علما و مشائخ

بیرون ممالک میں علماے ہند کی خدمات [پہلی قسط]

تحریر: محمد ابو ہریرہ رضوی مصباحی – رام گڑھ-
[ رکن:مجلسِ شوریٰ : ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ ، و ڈائریکٹر مجلس علماے جھارکھنڈ ]

دعوت و تبلیغ ایک اہم کام اور بڑی ذمہ داری کا نام ہے، اس میدان میں کام کرنے والوں کا دل بڑا ہوناچاہیے، کبھی انھیں پھول ملیں گے تو کہیں پرخار وادی سے بھی گزرنا پڑتا ہے- کبھی انھیں گالیاں سننی پڑتی ہیں، تو کبھی بھوک و پیاس کی شدت بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔
المختصر یہ ایک جگر سوز کام ہے، نبی کریم – ﷺ – کی حیات طیبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے- انھوں نے دین کی نشرواشاعت کا کام کتنی قربانیاں دے کر کی ہے اسے پڑھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے- سفر طائف کا درد ناک واقعہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، اسے پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں کہ دین کا کام کتنا کٹھن اور مشکل ہوتا ہے –
دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری جب علمائے کرام کے کندھوں پر آئی تو خوش نصیب علمائے کرام نے اس میدان میں، سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کی اور دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا –
جہاں مختلف ممالک کے علماے کرام نے اس سلسلے میں تگ و دو کی وہیں ہندوستان کی سرزمین سے بھی علماے کرام نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا – بعض اپنے ملک ہی میں رہ کر، تو بعض بیرون ممالک دین متین کی خدمت کے لیے تشریف لے گئے ۔ یہاں ان کی خدمات پر ہم کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جنھوں نے اپنے وطن کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک کے لوگوں کی بھی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے :

مبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم میرٹھی علیہ الرحمہ

مبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالعلیم میرٹھی علیہ الرحمہ کی ولادت صوبۂ یوپی کے مشہور شہر’’میرٹھ‘‘میں۱۳۱۰ھ میں ہوئی۔ چار سال کی عمر میں ناظرہ قرآن پاک ختم کرکے اپنے والدماجد حضرت علامہ عبدالحکیم صاحب قادری سے فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابوں کا درس لیا، پھر میرٹھ کا مشہور ادارہ’’مدرسہ عربیہ قومیہ‘‘ میں داخلہ لیا،اور سولہ سال کی عمر میں دستار فضیلت سے نوازے گئے۔
علوم اسلامیہ سے فراغت کے بعد عصری علوم کی طرف متوجہ ہوئے اور’’اٹاوہ ہائی اسکول‘‘ میٹرک پاس کرکے ’’ڈومیزنل کالج میرٹھ‘‘سے ۱۹۱۷ء میں بی۔اے کا امتحان امتیازی پوزیشن سے پاس کیا۔
کالج کی تعطیلات کے ایام میں فقیہ بے مثال اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکرزانوئے تلمذ تہ کرتے رہے۔ اور پھر انھیں کے ہاتھوں پربیعت کاشرف حاصل کرکے ہمیشہ کےلیے فکررضاکے اسیر ہوکررہ گئے اور تبلیغی میدان میں وہ خدمات انجام دیں جو تحقیق وریسرچ کا موضوع بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔[حال ہی میں ان پر ڈاکٹر اشرف الکوثر مصباحی نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ ] اور رہتی دنیا تک کے لیے قابل تقلید ہیں۔۔
جہاں آپ ایک محنت وجفاکش انسان تھے وہیں نہایت زیرک وذہین بھی تھے معمولی سی عمر میں ایسے ایسے کارنامے انجام دیے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں ۔ چناں چہ نو سال کی عمر میں میرٹھ کی جامع مسجد میں ڈیڑھ گھنٹے تقریر کی جس کو لوگوں نے بے حد پسند کیا، میرٹھ میں کالج کی تعلیم کے دوران ہی آپ کی علم دوستی کی شہرت سن کر اہل برما نے ۱۹۱۵ء میں مسلم ایجوکیشن کانفرنس کی صدارت سونپ دی-
۱۹۱۷ء سے۱۹۱۹ء تک ممبئی میں ایک کامیاب تاجر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے-
۱۹۱۹ء میں حج کےلیے تشریف لے گئے، مدینۃ الرسول پہنچ کر وہاں کے بیماروں کا مفت علاج کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے’’طبیب ہندی‘‘کے نام سے وہاں کے لوگ یاد کرنے لگے۔ حج کے موقع سے شریف مکہ شاہ حسین نے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کے منصب کی پیش کش کی لیکن اپنے وسیع تر مشن کی خاطر آپ نے انکار کردیا۔
سعودی کے اسکولوں میں سائنس،تاریخ،حساب،جغرافیہ جیسے اہم مضامین کو شامل نصاب کرنے کی تحریک چلائی،کعبہ شریف میں طالب علموں کو جلالین، مشکوٰۃ اور نصوص الحکم کا درس دیا۔ حج سے واپسی پر انھوں نے پونہ میں جامعہ ملیہ کی بنیاد رکھی اور ابتدا سے ۱۹۲۴ء تک پرنسپل رہے۔
آپ کی علمی صلاحیتوں کے پیش نظر قائد اعظم محمد علی نے پاکستانی تعلیمی اداروں کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کا رکن نامزد کیا –

۱۹۲۳ء میں وزیر اعظم سیلون’’ریوٹڈ گنگ ہری‘‘کو کلمہ پڑھا کر داخل اسلام کیا۔ ۱۹۲۸ء میں ماریشش کے گورنر’’مروات‘‘نے آپ کی گفتگو سے متأثر ہو کر اسلام قبول کیا۔۱۹۳۱ء میں سنگا پور کے مشہور بیرسٹر’’سچندرناتھ دت‘‘ کو بحث ومباحثے کے درمیان ایسا سبق پڑھا یا کہ فوراً مسلمان ہو گئے۔۱۹۳۵ء میں مشہور ڈرامہ نگار’’جارج برناڈ شاہ‘‘ جو کہ ہمیشہ اسلام کے خلاف زہر افشانیوں میں لگا رہتا تھا اس سے ساؤتھ افریقہ میں مناظرہ کر کے ایسا خاموش کیا کہ پھر کبھی اسلام کے خلاف بولنے کی جرأت نہ ہوئی اور جاتے جاتے کہہ گیا: آپ کی گفتگو اس قدر دل چسپ اور معلوماتی ہوتی ہے کہ میں سالوں تک آپ کے ساتھ رہنا پسند کروں گا-
آپ کو اپنی مادری زبان اردو کے علاوہ دیگر پندرہ زبانوں پر اس قدر عبور حاصل تھا کہ بڑی روانی کے ساتھ ان زبانوں میں تقریر وتحری کے ذریعے تبلیغ اسلام میں لگے رہے بلکہ ذہین اس قدر تھے کہ جہاں تبلیغی پڑاؤ ڈالتے دو چار دن میں وہاں کی زبان سیکھ کر انھیں کی زبان میں تبلیغ کرنے لگتے۔ بیرون ممالک، بے شمار ملکوں کا دورہ کیا مگر ان میں پچاس ملکوں میں آپ کی زندگی کے اکثر لمحات گزرے ہیں جن کو یہاں شمار کرنا طوالت سے خالی نہیں۔ آپ کے ہاتھ پر تائب ہو کر اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد ۴۵ہزار یا باختلاف ۷۵ہزار یا ایک لاکھ تک پہنچتی ہے، جن میں سے اکثر وہ حضرات ہیں جو تعلیم یافتہ ہونے کےساتھ ساتھ اعلیٰ عہدوں کے مالک تھے۔ ماریشش میں قادیانیت جڑ پکڑ چکی تھی جس کی بیخ کنی کے لیے وہاں پہنچ کر کئی مناظرے کئے ،بالآخر قادیانیوں کو حق کے مقابلے میں شکست سے دو چار ہونا پڑا اور پورا قادیانی علاقہ مسلمان ہو گیا۔ ایک چھوٹا سا گروہ قادیانیت پر قائم رہا لیکن جب دوسری مرتبہ وہاں کا دورہ کیا تو انھیں بھی اپنا گرویدہ بنا کر مسلمان کر لیا۔ بیرون ممالک میں کئی تنظیمیں بھی آپ نے قائم کیں جن کے تحت آج بھی قومی، ملی، فلاحی، ملکی ہر طرح کی خدمات انجام پا رہی ہیں۔ ان میں قابل ذکر حزب اللہ(موریشش) تنظیم بین المذاہب الاسلامیہ(مصر) انٹر نیشنل اسلامک سروس سینٹر(ڈربن) وغیرہ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی نے آپ کی علمی رسوخ اور تبلیغی کارناموں کے پیش نظر فرمایا:
عبد علیم کے علم کو سن کر
جہل کی بہل بھگا تے یہ ہیں۔
(ماخذ،امام احمد رضا کے مبلغین)

جاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے