مذہبی مضامین

تحفظِ ناموسِ رسالتﷺ قرآن وسنت کی روشنی میں

تحریر: جمال احمد صدیقی اشرفی قادری
جنرل سکریٹری آل انڈیا تبلیغِ سیرت

حضور رحمۃ اللعٰلمین خاتم النبیین ﷺ کی محبت اور تکریم ہر مسلمان کےلئے سرمایہ حیات ہے اور اس کے بغیر کوئی مسلمان ایمان کا تصور ہی نہیں کرسکتا ۔ اور یہی چیز اہلِ اسلام کو دنیا کی دیگر مذہبی روایات سے ممتاز کرتی ہے ۔ اہلِ اسلام کا یہ تہذیبی سرمایہ ہمیں اندھیروں میں روشنی دکھاتا ہے اور مایوسیوں سے نجات دلاتا ہے ۔ جب تک مسلمان کا دل اس جذبہ سے سرشار اور آباد رہتا ہے وہ کبھی اغیار سے مغلوب نہیں ہوتا ۔ اسی تہذیبی دولت وسرمایہ کی تپش وحرارت سے مسلمانوں نے ہزار برس سے زائد تک دنیا کے سامنے علمی ۔ عملی ۔ معاشی وریاستی اور فکری وفنی محیر العقول کارنامے سرانجام دیئے ۔ عالمِ کفر نے اسی بات کو مسلمانوں کی کمزوری بنانا چاہا ہے اور پچھلے 200 سال میں ایسے ایسے فتنے اور فرقے عالمِ اسلام میں پھیلا دیئے جن کی کاوشوں کا مقصدِ اولین یہ ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے قلوب واذہان سے عشق وادب رسول ﷺ کے والہانہ جذبوں کو کم کیا جائے ۔ یا ختم کیا جائے ۔ ڈاکٹر اقبال نے ان کی اس بدنیتی کو یوں بےنقاب کیا ہے ۔
وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا ۔
روحِ محمد ( ﷺ ) اس کے بدن سے نکال دو ۔
مسلمان جب بھی اپنے آقا کریم ﷺ سے والہانہ تعلق کی بات کرتا ہے تو غیر مسلم اور عملی وفکری طور پہ مغلوب ومفلوج نام نہاد روشن خیال بنیاد پرستی کا طعنہ دےکر اس جذبے کو سرد کرنے اور خود مصلح بننے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔ اسی سے ملتی جلتی بات آج سے 1400 سال پہلے منافقین نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو مصلح بن کر کہی تھی تو اللّٰہ پاک نے ان منافقوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ۔
الاانھم ھم السفھآء ولکن لا یعلمون ۔
خبردار ! وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں ۔
خاتم النبیین ﷺ کی اطاعت ہی اسلام ہے ۔ قرآن مجید میں اطاعت واتباع کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی تعظیم وتکریم اور ادب کی بھی تاکید کی گئی ہے ۔ قرآن کریم میں تعظیم وادب بجا لانے والوں کی تحسین کی گئی ۔ انہیں اجرِ عظیم اور بخشش کی نوید سنائی گئی ۔ جبکہ اس کے برعکس آداب و تعظیم سے غفلت برتنے والوں کو تنبیہ بھی کی گئی اور دردناک عذاب کا انجام بھی سنایا گیا ۔ حضور ﷺ کو ایذا پہچانے والوں اور گستاخی کرنے والوں کےلئے سخت احکامات نازل ہوئے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی زندگیاں عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور ادب مصطفیٰ ﷺ سے عبارت ہیں ۔
مثلاً ۔ آپ ﷺ کا خونِ مبارک زمین پہ نہ گرانا ۔ وضو کا پانی نیچے نہ گرنے دینا بلکہ اسے اپنے اجسام پہ مل لینا ۔ موئے مبارک سنبھال کر رکھنا حتیٰ کہ آقا کریم ﷺ کے لعاب شریف سے شفا اور برکت حاصل کرنا ۔ امام
احمد رضا خان قادری علیہ الرحمۃ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی حیات مبارکہ کا نقشہ یوں بیان کیا ۔

حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں
سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردانِ عرب

اللّٰہ رب العزت ہم سب کو اپنے فضل وکرم کے صدقے عزت وحرمت رسالتِ مآب ﷺ سمجھنے اور آقا علیہ السلام کے قدموں میں سب کچھ قربان کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ آمین یارب العالمین


نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے