خانوادۂ رضا

اعلی حضرت کا وعظ و بیان سے احتراز

تحریر: عبدالرشید امجدی ارشدی دیناجپوری
سنی حنفی دارالافتاء زیراہتمام تنظیم پیغام سیرت مغربی بنگال
7030786828

سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ وعظ و بیان سے بہت احتراز فرماتے تھے کبھی کوئی اہم موقع اور اہم دینی ضرورت و منفعت پیش نظر ہوتی تو وعظ و بیان فرماتے ورنہ عموماً سال بھر میں صرف مندرجہ ذیل تین تقریبات میں آپ کا نہایت عالمانہ و عارفانہ وعظ و بیان ہوا کرتا تھا
(1) جلسئہ دستار بندی (طلبئہ دارالعلوم منظر اسلام بمام مسجد بی بی محلہ بہاری پوری بریلی شریف)
(2) محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے آبائ مکان میں
(3) عرس حضرت خاتم الاکابر مارہروی اپنے مکان میں.
ان تینوں مواقع پر آپ کا مؤثر ایمان افروز روح پرور وعظ و بیان ہوا کرتا تھا
حیات اعلی حضرت مصنف علامہ ظفرالدین بہاری قادری رضوی حصہ اول صفحہ نمبر 356/357 مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئ
امام اہل سنت، سیدی اعلی حضرت رحمہ اللہ زیادہ وعظ نہ فرمایا کرتے- آپ کا معمول تھا کہ سال میں تین وعظ مستقلاً فرمایا کرتے تھے-
ہر کسی کی تقریر نہیں سنتے تھے:
حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اعلی حضرت کی عادت تھی کہ دو تین آدمیوں کے علاوہ کسی کی تقریر نہیں سنتے تھے؛ ان دو تین آدمیوں میں ایک میں بھی تھا- اعلی حضرت یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ "عموماً مقررین اور واعظین میں افراط و تفریط ہوتی ہے، احادیث کے بیان کرنے میں بہت سی باتیں اپنی طرف سے ملا دیا کرتے ہیں اور ان کو حدیث قرار دیا کرتے ہیں جو یقیناً حدیث نہیں ہیں- الفاظ حدیث کی تفسیر و تشریح اور اس میں بیان نکات امر آخر ہے اور یہ جائز ہے مگر نفس حدیث میں اضافہ اور جس شے کو حضور اکرم ﷺ نے نہ فرمایا ہو اس کو حضور ﷺ کی طرف نسبت کرنا یقیناً وضع حدیث ہے جس پر سخت وعید وارد ہے لہذا میں ایسی مجالس میں شرکت پسند نہیں کرتا جہاں اس قسم کی خلاف شرع بات ہو” (حیات اعلی حضرت و تذکرۂ اعلی حضرت)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button