علم اسرار سے ماہر بھی ہیں عبدالقادر

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ملفوظاتِ و اقوال سرکار غوث اعظم قدس سرہ النورانی رضی اللہ تعالی عنہ (قسط:1)

ازقلم: اے۔ رضویہ، ممبئی
مرکز: جامعہ نظامیہ صالحات کرلا ممبئی

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًاo (الکهف، 18: 65)
’’تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضرعلیہ السلام ) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے علمِ لدنی (یعنی اَسرار و معارف کا اِلہامی علم) سکھایا تھا۔‘‘

جملہ اولیاء کرام بشمول حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے عموماً ہمارے زیرِ نظر اُن کی کرامات ہوتی ہیں اور ہم ان کرامات سے ہی کسی ولی کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں صحیح اور درست اسلوب یہ ہے کہ ہم صرف اولیاء کاملین کی کرامات تک ہی اپنی نظر کو محدود نہ رکھیں بلکہ اُن کی حیات کے دیگر پہلوئوں کا بھی مطالعہ کریں کہ اُن کا علمی، فکری، معاشرتی، سیاسی اور عوام الناس کی خیرو بھلائی کے ضمن میں کیا کردار ہے؟ اور میرا یہ مضمون ہماری قوم کے مومنین کے لئے اخذ کی ہوں جسے میں خود تو مستفیض ہوئی ہوں دعا کرتی ہوں اسے پڑھ کر اللہ رب العزت ہمارے تمام اہلسنت کے غلامانِ غوث اعظم کو بھی فیضیاب فرمائے۔

تیرے غلاموں کا نقش پا ہے راہ نجات
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

اب یہ جانے کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت مبارکہ ہمہ جہتی اوصاف کی حامل ہے۔ ان جہات میں سے کرامات صرف ایک جہت ہے۔ اور آج کے دور حاضرہ میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ کی تعلیمات کی طرف بھی متوجہ ہوں۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جن کے ہم نام لیوا ہیں اور پوری دنیا جنہیں غوث الاعظم دستگیر اور پیران پیر کے نام سے یاد کرتی ہے، ان کی تعلیمات کیا ہیں اور ان کے ہاں تصوف، روحانیت اور ولایت کیا ہے؟
ہمارے ہاں معمول یہ ہے جب کبھی اِن بزرگان دین کے ایام منائے جاتے ہیں تو اس حوالے سے منعقدہ کانفرنسز اور اجتماعات میں ہمارا موضوع اکثر و بیشتر کرامات ہوتا ہے۔ کرامت سے کسی بھی ولی اللہ کا ایک گوشہ تو معلوم ہوتا ہے مگر یاد رکھ لیں کہ صرف کرامت کا نام ولایت نہیں اور ولایت صرف کرامت تک محدود و مقید نہیں۔ کرامت اولیاء اللہ کی زندگی میں ظاھری شان کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم باطنی وہ استقامت جانے کے یہ تمام عظیم ترین کرامتوں میں انکی اللہ کی بارگاہ میں کس تڑپ و آزمائش اور کس قدر مطیع رہے۔ ہم خدا کو مانتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں مگر یہ وہ ہستی ہیں ایمان کے اپنی زنگی کے ہر ہر پہلو میں فقط خدا کی مانتے ہیں۔ خدا کی رضا میں ہیں اپنی نفس کو ہمیشہ کے لئے مار چکے ہیں۔ اور اسے مارنے میں کسقدر مشقتیں جھیلیں۔

اولیاء کی زندگیوں میں کرامات کی حیثیت ظاھری کی ہوتی ہے، یہ کرامات اُن کا مقصود نہیں ہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب گاڑی تیز رفتاری سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو تو اس کے دائیں بائیں یقینا گرد ، کنکریاں، گھاس، پھوس بھی اڑے گی، بس اسی طرح اولیاء کی تیز رفتار روحانی طاقت کے دوران دائیں بائیں جو کچھ اڑتا ہے وہ ان کی کرامتیں ہوتی ہیں۔ یہ کرامات ہمارے لئے تو بڑا معنی رکھتی ہیں مگر ان کے ہاں کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ﷲ کے ولی ان کی جانب متوجہ نہیں ہوتے۔

ولایت، کرامت نہیں بلکہ استقامت کا نام ہے:
حضور غوث پاک نے خود فرمایا اور جمیع اولیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ رب العزت اپنے اولیاء و صوفیاء کو فرماتا ہے کہ مجھے کرامتوں کی ضرورت نہیں بلکہ کرامت تو تمہارے نفس کی طلب ہے۔ کرامتوں میں نفس مشغول ہوتا ہے، مزہ لیتا ہے، واہ واہ کرتا ہے۔ اللہ کی طلب تو استقامت ہے۔ اسی لئے اولیاء اللہ نے فرمایا:
الإستقامة فوق الکرامة.
’’اِستقامت کا درجہ کرامت سے اونچا ہے‘‘۔

ولایت، کرامت کو نہیں کہتے بلکہ ولایت، استقامت کو کہتے ہیں۔ جب کرامت کا بیان ہوتا ہے تو یہ اولیائے کرام کی شان کا ایک گوشہ ہے، جس سے ان کی کسی ایک شان کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے اصل مقام کا پتہ استقامت سے چلتا ہے۔ کتاب و سنت کی متابعت اور استقامت ہی سے ولایت کا دروازہ کھلتا اور اس میں عروج و کمال نصیب بنتا ہے۔

حضور غوث الاعظم، آئمہ محدثین و فقہاء کی نظر میں
حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کا ایک عظیم اظہار ’’علم‘‘ کے باب میں بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ عِلمِ شریعت کے باب میں ان سے متعلقہ بہت سے اقوال صوفیاء و اولیاء کی کتابوں میں ہیں اور ہم لوگ بیان کرتے رہتے ہیں مگر اس موقع پر میں سیدنا غوث الاعظم محبوب سبحانی پیر لاثانی سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالی عنہ کا مقامِ علم صرف آئمہ محدثین اور فقہاء کی زبان سے بھی بیان کرونگی کہ آئمہ علم حدیث و فقہ نے ان کے بارے کیا فرمایا ہے، تاکہ کوئی رد نہ کر سکے۔ اس سے یہ امر واضح ہوجائے گا کہ کیا صرف عقیدت مندوں نے ہی آپ کا یہ مقام بنا رکھا ہے یا جلیل القدر آئمہ علم، آئمہ تفسیر، آئمہ حدیث نے بھی ان کے حوالے سے یہ سب بیان کیا ہے؟

یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ نہ صرف ولایت میں غوث الاعظم ہیں بلکہ آپ علم میں بھی غوث الاعظم ہیں۔ اگر آپ کے علمی مقام کے پیش نظر آپ کو لقب دینا چاہیں تو آپ امام اکبر ہیں۔ آپ جلیل القدر مفسر اور امامِ فقہ بھی ہیں۔ اپنے دور کے جلیل القدر آئمہ آپ کے تلامذہ تھے جنہوں نے آپ سے علم الحدیث، علم التفسیر، علم العقیدہ، علم الفقہ، تصوف، معرفت، فنی علوم، فتویٰ اور دیگر علوم پڑھے۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہر روز اپنے درس میں تیرہ علوم کا درس دیتے تھے اور 90 سال کی عمر تک یعنی زندگی کے آخری لمحہ تک طلبہ کو پڑھاتے رہے۔ قرآن مجید کی مذکورہ آیتِ مبارکہ (الکہف:18) میں بیان کردہ علم لدنی کا اظہار آپ کی ذات مبارکہ میں بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ بغداد میں موجود آپ کا دارالعلوم حضرت شیخ حماد کا قائم کردہ تھا، جو انہوں نے آپ کو منتقل کیا۔ آپ کے مدرسہ میں سے ہر سال 3000 طلبہ جید عالم اور محدث بن کر فارغ التحصیل ہوتے تھے۔ میں آج آپ کے متعلقہ وہ باتیں اور میادین پیش کرنا چاہتی ہوں جو آپ نے پہلے نہیں سنے اور جو بیان بھی نہیں کئے جاتے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتوحات کا راز
بہت عجیب تر بات جس کا نہایت قلیل لوگوں کو علم ہوگا اور کثیر لوگوں کے علم میں شاید پہلی بار آئے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب القدس فتح کیا تو جس لشکر (Army) کے ذریعے بیت المقدس فتح کیا، اس آرمی میں شامل لوگوں کی بھاری اکثریت حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے تلامذہ کی تھی۔ گویا آپ کے مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ صرف متہجد ہی نہیں تھے بلکہ عظیم مجاہد بھی تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی آدھی سے زائد فوج حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے عظیم مدرسہ کے طلبہ اور کچھ فیصد لوگ فوج میں وہ تھے جو امام غزالی کے مدرسہ نظامیہ کے فارغ التحصیل طلبہ تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے چیف ایڈوائزر امام ابن قدامہ المقدسی الحنبلی حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے شاگرد اور خلیفہ ہیں۔ آپ براہِ راست حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ کے شاگرد، آپ کے مرید اور خلیفہ ہیں۔ گویا تاریخ کا یہ سنہرا باب جو سلطان صلاح الدین ایوبی نے رقم کیا وہ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا فیض تھا۔

امام ابن قدامہ المقدسی رحمۃ اللہ علیہ
امام ابن قدامہ المقدسی الحنبلی اور ان کے کزن امام عبد الغنی المقدسی الحنبلی دونوں حضور غوث الاعظم کے تلامذہ میں سے ہیں۔ یہ دونوں فقہ حنبلی کے جلیل القدر امام اور تاریخ اسلام کے جلیل القدر محدث ہیں۔

امام ابن قدامہ مقدسی کہتے ہیں کہ جب میں اور میرے کزن (امام عبدالغنی المقدسی) حضور غوث الاعظم کی بارگاہ میں کسبِ علم و فیض کے لئے پہنچے تو افسوس کہ ہمیں زیادہ مدت آپ کی خدمت میں رہنے کا موقع نہ ملا۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر 90 برس تھی، یہ آپ کی حیات ظاہری کا آخری سال تھا۔ اسی سال ہم آپ کی خدمت میں رہے، تلمذ کیا، حدیث پڑھی، فقہ حنبلی پڑھی، آپ سے اکتساب فیض کیا اور خرقہ خلافت و مریدی پہنا۔

امام الذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ امام ابن قدامہ الحنبلی المکی المقدسی فرماتے ہیں:
سیدنا غوث الاعظم ص کی کرامات جتنی تواتر سے ہم تک پہنچی ہیں اور جتنی متواتر النقل ہیں، ہم نے پہلے اور بعد میں آج تک روئے زمین کے کسی ولی اللہ کی کرامتوں کا اتنا تواتر نہیں سنا۔ ہم آپ کے شاگرد تھے اور آپ کے مدرسہ کے حجرہ میں رہتے تھے۔ سیدنا غوث الاعظم اپنے بیٹے یحییٰ بن عبد القادر کو بھیجتے اور وہ ہمارے چراغ جلا جاتا تھا۔ یہ تواضع، انکساری، ادب، خلق تھا کہ بیٹا چراغ جلا جاتا اور گھر سے درویشوں کے لیے کھانا پکا کر بھیجتے تھے۔ نماز ہمارے ساتھ آ کر پڑھتے اور ہم آپ سے اسباق پڑھتے تھے۔
باقی دوسری قسط جو چھوٹی مختصر طور پر پیش کی جارہی ہے کہ جس میں آپ کی ہمارے لئے دی گئ تعلیمات و ملفوظات موجود۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

تعلیماتِ حضرت محی الدین سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ

تحریر:محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپورخطیب وامام مسجدہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپا کی وایا مانگو جمشیدپور، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔