صحت و طب مذہبی مضامین

کیا آپ مسواک کرتے ہیں؟؟؟

ازقلم: محمد عرفان خان
متعلم جامعہ امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا

*اس خاندان گیتی پر سیکڑوں مذاہب بستے ہیں۔ہر ایک کے اصول و ضوابط جداگانہ ہیں۔مزید برآں سب کا یہی دعویٰ ہے کہ ہم حق پر ہیں۔ہرایک کے پاس زندگی کے نشیب و فراز اپنے اپنے مذہب کے مطابق گزارنے کے اصول ہیں۔مگر بنظر غائر جملہ مذاہب کے اصول و ضوابط کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات دو،دو چار کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مذہب اسلام نے جو مستحکم اصول امت مسلمہ کو عطا کیا وہ زندگی کے ہر شعبے، ہر نشست و برخاست کے لیے کافی و شافی ہیں.* یہی وجہ ہے کہ آج اس ترقی یافتہ دور میں ان کی افادیت کے سامنے سائنس بھی سر تسلیم خم کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ دن بدن سائنسی حقائق اسلام کے متبعین کویہ مژدۂ جانفزا سنا رہے ہیں کہ :
*”إن الدين عند اللّٰه الإسلام "(القرآن)*
*مذہب اسلام کے جملہ قوانین اپنے آپ میں افادیت کے بحر زخّار رکھتے ہیں ۔وہ اپنے ماننے والوں کو پر سکون زندگی کے لئے ایسے ایسے اصول کا انتخاب کیا ہے جن کو بروئے کار لاکر ایک اچھی زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔*
انھیں میں سے ایک پابندئ مسواک ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ اہل اسلام فرامین اسلام کو بالائے طاق رکھ کرخود کے لیے تباہی کے اسباب مہیا کر رہے ہیں۔
*اہمیت مسواک:*
حدیث:عن أبي هريرة رضي اللّٰه عنه قال: قال:رسول الله صلى اللّٰه عليه وسلم لو لا أن أشق علي أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة.(ترمذی شریف ج/١ ص/ ١٢،باب ما جاء في السواك )
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ضرور میں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا”
*فائدہ:*
حدیث پاک میں (عند كل صلاة) یہ قید قید اتفاقی ہے،اس لئے کہ نماز کے علاوہ بہت سے اوقات ایسے ہیں جن میں مسواک کرنا مستحب ہے،چنانچہ علامہ کمال الدین ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں پانچ مواقع ایسے ہیں جہاں مسواک کرنا مستحب ہے:
(1)جب دانت پیلے ہوجائیں۔
(2)منہ کی بو متغیر ہو جائے۔
(3)نیند سے اٹھنے کے بعد۔
(4) نماز کے وقت جب خون نکلنے سے امن ہو۔
(5)وضو کے وقت۔
(فتح القدیر ج/1 ص/23 کتاب الطھارۃ دارالکتب العلمیہ)
*مسواک کس چیز کی ہو؟*
مسواک ان چیزوں کی ہونی چاہیے جن کی صراحت احادیث پاک اور فقہاء کرام کی کتابوں میں کی گئی ہے۔چنانچہ ردالمحتار میں ہے کہ:
"نعم السواك الزيتون من شجرة مباركة هو سواكي و سواك الأنبياء قبلي”(رد المحتار ج/١ ص/٢٣٥).
دوسری جگہ ہے۔
الاسوكة ثلاثة۔
(1) أراك(پیلو)
(2)فان لم يكن أراك عنم(ایک پودا جس کا پھل سرخ ہوتا ہے اور رنگائی وغیرہ کے کام آتا ہے)۔
(3)فان لم يكن عنم فبطم(ایک درخت جس کا پھل ملک شام میں کھایا جاتاہے)۔
ہاں اگر یہ لکڑیاں در کار نہ ہوں تو نیم وغیرہ کی مسواک بہتر ہے۔
*موجودہ دور میں جو ٹوتھ برش سے دانتوں کو صاف کرنے کا عام رواج ہے اس سے دانت تو صاف ہوجاتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کے کئی نقصانات بھی ہیں* جس کا اعتراف خود ماہرین نے کیا ہے جن کو فوائدِ مسواک بیان کرنے کے بعد ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ (ان شاءاللہ تعالیٰ )
*فوائد مسواک:*
(1) مسواک کرنے کے سبب نماز کا ثواب ٩٩سے ٤٠٠گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔
(2)منہ کو خوشبو دار بناتی ہے۔
(3) منہ کے لئے پاکی ہے۔
(4) اللہ کی رضا کا سبب ہے۔
(5)مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے۔
(6)سر کی رگوں کو سکون فرہم کرتی ہے۔
(7)منہ کی بدبو اور دانتوں کے اندر کھوکھلے پن سے نجات دیتی ہے۔
(8) آنکھوں کو جلا بخشتی ہے۔
(9)معدے کو صحیح کرتی ہے۔
(10) مسواک موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے۔
(11) فصاحت کلام میں اضافہ کرتی ہے۔
(12) نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے۔
(13)فرشتوں کو خوش کرتی ہے.
(14)کھانے کو ہضم کرنے میں معاون ہے۔
(15) مسواک کرنے والے پل صراط سے برق خاطف کی طرح گزرے گا۔
(16)بڑھاپا دیر سے لاتی ہے۔
(17)نزع میں جلدی کرتی ہے۔
(18) دانتوں کو صاف کرتی ہے۔
(19) داڑھوں کو مضبوط کرتی ہے۔
(20) شیطان کو ناراض کرتی ہے۔
(21)دانت کے درد کو دور کرتی ہے۔
*”نھر”میں فرمایا گیا کہ مسواک کے تسیں سے زائد فوائد ہیں اس کا ادنی فائدہ تکلیف دہ ذرات کو دور

کرنا ہے، اور اس کا اعلی فائدہ یہ ہے کہ موت کے وقت مسواک کلمہ شہادت کو یاد کرانے والی ہے. (ردالمحتار
علی الدرالمختار كتاب الطهارة سنن الوضوء ص/٢٣٥ )
مسواک کے یہ مختصر فوائد ہمارے ضمیر کو اس بات کی طرف باور کرا رہے ہیں کہ اس ایک قانون کو اپنی زندگی کا جزو لاینفک بنا کر بیشمار فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مگرجو لوگ ٹوتھ برش استعمال کرتے ہیں اس کے ذریعہ ہونے والے نقصانات ہر ذی شعور پر عیاں ہیں۔ اجمالاً نظر قارئیں ہیں۔
ٹوتھ برش کے نقصانات:
(1)ماہرین نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جب برش کو ایک بار استعمال کر لیا جاتا ہے تو اس میں جراثیم کی تہ جم جاتی ہےاور پانی سے دھلنے پر بھی نہیں جاتی بلکہ وہ اس میں نشوونما پاتے رہتے ہیں۔
(2)برش کی وجہ سے دانتوں کے اوپر قدرتی طور پر جو ایک چمک سی ہوتی ہے اس کی تہ اتر جاتی ہے۔
(3)برش کی وجہ سے مسوڑھے آہستہ آہستہ اپنی جگہ چھوڑنے لگتے ہیں۔
(4)برش کی وجہ سے دانتوں کے اندر خلا پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے غذا پھنستےاور سڑتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جراثیم اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔
(5)اس سے دیگر بیماریوں کے ساتھ آنکھوں کے امراض بھی جنم لیتے ہیں۔
مندرجہ بالا سطور سے یہ حقائق خورشید نیم روز سے بھی زیادہ واضح اور شفاف ہو جاتے ہیں کہ آج جو ہمارے اندر طرح طرح کے أمراض جنم لے رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ قانون اسلام سے کوسوں دوری ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ہم کو قانون اسلام کا پابند بنائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ النبی الأمین صلی اللہ علیہ وسلم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے