علما و مشائخ

اجمل العلماء کے لیل و نہار

از قلم : احمد رضا مصباحی (کوشامبی)
استاد : مرکزی مدرسہ اہل سنت اجمل العلوم، سنبھل


مغربی اترپردیش کے تاریخی شہر ” سنبھل ” میں ایک ولی صفت اور نیک بندے رہتے تھے جو عالم دین اور حافظ قرآن ہونے کے ساتھ نہایت ہی عبادت گزار اور عامل اوراد و وظائف تھے ، جن کا نام حضرت مولانا میاں محمد اکمل شاہ علیہ الرحمہ ہے۔ چودہویں صدی ہجری 15/ محرم الحرام سن ۱۳۱۸ھ میں آپ کے گھر ایک سعادت مند فرزند کی ولادت ہوئی ، جن کا نام محمد اجمل شاہ تجویز کیا گیا، جو زیور علم سے آراستہ ہونے کے بعد اجمل العلما اور سلطان المناظرین جیسے عظیم القاب سے جانے گئے ۔ حضور اجمل العلما (علیہ الرحمۃ) اعلی حضرت ، مجدد اعظم ، امام احمد رضا خان قادری حنفی (علیہ الرحمہ) کے مرید اور صدر الفاضل ، مفسر قرآن ، مفتی نعیم الدین مرادآبادی کے شاگرد رشید تھے۔ آپ کو ان دونوں بزرگوں کی نگاہ کرم اور فیضان نظر نے اس قابل بنا دیا کہ باطل مقابلے کی ہمت و جرات نہ رکھتا تھا ۔ آپ نے اپنی پوری زندگی تصنیف و تالیف ، درس و تدریس ، بندگان خدا کی اصلاح و ارشاد اور دین مبین کی تبلیغ و اشاعت میں گزار دی ۔
آپ کے لیل و نہار کچھ اس طرح تھے کہ صبح صادق سے پہلے اٹھتے اور نماز تہجد ادا فرمانے کے بعد اوراد و وظائف میں مشغول ہوجاتے ۔ پھر صبح صادق طلوع ہوتے ہی اپنے گھر کے قریب "میاں صاحب والی مسجد” تشریف لے جاتے اور خود ہی اذان فجر پڑھتے ۔ دو رکعت سنت فجر پڑھ کر اوراد و وظائف میں مشغول ہو جاتے ، فرض پڑھانے کے بعد گھر واپس آتے اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے ، بعدہ دلائل الخیرات اور دعائے حزب البحر پابندی کے ساتھ پڑھتے ۔ ناشتہ کرنے کے بعد مرکزی مدرسہ اہلسنت اجمل العلوم تیل منڈی تشریف لاتے اور پورے انہماک کے ساتھ طلبۂ درس نظامی کو اپنے علم سے فیض یاب فرماتے ۔ تدریس کے بعد اپنے گھر تشریف لے جاتے اور کھانا تناول فرما کر قیلولہ کرتے ۔ پھر نماز ظہر کے لیے میاں صاحب والی مسجد جاتے ، نماز ظہر کے بعد آئے ہوئے خطوط اور سوالات (استفتے) کے جوابات تحریر کرتے اور صرف نماز عصر ادا کرنے کے لیے اٹھتے ۔ مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد کھانا تناول کرتے ، اس کے بعد اپنی نشست گاہ میں بیٹھ جاتے ، اس دوران شہر کے لوگ شرعی مسائل دریافت کرنے آتے اور آپ عشا تک لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر مسائل شرعیہ سے آگاہ فرماتے رہتے ۔ پھر بعد نماز عشا دینی مجلس لگتی چند لوگ اکثر معمول کے مطابق حاضر رہتے جب وہ اٹھ کر چلے جاتے تو آپ کتب کے مطالعے میں مشغول ہو جاتے غرض کہ آپ کا ہر پل اور ہر لمحہ رضائے الہی اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزرا ۔ آپ نے اپنی مصروف زندگی میں تشنگان علوم نبویہ کی ایک کثیر تعداد کو اپنے علم و فضل سے سیراب فرمایا ، اس کے علاوہ ڈھائی ہزار تحقیقی فتاوی اور ۲۲/ کتب دینیہ آپ کی نوک قلم سے معرض وجود میں آئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے