عقائد و نظریات

تاویلات اقوال کلامیہ(قسط اول)

تحریر : طارق انور مصباحی، کیرالہ

سوال: کیا نظری کبھی بدیہی ہوسکتا ہے؟

جواب:متفق علیہ نظری کبھی بدیہی نہیں ہوسکتا۔ نظری کا حصول نظرو کسب سے ہوتا ہے۔ بدیہی ہونے کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ بلا نظر وکسب حاصل ہوجائے۔

(1)اگر بالفرض متفق علیہ نظری بلانظروکسب حاصل ہوجائے تو مناطقہ کی تقسیم باطل قرار پائے گی کہ بعض تصورات وتصدیقات فی نفسہ بدیہی ہیں اوربعض تصورات وتصدیقات فی نفسہ نظری ہیں۔ جب نظری بدیہی ہو جائے یا بدیہی نظری ہو جائے تو فی نفسہ کسی امر کا بدیہی یا نظری ہونا باطل ہو جائے گا۔

(2)دوسرا عیب یہ لازم آئے گا کہ متفق علیہ نظری اگر بدیہی ہوجائے تو انقلاب حقیقت لازم آئے گا اور عقل پر اعتماد ختم ہوجائے گا، حالاں کہ عقل ہی مدار تکلیف ہے۔

سید السندمیرسید شریف جرجانی نے امکان عقلی،وجوب عقلی اور امتناع عقلی کے بارے میں رقم فرمایا:(ان الامکان لازمۃ للماہیۃ الممکنۃ،لایجوز انفکاکہا عنہ-والا لجاز خلو الماہیۃ عنہ-فینقلب الممکن ممتنعًا او واجبًا-ان کان خلوہا عنہ بزوالہ عنہا-اوبالعکس،ای ینقلب الممتنع او الواجب ممکنًا،ان کان خلوہا عنہ بحدوثہ لہا بعد ما لم یکن۔

وانہ،ای جواز خلوہا عنہ علی احد الوجہین ینفی الامان عن الضروریات-فیرتفع الوثوق عن حکم العقل بوجوب الواجب واستحالۃ المستحیلات وجواز الجائزات-لجواز انقلاب بعضہا الی بعض حینئذ- وذلک سفسطۃ ظاہرۃ البطلان)
(شرح مواقف:المرصد الثالث:المقصد الرابع فی ابحاث الممکن لذاتہ)
(جلد سوم ص174-174-دار الکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ: ماہیت ممکنہ کے لیے امکان لازم ہے جس سے اس کا جدا ہونا محال ہے، ورنہ جائز ہوگا کہ ماہیت ممکنہ امکان سے خالی ہو، پس ممکن یا تو محال یا واجب ہوجائے گا۔
اگر ماہیت ممکنہ کا امکان سے خالی ہونا اس طرح ہوکہ پہلے امکان تھا،پھر زائل ہوگیا،یا اس کے برعکس ہو،یعنی ممتنع یا واجب ممکن ہوجائے،اگریہ ہوکہ پہلے ماہیت میں امکان نہ تھا، بعد میں حادث ہوا۔

اور اگر ماہیت کا اپنے لازم(امکان،وجوب،امتناع) سے خالی ہونا ممکن ہوتو بدیہیات سے امان اٹھ جائے گا،اور واجب کے وجوب اورمحالات کے استحالہ اور ممکنات کے امکان کا عقل نے جو فیصلہ کیا ہے،اس پر اعتماد قائم نہ رہے گا، اس لیے کہ اس وقت واجب کا محال وممکن ہونا، محال کا واجب وممکن ہونا اور ممکن کا واجب ومحال ہونا ممکن ہوگا۔یہ ایسی سوفسطائیت ہے، جس کا بطلان ظاہر ہے۔

توضیح:جب امکان عقلی،وجوب عقلی و امتناع عقلی کے بدل جانے سے عقل پر اعتماد اٹھ جاتا ہے توبداہت عقلی اور نظریت عقلی کے بدل جانے پر بھی عقل سے اعتماد اٹھ جائے گا، کیوں کہ یہ فیصلہ بھی عقل ہی کرتی ہے کہ کون سا امر بدیہی ہے اور کون سا امر نظری ہے۔

الحاصل نظری، بدیہی نہیں ہوتا،نہ ہی بدیہی،نظری ہوتا ہے،ورنہ انقلاب حقیقت لازم آئے گا، اور عقل پر اعتماد اٹھ جائے گا، حالاں کہ ان امور میں عقل ہی کا فیصلہ نافذ ہے۔

بدیہی ونظری کا بیان:

امام قطب الدین رازی نے رقم فرمایا:(العلم اما بدیہی-وہو الذی لم یتوقف حصولہ علی نظر وکسب کتصور الحرارۃ والبرودۃ،وکالتصدیق بان النفی والاثبات لا یجتمعان ولا یرتفعان۔
واما نظری-وہو الذی یتوقف حصولہ علی نظر وکسب کتصور العقل والنفس وکالتصدیق بان العالم حادث۔

فاذا عرفت ہذا فنقول:لیس کل واحد من کل واحد من التصور والتصدیق بدیہیا-فانہ لوکان جمیع التصورات والتصدیقات بدیہیا لما کان شیء من الاشیاء مجہول لنا-وہذا باطل وفیہ نظر،لجواز ان یکون الشیء بدیہیا ومجہولا لنا۔

فان البدیہی وان لم یتوقف حصولہ علی نظر وکسب-لکن یمکن ان یتوقف حصولہ علی شیء آخر من توجہ العقل الیہ والاحساس بہ،او الحدس او التجربۃ او غیر ذلک-فما لم یحصل ذلک الشیء الموقوف علیہ،لم یحصل البدیہی-فان البداہۃ لا تستلزم الحصول۔
فالصواب ان یقال:لوکان کل واحد من التصورات والتصدیقات بدیہیا،لما احتجنا فی تحصیل شیء من الاشیاء الی کسب ونظر)
(شرح رسالہ شمسیہ (قطبی)ص:30-طبع ہندی)

توضیح:منقولہ بالا عبارت میں بد یہی اور نظری کی تعریف ہے،اور بدیہی غیر اولی کا ذکر ہے۔ جس طرح تصور کبھی تصدیق نہیں ہوتا،تصدیق کبھی تصور نہیں ہوتی۔اسی طرح نظری کبھی بدیہی نہیں ہوتا اور بدیہی کبھی نظری نہیں ہوتا۔

ایک مقسم کی قسمیں ایک دوسرے سے مباین ہوتی ہیں۔نظری اور بدیہی تصور اور تصدیق کی قسمیں ہیں۔ نظری وبدیہی دونوں مباین ہیں۔بیل کبھی گائے نہیں ہوسکتا۔گائے کبھی بیل نہیں ہوسکتی۔وہی صورت یہاں ہے۔

سوال دوم:کیابدیہی کبھی نظری ہوسکتا ہے؟

جواب:متفق علیہ بدیہی کبھی نظری نہیں ہوسکتا،ورنہ جواب اول میں ذکرکردہ دونوں اعتراض لازم آئیں گے۔

بدیہی کے اسباب حصول تین ہیں:حواس ظاہرہ،خبرمتواتراوربداہت عقل۔ اسباب حصول کے اعتبارسے بدیہی کی بھی تین قسمیں ہیں۔ان میں سے کوئی بدیہی کسی کے لیے نظری نہیں ہوسکتا۔بدیہی کا سمجھ میں نہ آنا الگ ہے اور نظری ہونا الگ ہے۔

نظری وہ ہے جو نظر وکسب کے ذریعہ حاصل ہو۔ایسا نہیں کہ جوبات سمجھ میں نہ آئے،وہ نظری ہوگئی۔بدیہی خفی میں خفا وپوشیدگی ہوتی ہے،اس کے سمجھنے میں بھی پریشانی ہوسکتی ہے,اس کی پوشیدگی دورکرنے کے واسطے تنبیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔بدیہی خفی (بدیہی غیر اولی)کا حصول بھی نظر وکسب سے نہیں ہوتا،اورجب بدیہی کا حصول نظر وکسب سے ہوتا ہی نہیں توبدیہی کبھی نظری کیسے ہوسکتا ہے۔

بدیہی غیراولی اور تنبیہ:

(1)علامہ عبد الرشید جونپوری نے رقم فرمایا:((المدعی من نصب نفسہ لاثبات الحکم بالدلیل)فیما اذا کان الحکم نظریا(او التنبیہ)فیما اذا کان بدیہیا غیر اولی)(مناظرہ رشیدیہ:ص10-طبع ہندی)

ترجمہ:مدعی وہ ہے جو اپنے آپ کو دعویٰ ثابت کرنے واسطے متعین کرے،دلیل کے ذریعہ جب کہ حکم نظری ہو، یا تنبیہ کے ذریعہ جب کہ حکم بدیہی غیر اولی ہو۔

(2)علامہ عبد الرشید جونپوری نے رقم فرمایا:(الدعوی ما یشتمل علی الحکم المقصود اثباتہ)بالدلیل-او اظہارہ بالتنبیہ-وفیہ انہ قد یکون الحکم المُدَّعٰی بدیہیا اولیا-ویمکن ان یقال اذا کان الحکم کذلک لم یتحقق المناظرۃ-لانہ لم ینکرہ الا مجادل او مکابر)(مناظرہ رشیدیہ:ص11 -طبع ہندی)

ترجمہ:دعویٰ وہ ہے جو اس حکم پر مشتمل ہوجس کو دلیل سے ثابت کرنا مقصود ہو،یا جس کو تنبیہ کے ذریعہ ظاہر کرنا مقصود ہو۔اس میں یہ اعتراض ہے کہ دعویٰ کا حکم کبھی بدیہی اولی ہوتا ہے تو اس کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ جب حکم بدیہی اولی ہوتو مناظرہ متحقق نہیں ہوگا، اس لیے کہ حکم بدیہی اولی کا انکار صرف مجادل یامکابر کر سکتا ہے۔

(3)علامہ عبد الرشید جونپوری نے رقم فرمایا:((الدلیل ہو المرکب من قضیتین للتأدی الی مجہول نظری-وان ذکر ذلک لازالۃ خفاء البدیہی) الغیر الاولی(یسمی تنبیہا)(مناظرہ رشیدیہ:ص 14-15-طبع ہند)

ترجمہ:دلیل وہ ہے جو دوقضیوں سے مرکب ہو، مجہول نظری تک پہنچانے کے لیے، اور اگر وہ بدیہی غیر اولی کے خفا کودور کر نے کے لیے ذکر کیا جائے تواس کانام تنبیہ ہے۔

توضیح: بدیہی غیر اولی میں جو پوشیدگی ہوتی ہے، وہ تنبیہ کے ذریعہ دور ہوتی ہے۔
منطق کی کتابوں میں تفصیل مرقوم ہے کہ بعض تصورات وتصدیقات فی نفسہ بدیہی ہیں اور بعض تصورات وتصدیقات فی نفسہ نظری۔نہ تمام نظری ہیں، نہ تمام بدیہی۔

ہر ایک کے حصول کے طریقے جدا گانہ ہیں۔اسی طرح بدیہی کی دونوں قسموں یعنی بدیہی اولی اوربدیہی غیر اولی (بدیہی خفی)کے حصول کے طریقے بھی جدا گانہ ہیں۔

آگ میں ہاتھ ڈالنے پراس کی حرارت کا علم ہوتاہے۔ آگ کی حرارت کا علم حواس ظاہرہ سے ہوتا ہے۔حواس ظاہرہ سے معلوم ہونے والے امور میں نظر وکسب کی ضرورت نہیں۔بالفر ض اگر بدیہی کو ترتیب مقدمات کے ذریعہ سمجھایا جائے توبھی وہ بدیہی رہے گا۔وہ نظری نہیں ہوسکتا۔تفہیم وتسہیل کے واسطے مقدمات کومرتب کرکے نتیجہ پیش کیا جاسکتا ہے، تاکہ مخاطب آسانی سے سمجھ سکے۔

علامہ تفتازانی نے رقم فرمایا:(ثم حصول العلم من التواتر ضروری لا یفتقر الی ترکیب الحجۃ حتی انہ یحصل لمن لا یعلم ذلک کالصبیان-وجواز ترتیب المقدمات لا ینافی ذلک کما فی بعض الضروریات)
(التلویح مع التوضیح:جلددوم:ص 4:دار الکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ: تواتر سے یقین کا حصول بدیہی ہے۔ تر کیب دلیل کی ضرورت نہیں، یہاں تک کہ بدیہی علم اسے بھی حاصل ہوجاتا ہے جو دلیل وحجت کی ترتیب کا علم نہیں رکھتے،جیسے بچے۔ اور مقدمات کی ترتیب کا جائز ہونا بداہت کے منافی نہیں، جیسا کہ بعض بدیہیات میں۔

توضیح: کبھی تفہیم وتسہیل کے واسطے بدیہیات میں بھی مقدمات کومرتب کیا جاتا ہے۔ ترتیب مقدمات کے سبب بدیہی نظری نہیں ہوجاتا۔محض تسہیل وتفہیم کے واسطے مقدمات کی تر تیب ہوتی ہے۔

سوال سوم:مندرجہ ذیل عبارت میں بتایا گیا کہ بداہت ونظریت افراد واشخاص کے اعتبارسے مختلف ہوسکتی ہے؟یعنی بعض امور کسی کے لیے بدیہی اور دوسروں کے لیے نظری ہوں؟

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:
(وقد تقرران البداہۃ والنظریۃ تختلف باختلاف الناس-فرب مسألۃ نظریۃ مبنیۃ علٰی نظریۃ اُخرٰی-اذا تَبَیَّنَ المَبنٰی عند قوم حَتّٰی صَارَ اَصلًا مُقَرَّرًا وَعِلمًا ظَاہِرًا-فَالاُخرٰی التی لم تکن تحتاج فی ظہورہا الا اِلٰی ظُہُورِ الاُولٰی -تلتحق عندہم بالضروریا ت وان کانت نظریۃً فی نفسہا۔
اَ لَا تَری ان کل قوس لم تبلغ ربعًا تاما من اربعۃ ارباع الدور وجود کل من القاطع والظل الاول لہا بدیہی عند المہندس لا یحتاج اصلا الی اعمال نظر وتحریک فکر بعد ملاحظۃ المصادرۃ المشہورۃ المسلمۃ المقررۃ- وان کان ہو والمصادرۃ کلاہما نظریین فی انفسہما)
(فتاویٰ رضویہ جلد اول:ص6-رضااکیڈمی ممبئ)

ترجمہ:یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مختلف لوگوں کے اعتبارسے بداہت ونظریت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بہت سے نظری مسائل کی بنیاد کسی دوسرے نظری پر ہوتی ہے۔اگر وہ بنیاد کسی طبقہ کے نزدیک روشن وواضح ہوکر ایک مقررہ قاعدہ اورواضح علم کی حیثیت اختیار کرلے تو دوسرا مسئلہ جس کے واضح ہونے کے لیے بس اسی پہلے مسئلہ کے واضح ہونے کی ضرورت تھی، اس طبقہ کے نزدیک بدیہیات سے ملحق ہوجاتاہے،اگرچہ وہ بذات خود نظری تھا۔ دیکھو!اہل ہندسہ کے نزدیک مشہور ومسلم اور مانے ہوئے مصادرہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد ہراس قوس کے لیے ظل اول اورقاطع کا وجود بدیہی ہے،جو دور کے چار ربع میں سے ایک کامل ربع کے برابر نہ پہنچے۔ اس میں کسی نظر کے استعمال اورفکر کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں، اگرچہ یہ مسئلہ اوروہ مصادرہ بذات خود دونوں نظری ہیں۔

جواب: نظری جب مقدمات قریبہ سے حاصل ہوجائے تووہ اس شخص کے حق میں یقینی ہوجاتا ہے۔اسے باربار ترتیب مقدما ت کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ان مقدمات قریبہ سے بھی ذہول ہوسکتا ہے، جن مقدمات قریبہ سے اس مطلوب نظری کا حصول ہواتھا۔
علامہ سید شریف جرجانی حنفی نے رقم فرمایا:(لا شک ان الحرکات الفکریۃ معدات لحصول المطلوب ممتنعۃ الاجتماع معہ-واما ما یقع فیہ تلک الحرکات اعنی العلوم والادراکات وان لم یمتنع اجتماعہا مع المطلوب لکنہا لیست مما یجب اجتماعہا باسرہا معہ۔

فانا نجد من انفسنا فی القیاسات المرکبۃ الکثیرۃ المقدمات والنتائج التی یتوصل بہا الی المطلوب، انا نذہل عند حصول المطلوب عن کثیر من تلک المقدمات السابقۃ مع الجزم بالمطلوب۔

بل ربما نغفل بعد ما حصل لنا المطلوب عن المقدمات القریبۃ التی بہا حصل لنا المطلوب ابتداءً مع ملاحظۃ المطلوب وحصولہ بالفعل-وذلک ظاہر فی کثیر من المسائل الہندسیۃ الکثیرۃ المقدمات جدا-فان من زاولہا، علم انہ عند ما حصل لہ التصدیق المطلوب بتلک المسائل، قد ذہل عن المقدمات البعیدۃ ذہولا تاما بلا ارتیاب فی ذلک التصدیق۔

وعلم ایضًا انہ یلاحظ تلک المسائل بعد حصولہا ویجزم بہا جزما یقینیا مع الغفلۃ عن المقدمات القریبۃ ایضا-نعم یعلم اجمالا ان ہناک مقدمات یقینیۃ توجب الیقین بہذا التصدیق۔
فظہر ان العلوم والادراکات السابقۃ لا یجب اجتماعہا مع المطلوب دفعۃ-بل یکفی حصولہا متعاقبۃ-وح کان ذلک الاعتراض غیر ساقط متجہا ومحتاجا الی الجواب الذی ذکرہ الشارح۔

وانما حکم علی تلک الامور الغیر المتناہیۃ بکونہا معدات لانہا محال المعدات وفی حکمہا فی عدم لزوم الاجتماع فی الوجود-وان کانت ممتازۃ عن المعدات فی جواز الاجتماع فی الجملۃ۔

فان قلت:العلوم السابقۃ وان لم یجب اجتماعہا مع المطلوب مفصلۃ ای بالفعل لکنہا یجب ان تجامعہ مجملۃ ای بالقوۃ القریبۃ کما ذکرت فی المسائل الہندسیۃ؟
قلت:ادراک النفس دفعۃ واحدۃ لامور غیر متناہیۃ مجملۃ غیر محال- وانما المحال ادراکہا ایاہا دفعۃ مفصلۃ:الخ
(حاشیۃ المیرعلی القطبی:ص21-20-جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

منقولہ بالا عبارت میں اہل ہندسہ کے مسئلہ کی تفہیم ہے،جس کا ذکر امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے فرمایا ہے۔منقولہ بالاعبارت سے واضح ہوگیا کہ مسائل ہندسیہ میں مقدمات کی کثرت ہوتی ہے، اور مقدمات میں نظر وترتیب کے ذریعہ یکے بعد دیگرے نظری مسائل کا حصول ہوتا رہتا ہے۔مقدمات سے حصول کے بعد وہ امور نظریہ یقینی ہو جاتے ہیں اورمطلوب نظری کے حصول کے بعد اس کے مقدمات قریبہ سے بھی ذہول ہوسکتا ہے، نیزاب مطلوب بطریق نظر حاصل ہوکر یقینی ہوچکا ہے۔مقدمات قریبہ کے ذہول سے مطلوب پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔

اب جو مطلوب نظری ان حاصل شدہ مطالب یقینیہ پر موقوف ہو،وہ بلا نظر وترتیب حاصل ہوجاتا ہے،کیوں کہ موقوف علیہ اموریقینی ہوچکے ہیں۔ اس سے امر موقوف کا ثبوت یقینی طورپرہوگا۔ اسی امر موقوف کو امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے ”ملحق بالبدیہی“ قرار دیا۔

یہاں امر موقوف کے حصول کے لیے گرچہ بظاہر نظر وترتیب نہ ہو، لیکن معنوی طورپر نظر وترتیب کی صورت موجود ہے،اسی لیے وہ مطلوب موقوف بدیہی نہیں،بلکہ ملحق بالبدیہی قرار پایا۔اگروہ ترتیب ونظر سے من کل الوجوہ مستغنی ہوتا، تب بدیہی قرار پاتا، لیکن نظری ترتیب ونظر سے من کل الوجوہ مستغنی ہوجائے تو انقلاب حقیقت لازم آئے گا، جس کا بطلان ماقبل میں ہوچکا۔

منطقی بحث میں اہل منطق کے اصول کے مطابق بحث ہے۔ شرعی مباحث میں انقلاب حقیقت کا حکم جدا گانہ ہے۔ وہ یہاں زیر بحث نہیں۔

مسئلہ مذکورہ کی تفہیم:استاذ مدرسہ آنے کے بعد ہردن بچوں کو مٹھائی دیتے ہیں، کبھی بھی ایسا نہ ہوا کہ استاذآئے ہوں اور بچوں کو مٹھائی نہ دئیے ہوں۔ ایسی صورت میں بچے اپنے استاذکو دیکھ کر ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اب ہمیں مٹھائی ملنے والی ہے۔

اسی طرح موقوف علیہ امور یقینی ہوں تو مطلوب موقوف بلا ظاہری ترتیب ونظر کے حاصل ہوجاتا ہے اور ملحق بالبدیہی ہوجاتا ہے۔معنوی طورپر نظر وترتیب کی صورت موجود ہوتی ہے، گرچہ اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

قول امام کی توضیح:

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی عبارت میں غور کیا جائے۔ کوئی نظری کبھی بدیہی نہیں ہوتا،بلکہ ملحق بالبدیہی ہوجاتا ہے، نیز یہ حکم نظری کے ساتھ خاص ہے۔ بدیہی کبھی ملحق بالنظری نہیں ہوتا۔ یہ معاملہ یک طرفہ ہے۔ علامہ تفتازانی کا قول بھی منقول ہوا کہ بدیہی کبھی نظری نہیں ہوتا،گر چہ اس کے لیے مقدمات کی ترتیب بھی دی جائے۔

ہم نے اپنی معلومات درج کردی۔ارباب منطق وضاحت فرمائیں کہ بدیہی کبھی نظری ہوتا ہے یانہیں۔ اس بحث پر ایک شرعی مسئلہ کی بنیاد ہے، لہٰذا تلاش وتتبع کی ضرورت ہے۔

بدیہی اور ملحق بالبدیہی میں فرق:

بدیہی اور ملحق بالبدیہی میں فرق ہے،جیسے رباعی اور ملحق برباعی میں فرق ہے۔ ملحق برباعی اصل میں ثلاثی ہے۔نظری کبھی بدیہی نہیں ہوتا،بلکہ ملحق بالبدیہی ہوجاتا ہے۔اسی کا ذکر امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے فرمایا۔ بدیہی کبھی نظری نہیں ہوتا۔

مناطقہ کے اعتبارسے انسان کی حقیقت حیوان ناطق ہے۔یہ تصو ر نظری ہے، لیکن اہل منطق کے لیے یہ نظری،بدیہی کے مماثل ہوگیا۔ اب انہیں استدلال کے ذریعہ انسان کے لیے حواس ظاہر ہ اور حرکت ارادی یعنی حساس ومتحرک بالارادہ ہونا ثابت کرنے کی ضرورت نہیں،نہ ہی انسان کے لیے نطقیت کو ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔بوجہ ممارست وہ مثل بدیہی ہوگیا۔

بدیہی کبھی نظری نہیں ہوتا:

بدیہی کبھی ملحق بالنظری نہیں ہوتا۔حواس ظاہرہ، خبر متواتر اوربداہت عقل سے ثابت ہونے والے امور بدیہی ہیں۔ ان میں سے کوئی ایسا امر نہیں،جس کو نظر وکسب سے حاصل کیا جا سکے۔علامہ تفتازانی کا قول مرقوم ہواکہ اگر بدیہی کے لیے مقدمات کی ترتیب بھی ہوتووہ بدیہی رہتا ہے۔ اب بد یہی کے نظری سے ملحق ہونے کی کوئی صورت موجودنہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے