ناموں کو آزادئی ہند کے باب میں سرے سے شامل ہی نہیں کیا گیا ، یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے بلکہ دانستہ ایسا کیا گیا ہے کیوں کہ اسکولی نصاب مخصوص افراد کی نگرانی میں خاص منصوبوں کے تحت مرتب کیا گیا ہے جس میں اس طرح کی باتوں کا در آنا کوئی امر تعجب نہیں ، تحقیقی مزاج نہ رکھنے والا سست طبقہ اگر چہ اس پر اکتفا کر کے متفق ہو جائے مگر ایک منصف مزاج ،حقیقیت پسند شخص کبھی بھی اس مذموم اور متعصبانہ رویے سے اتفاق نہیں کر سکتا ۔
یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ 1947ء کی جنگ آزادی کوئی مستقل اور علاحدہ جنگ نہیں ہے بلکہ یہ 1857 ء میں سر فروشوں کے لہو سے سیراب ہو نے والے شجرِ آزادی کا ہی کا پھل ہے یہ اسی چنگاری کا نتیجہ ہے جس کو وفا دارانِ وطن نے خوابیدہ قوم کے سینوں میں روشن کیا تھا ہاں ! یہ انھیں مجاہدوں کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ جنھوں نے باشندگانِ ہند کی آزادانہ زندگی کی خاطر نہ صرف اپنی جانوں کو قربان کیابلکہ آزادی کے نام پر اپنا سب کچھ لٹا دیا ، اور ہا ں ! یہ اسی مجاہدِ وطن کے فتویٰ جہاد کا ثمرہ ہے جس نے خوابیدہ قوم میں سرفروشی کی روح پھونکی اور جزیرئہ انڈ مان کی مسموم فضاء میں سختیاں برداشت کرتے ہوئے موت کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔
ہمیں اس حقیقت بیانی سے کوئی خوف نہیں کہ آزادئی ہند میں غیروں میں جتنا پسینہ نہیں بہایا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارے علما نے خون بہایا ہے ، یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ اس حقیقت کو تاریخ نے اپنے سینے میں جذب کر لیا ہے تاکہ کسی کو مجالِ انکار نہ ہو ، چنانچہ 1864ء سے 1867ء تک انگریزوں نے علما کو ہلاک کرنا شروع کیا ، ایک انگریز فوجی افسر ہنری کوٹن (Henry Cotton) بیان کرتا ہے کہ ’’ دہلی دروازے سے پشاور تک گرینڈٹرنک روڈ کے دونو ں ہی جانب شاید ہی کوئی خوش قسمت درخت ہوگا جس پر انقلاب 1857ء کے ردِ عمل اور اسے کچلنے کے لیے ہم نے ایک یا دو عالمِ دین کو پھانسی پر نہ لٹکایا ہو ‘‘ ۔
ایک اندازے کے مطابق تقریباً 22 ؍ ہزار علما کو پھانسی دی گئی ، مسلمان مجاہدین نامی کتاب میں ایک غیر مسلم مؤرخ لکھتا ہے کہ ’’ ایک اندازے کے مطابق 1857 ء میں 5؍ لاکھ مسلمانوں کو پھانسیاں دی گئیں ، جو بھی معزز مسلمان انگریزوں کا ہاتھ لگ گیا اس کو ہاتھی پر بیٹھا یا گیا اور درخت کے نیچے لے جایا گیا پھر پھندہ اس کی گردن میں ڈال کر ہاتھی کو آگے بڑھا دیا گیا ، لاشیں پھندے میں چھول گئیں ، آنکھیں ابل پڑیں اورزبان منہ سے باہر نکل آئی ۔ ـ
ان تین سالوں میں چودہ ہزار علما کرام تختۂ دار پر چڑھائے گئے ، دہلی میں چاندنی چوک کے ارد گرد دور دور تک کوئی ایسا درخت نہیں تھا جس پر علما کی گردنیں نہ لٹکی ہوں ، علما کے جسموں کو تانبے سے داغا گیا ، علما کو ہاتھیوں پر چڑھا کر درختوں سے باندھا گیا ، اور پھر ہاتھیوں کو چلا دیا گیا ۔
انگریزرائٹر مسٹر ایڈ ورڈ ٹامسن ’’ تصویر کا دوسرا روخ ‘ ‘ نامی کتاب میں لکھتا ہے کہ ہاتھیوں کو اس طرح چلانے سے پھانسی لگنے والے شخص کا بدن انگریزی کے آٹھ (8)جیسا ہوجاتا ، لاہور کی شاہی مسجد میں ایک دن میں اسی اسی علما کرام کو پھانسی دی جاتی تھی ، لاہو ر کے ”دریائے راوی” میں علما کو بوریوں میں بند کر کے بہا دیا جاتا اور اوپر سے گولیاں چلائی جاتیں ، غرض کہ ایسے ایسے مظالم ڈھا ئے گئے جن کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ( جنگ آزادی 1857 ء میں علما کا مجاہدانہ کردار ص : 28 تا 29 )
ٹامسن کہتاہے: کہ جب میں دہلی میں اپنے خیمے کے اندر گیا تو مجھے مردار کی بدبو محسوس ہوئی میں خیمے کے پیچھے گیا تو دیکھتا ہوں کہ آگ کے انگارے دہک رہے ہیں اور چالیس علما کرام کو کپڑے اتار کر ان انگاروں پر ڈال دیا گیا ہے میرے دیکھتے دیکھتے چالیس اور علما کرام کو بلایا گیا میرے سامنے ان کے کپڑے اتارے گئے انگریز نے کہا مولویو! جس طرح ان چالیس کو پکایا گیا ہے اسی طرح تمہیں بھی پکا دیا جائے گا تم میں سے صرف ایک آدمی یہ کہہ دے کہ ہم 1857ء کی جنگ ِآزادی میں شریک نہیں تھے ہم تمہیں ابھی چھوڑ دیتے ہیں ٹامسن جذبات سے لبریز ہو کر کہتا ہے میرے پیدا کرنے والے کے قسم کوئی عالم ان میں ایسا نہیں تھا جو انکار کرکے اپنی جان بچا لیتا سارے کے سارے آگ پر پک گئے مگر انگریز کے سامنے کسی نے گردن نہ جھکائی ۔ ( جنگ آزادی اور وطن کے جان باز ص : ۶۲ )
یہ ہے ہمارے اسلاف کی بے لوث قربانیوں کی ایک ہلکی سی چھلک ، ہمارے اسلاف ہی کی بدولت ہندستان کو آزادی کا پروانہ نصیب ہوا ہے اور یہاں کا ذرہ ذرہ اپنی آزادی میں ہمارے اسلاف ہی کی قربانیوں کا محتاج ہے مگر حال یہ ہے کہ آج ہمیں وہ لوگ آنکھیں دکھا رہے ہیں اور ہندستان چھوڑنے کی باتیں کر رہے ہیں جن کا دامن خود داغدار ہے ، جن کی انگریز نوازی نے مجاہدوں کے خواب کو شرمندۂ تعبیر نہ ہو نے دیا ، جن کی غداری نے وفادارانِ وطن کے لہو سے سر زمینِ ہند کو رنگین کر دیا اور یہ کوئی الزام تراشی یا افسانوی بات نہیں ہے بلکہ تاریخی حقیقت ہے چنانچہ ’’ میری ہندستانی بغاوت کی ڈائری ‘‘ میں انگریز مصنف رسل لکھتا ہے : واقعہ یہ ہے کہ ہندستان میں مسلمانوں کا طبقہ ہی ہماری خاص مشکلات کا باعث ہے اور مسلمانوں ہی کی طرف سے خصوصی مزاحمت ہے اگرہم ایک عظیم جدو جہد کے ذریعہ مسلمانوں کی روایات اور مسجدوں کو نیست ونابود کردیں تویہ عیسائی مذہب اور برطانیہ کی حکومت دونو ں کے لیے بہتر ہوگا ۔
مزید آگے لکھتا ہے : ہمارا دہلی پر قبضہ کرنا نا ممکن ہوتا اگر راجا پٹیالا اور راجا جیندر ہمارے دوست نہ ہوتے ۔ ( جنگ آزادی اور وطن کے جان باز ص : 56)

؎ جو ہو شوقِ دیدہ وری تو دیکھنے والوں
نقاب سے جو چھن جائے وہ نظر لاؤ

ہماری اس بات سے کوئی یہ نتیجہ نہ نکالے کہ ہم برادرانِ وطن کی قربانیوں کے قائل نہیں بلکہ ہم تو اس حقیقت کے قائل ہیں کہ آزادئی ہند میں شریک دونوں قومیں تھیں مگر قائدانہ کردار ہمارے اسلاف ہی کا تھا یہی وجہ ہے کہ جب انگریز غالب ہو ئے تو انھوں نے مسلم مجاہدین کو تلاش کر کر کے نہایت درد ناک اذیتوں کے ساتھ شہید کیا اور ان لاکھوں مجاہدین کی شہادت کے ذمہ دار راجا پٹیالا ، راجا جیندر اور راجا بلدیو سنگھ ( یہ راجا بلدیو سنگھ انگریزوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا وہی غدار ہے جس نے دلاورِ جنگِ آزادی حضرت علامہ سید احمد اللہ شاہ مدراسی علیہ الرحمہ کو دھوکے سے شہید کیااور اپنی اس غداری پر بطورِ انعام انگریزوں سے پچاس ہزار روپئے حاصل کیا گویا پچاس ہزار کے بدلے وطن کے عظیم جاں باز کو فروخت کردیا ۔) جیسے غدار ہیں جن کی گردن میں انگریزوں کے پٹے پڑے تھے اور ان وطن فروشوں نے اپنے آقاؤوں کی خوشنودی کے لیے نہ صرف ملک و ملت کے بھائی چارے کو تباہ و برباد کیا بلکہ گنگا جمنی تہذیب کو بھی غارت کر کے رکھ دیا اور انگریزی سکوں کی کھنک ان پر ایسی حاوی ہوئی کہ ہندستان کی پاکیزہ سر زمین بھی ان کے حوالے کر دی اور ساتھ ہی ساتھ لاکھوں ہندوستانیوں کو بھی ان کے ہاتھوں شہید کروا ڈالا اور آج بھی ان غداروں کی ناپاک اولادیں بی جے پی کے اوباشوں اور آر ایس ایس کے غنڈوں کی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہیں جو ہمہ وقت وطنِ عزیز کے امن و امان کو ختم کرنے اور اپنی غنڈہ گردی کے ذریعہ آپسی بھائی چارگی کو برباد کرنے میں مصروف ہیں افسوس ! سر زمینِ ہند انگریزوں سے تو پاک ہو گئی مگر انگریزی ذہنیت رکھنے والے ان فسادیوں سے ہنوز آزاد نہ ہو سکی ۔
ْٓٓٓاس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ جتنا غیروں نے تاریخِ ہند کے ساتھ ظلم و زیادتی کو روا رکھاہے اتناہی اپنوں نے احسان فراموشی اور اسلاف بیزاری کا مظاہرہ کیا ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ہم میں سے اکثر پڑھے لکھے لوگوں کو بھی یہ نہیں معلوم کہ اس چمنستانِ ہند کی لالہ کاری میں کتنے علما نے اپنی زندگیاں قربان کیں ہیں اور کتنے مجاہدوں کے خون سے سیراب ہو کر یہ سر زمین لالہ زار بنی ہے باطل قوتیں ہماری تاریخ کو مسخ کرنے پر تلیں ہیں ہمارے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کرنے میں ہمہ وقت کوشاں ہیں لیکن ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ، ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ جب تقریبا ً بائیس ہزار علما کرام اور پانچ لاکھ مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنا خون پانی کی طرح بہایا تب کہیں جاکے اس ملک کو آزادی نصیب ہوئی ہے اور ہمیں آزاد فضا میں زندگی بسر کر نے کا موقع میسر آیا ہے مگر صد افسوس ہماری بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ ہر سال15؍ اگست 26؍ جنوری آتی ہے لیکن ہم اپنے ان اسلاف کے بارگاہ میں خراجِ تحسین نہیں پیش کرتے ہیں، ان کے کارناموں کو اجاگر کرنے کا اہتمام نہیں کرتے ہیں اور ان کی شجاعت و بہادری کے واقعات بیان نہیں کرتے ہیں نہ ہماری محفلوں میں ان کی عظمتوں کے چرچے ہو تے ہیں نہ ہماری مسجدیں ان کی کرامتوں سے گونجتی ہیں اور نہ ہی ہماری درسگاہوں میں ان کی بے لوث قربانیوں کا تذکرہ ہوتا ہے ۔
یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ جب کوئی قوم اپنے ماضی کو فراموش کر بیٹھتی ہے اور اپنے اسلاف کے کارناموں کو پسِ پشت ڈال کر عیش و عشرت میں مبتلا ہو جاتی ہے تو انحطاط و زوال اس کا مقدر بن جایا کرتا ہے اور ذلت و رسوائی اس کے دامن کو اپنا مسکن بنا لیتی ہے ، آج ہم ہندی مسلمانوں کو جس ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور آئے دن آر ایس ایس کے غنڈے وطنِ عزیز کو چھوڑنے کے جو زہر آلود مطالبے کر رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے ماضی کو فراموش کر دیا اور اپنے اسلاف کے کارناموں کو پسِ پشت ڈال دیا اگرہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو بیان کرتے رہتے ،ان کے کارناموں کو اجاگر کرتے رہتے اور ان کی درد ناک شہادتوں کے تذکرے کر تے رہتے اور اپنے بچوں کو ان کی شجاعت و بہادری کے قصے سنا تے رہتے تو یہ نوبت کبھی نہ آتی کیوں کہ ہندستان کی آزادی ہمارے اسلاف ہی کے دم قدم سے متصور ہے مگر ہماری اس بے توجہی اور بے حسی پر ان کی پاکیزہ روحیں شکوہ کناں ہیں اور ہم سے کہہ رہی ہیں
؎ کیا اسی لیے تقدیر نے چنوائے تھےتنکے
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے
میرے عزیزو ! اپنے اسلاف کی تاریخ پڑھو، ان کی شہادتوں کے تذکرے کرو ، اپنے بچوں کو ان کے کارنامے بتاؤ اور آ نے والی نسلوں کو اصل تاریخِ ہند سے آگاہ کرو کیوں کہ
؎ اپنی تاریخ کو جو قوم بھلا دیتی ہے
صفحہء دہر سے وہ خود کو مٹادیتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے