صحابہ کرام

قوم کا حاکم اصل میں قوم کا خادم ہوتا ہے

بموقعہ عرس یار غار رسول ﷺ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ

ازقلم: محمد منصور عالم نوری مصباحی
مدرس دارالعلوم عظمت غریب نواز پوسد مہاراشٹر

اصل حاکم تو اللہ تعالیٰ ہے جو احکم الحاکمین ہے لیکن اس خاک دان گیتی پر ظاہری نظم وضبط قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ حکومتیں قائم ہوئی ہیں خواہ وہ بادشاہی حکومتیں ہوں یا خلافتی حکومتیں یا جمہوری حکومتیں ہوں یا صدارتی حکومتیں ۔ ان حکومتوں میں کون بہتر حکومت ہے یہ ایک الگ موضوع بحث ہے ۔ عوام الناس حکومت کی اچھائی اور خرابی کو حاکم کے ہی کردار و افعال کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں ۔ کوئی بھی حکومت ہو اگر اس حکومت کا سرخیل نیک و شریف ہے اور اچھی حکومت کررہا ہے تو عام لوگ اس حکومت کو اچھی حکومت کہتے ہیں اور اگر امیرِ حکومت جابر وظالم ہو تو اس حکومت کو بری اور ظالم حکومت کہتے ہیں ۔ حکومت کا لب لباب تو یہی ہے کہ اللہ کی زمین پر عدل و انصاف اور حق وسچ کا نظام قائم رہے ۔ مخلوقات خدا ظلم و زیادتی کا شکار نہ بنیں۔ کمزوروں ، غریبوں پریشان حال لوگوں کی مدد و نصرت ہو اور ناانصافیوں ، زیادتیوں سے یہ زمیں پاک و صاف رہے ،ظالم کا ہاتھ روک کر مظلوم کی مدد کی جائے ایسے نظام کے لئے کرۂ ارض پر جس بھی حاکم وقت نے کام کی ہے خواہ وہ سلطان وقت ہو یا خلیفۂ وقت یا صدر یا وزیراعظم جو بھی بلا امتیاز مذہب و ملت امیر و غریب اپنے اور بیگانے کے حکومت کی ہے اور خود کو حاکم نہیں بلکہ خادم مانا ہے تو دنیا ان کی مثالیں پیش کرتی ہے ۔ ایسی مثالیں جس میں صرف عدل وانصاف ، حق و سچ اور خدمت خلق کا ہی دخل اور بول بالا ہو خلفائے راشدین میں بکثرت موجود ہیں ۔

سردست حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو ہی سن لیجئے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دوسال سات ماہ ہی خلافت کے فرائض کے انجام دیئے تھے لیکن اس تھوڑے سے عرصہ میں مرتدین کے بغاوتوں کا خاتمہ ،مانعین زکوٰة کی اصلاح ، کتاب کی صورت میں جمع قرآن کا عظیم کارنامہ وغیرہ امور بھی انجام دیئے اور عظمت اسلام کا رعب ویسا ہی برقرار رکھے جیسا عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تھا اور اسلام کی عروج وبلندی اور فتح وظفر کا جھنڈہ حدود عربستان سے باہر عراق وشام میں بھی لہرانے لگا ۔ عراق کا بہت بڑا حصہ اور ملک شام کا اکثر حصہ خلافت کے زیر نگیں آچکا تھا ۔ آپ کی حکمرانی کی اعلیٰ قابلیت ، ملک گیری کی عظیم صلاحیت اور داخلی نظام پر مضبوط گرفت اور نظام اسلام پر سبھوں کو کار بند رکھنے کا خداداد استعداد اور امن وسکون کا ماحول بنائے رکھنے پر شاندار کامیابی کو دیکھ کر دنیائے اسلام نے اطمینان حاصل کرلیا تھا اور آپ کے استقلال و ثابت قدمی کا وہ معترف ہوچکے تھے کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نظام اسلام جس کامیاب رفتار سے آگے بڑھا تھا حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس رفتار کو اسی نہج پر سرعت کے ساتھ وسعت و ترقی دی ہے اور کسی کو کہیں رخنہ اندازی کی ذرہ برابر گنجائش نہیں دی ہے اور اپنی قابلیت و صلاحیت سے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا ہے ۔ ایسی عظیم کامیابی پر اکثر حکمراؤں کے تواضع و انکساری میں فرق آجاتا ہے ، پائے تقویٰ میں تزلزل آجاتا ہے غرباء پروری کی باتیں بس جملوں کی شان بن کر رہ جاتی ہیں عیش و عشرت کی پرچھائیاں ہر چہار جانب سے گھیر لیتی ہیں انا انا اور میں میں میں حکومت چلتی رہتی ہے لیکن قربان جائیں جانشین سید الابرار والاخیار ﷺ پر، قربان جائیں خلیفۂ شہنشاہ دوعالمﷺ پر کہ ایک عظیم سلطنت اسلامیہ کے خلیفہ ہونے کے باوجود کمزوروں کے ساتھ جذبۂ ہمدردی میں ذرہ برابر فرق نہ آیا بلکہ جتنی زیادہ آپ پر ذمہ داریاں آتی گئیں اتنی ہی زیادہ کمزوروں کے لئے متواضع ہوتے گئے اور خدمت خلق کا جذبہ بڑھتا گیا اور اپنے کارناموں سے واضح کردیا کہ قوم کا حاکم اصل میں قوم کا خادم ہوتا ہے ۔
اطراف مدینہ میں ایک اندھی بڑھیا رہتی تھی جس کا کوئی عزیز نہ تھا ۔حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہر روز رات کو اس کے گھرآتے اور اس کا پانی بھر دیتے تھے اور جو بھی کچھ اس کا کام ہوتا کردیتے ایک روز رات کو اس بڑھیا کے گھر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کا سارا کام کوئی دوسرا شخص کرگیا ہے ۔دورسرے روز آئے تو اس روز بھی آپ سے پہلے ہی کوئی شخص اس کا سارا کام کرگیا تھا اسی طرح حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہر روز اس کی خدمت کے لئے آتے تو آپ دیکھتے کہ بڑھیا کا کام کوئی شخص کرگیا ہے آپ حیران رہ گئے کہ یہ کون ہے جو مجھ سے پہلے ہی یہاں پہنچ کر اس بڑھیا کاپانی بھی بھر جاتا ہے اور اس کا سارا کام بھی کرجاتا ہے چنانچہ آپ ایک روز بہت جلدی آئے اور اس انتظار میں رہے کہ دیکھیں یہ پر اسرار خادم کون ہے ؟ تھوڑی دیر بعد آنے والا آیا اور اس بڑھیا کا کام کرنے لگا ۔ فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ پر اسرار خادم خلیفةالمسلمین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔

سلطان الواعظین مولانا ابو النور محمدبشیر صاحب سچی حکایات میں تاریخ الخلفاء کے حوالہ سے اس واقعہ کو لکھ کر اپنے تبصرہ میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ (اس واقعہ سے) معلوم ہوا کہ انسانوں کا امیر اصل میں مسلمانوں کا خادم ہوتا ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی امیر غریب ساری رعایا کی خبر رکھے اور سب کے کام آئے ۔

حکمراؤں کو حکومتوں کی طرف سے بہت سی سہولیات ملتی ہیں حکومت کی آمدنی کا کثیر حصہ حکمراؤں کے رہن سہن پر خرچ ہوجاتا ہے اور ملک کی بد حالی بدستور قائم رہتی ہے ۔ اگر حکمراں اپنے اوپر ہونے والے خرچوں پر کمی لائیں تو بدحال ملکوں کی بد حالی کی صورت بدل سکتی ہے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک عظیم سلطنت اسلامیہ کے حاکم تھے آپ کی سادگیانہ زندگی کی ایک جھلک دیکھئے ۔

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے وصال کے وقت اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا "یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں اور یہ بڑا پیالہ جس میں ہم کھاتے پیتے ہیں اور یہ چادر جو میں اوڑھے ہوئے ہوں ان تین چیزوں کے سوا میرے پاس بیت المال کی کوئی چیز نہیں ان چیزوں سے ہم اس وقت تک نفع لے سکتے تھے جب تک میں امور خلافت انجام دیتاتھا میرے انتقال کے بعد تم ان چیزوں کو حضرت عمر کے پاس بھیج دینا "۔آپ کے وصال کے بعد جب یہ چیزیں سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو واپس کی گئیں تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابو بکر پر رحم فرمائے انہوں نے اپنے جانشین کو مشقت میں ڈال دیا ۔ ( فضائل صحابہ واہل بیت )
کاش ! دور حاضر کے حکمراں خود کو قوم کا خادم جانتے ہوئے خود میں تھوڑی سی سادگی پیداکرلیتے تو اخباروں میں جو غرباء اور بے روزگاروں کی لمبی فہرست چھپتی ہے اس میں بہت کمی آجاتی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے