منقبت

منقبت حضور مجاہد ملت

نتیجہ فکر: محمد وسیم اختر رضوی نعیمی

تمہارا ہم پہ ہے احساں مجاہد ملت
بچایا تم نے ہے ایماں مجاہد ملت

اڑیسہ ہی نہیں سارا جہان ہے بیشک
تمہاری ذات پہ قرباں مجاہد ملت

تمہارے مثل تصلب پہ ہو سبھی قائم
ہمارے دل کا ہے ارماں مجاہد ملت

سبھوں نے کہہ دیا تم کو بیک زباں ہوکر
ہیں علم و فضل میں ذیشاں مجاہد ملت

ہٹادو ساری یہ ظلمت کی بدلیاں ہم سے
بہت ہیں ان سے پریشاں مجاہد ملت

زمانہ کہتا رہا ہے ، کہےگا ہر دم یہ
ہیں سنیت کے نگہباں مجاہد ملت

بچانا ہم کو ہمیشہ کہ اب ہم ہیں
وہابیت سے پریشاں مجاہد ملت

ہمارے خواب میں آکر کبھی تو بن جاو
ہمارے گھر کا بھی مہماں مجاہد ملت

لیا ہے نام جہاں بھی تمہارا سب سن کر
ہوئے ہیں شاد و فرحاں مجاہد ملت

تمہاری ذات سے بغض وحسد جو رکھتا ہے
بہت بڑا ہے وہ شیطاں مجاہد ملت

وسیم ہی نہیں سارا جہان کہتا ہے
ہو اہل علم کے سلطاں مجاہد ملت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے