سیاست و حالات حاضرہ

ووٹ ہماری طاقت ہے اور ہندوستانی ہونے کا ثبوت بھی!

تحریر: نعیم الدین فیضی برکاتی
اعزازی ایڈیٹر: ہماری آواز
پرنسپل:دارالعلوم برکات غریب نواز کٹنی(ایم۔پی)

جمہوری حکومتوں کی بنیا دیں عوام کے ذریعے منتخب ہونے والی حکومت پر ہوتی ہے۔اسی لیے الیکشن جمہوری ممالک میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہو تا ہے۔ہندوستان چونکہ بہت بڑا جمہوری ملک ہے اسی لیے یہاں الیکشن آتے ہی تمام لوگوں کا ذہن اسی کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ہونا بھی چاہئے کیوں کہ الیکشن میں ووٹ کے ذریعہ عوام اپنے ان نمائندوں کو چن کر اپنا پیارا ملک ان کے حوالے کرتی ہے جو ملک کو خوش حالی اور ترقی کے راستے پر گام زن کر سکیں۔ساتھ ہی ساتھ سیاسی لیڈران کو اس بات کااحساس دلاتی ہے کہ جمہوری ممالک میںاصل طاقت عوام کے پاس ہے جس کو چاہیں کرسی پر بٹھا دیں جس کو چاہیں اتار دیں۔کیوں کہ ان کے پاس حق رائے دہی کی طاقت ہے،جس کے سبب وہ ملک کے ہر فیصلے میں برابر کے شریک ہوتے ہیں ۔
ملک عزیز ہندوستان کے موجودہ حالات سے کوئی بھی انسان بے خبر نہیں کہ جب سے مرکز اور صوبے میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے ۔تب سے عام لوگوں کے لیے حالات پریشان کن اور انتہائی تشویشناک ہیں۔حد تو یہ کہ کہیں کہیں پرزندگی کی روانی مشکل ہو گئی ہے ۔فرقہ پرست طاقتیںاقلیتی طبقہ کے لوگوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہی ہیں۔عام لوگوں کے خون کو پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔ریزرویشن ختم کرنے کی پوری پلاننگ ہورہی ہے۔مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس سے غریب لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔اقلیتی طبقہ کے خصوصی حقوق اور رعایت کو ایک منظم طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔کبھی مسجد مندر کے مدے کو گرما کر عام انسانوں کو ا س کے حوالے کیا رہا ہے ۔کبھی لو جہاد اور گھر واپسی جیسے ایسوز کو اچھال کرایک دوسرے کے تئیں نفرتوں اور مخالفتوں کو جنم دیا جارہا ہے ۔گئورکشک اور گئوہتھیا کے نام پر ہجومی تشدد اور دہشت گردی کو فروغ دیا جارہا ہے اور مسلمان اور اقلیتی طبقہ کو نشانہ بنا کر جمہوری قدروں کو مجروح کیا جا رہا ہے ۔ملک کی ریڑھ کی ہڈی کہے جانے والے کسانوں کو متنازع زرعی قوانین بناکر پریشان کیا جارہا ہے ۔طالب علموں کوملازمت مانگنے پر پولیس کے ذریعہ پٹوایا جارہا ہے۔باحجاب مسلم خواتین کے لیے کالج کے دروازے بند کر کے جمہوریت کا جنازہ نکالا جارہا ہے۔غور طلب بات یہ ہے انتظامیہ اور سیکولر ذہنیت کے افراد بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جس سے ان کے حوصلے اور بھی بلند ہو گئے ہیں۔ستم بالائے ستم یہ کہ اب تو اقلیتی طبقہ کے لوگوں کوخاص کرمسلمانوںکی نیشنیلٹی(ہندوستانی شہریت)کو بھی مشکوک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
دیکھئے !ہمارے ملک میں ہمارے ہندوستانی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہمارا ووٹ ہے۔اگر ہمارا نام ووٹر لسٹ میں ہے تو مبارکاور اگر نہیں ہے تو ہمیں ایک ذمہ دار ہندوستانی ہونے کے ناطے ووٹر کارڈ ضرور بنوانا چاہئے۔کیوں کہ ووٹ ڈالنا ہمارا بنیادی اورآئینی حق ہے۔ابھی حال ہی میں آسام کے ایسے 40لاکھ افراد پر غیرملکی ہونے کا الزام لگایا گیا،جن کے ووٹر لسٹ میں نام تو درج تھے ،مگرنام وپتہ غلط درج تھا یا اسپیلنگ میں غلطی تھی ۔جس میںسابق صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد کا نام بھی سر فہرست ہے۔اب ان سے بھی آسام کے شہری ہونے کا ثبوت مانگا جا رہا ہے ۔ اتر پردیش میں بھی ایک کروڑ سے زائد مسلمانوںکے نام ووٹرلسٹ سے غائب ہونے کی مبینہ طور پر خبر موصول ہو رہی ہے۔اس طرح سے ایک نئی حکمت عملی کے تحت مسلمانوں کو نہ کہ صرف سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے بلکہ ان کے تحفظ و بقا کے لیے خطرہ پیدا کرنا ہے ۔اور مسلمانوں کا حال یہ ہے وہ ایسے حالات میں بھی بے حس و حرکت پڑے ہوئے ہیں اور خود اپنی موت کا پروانہ لکھ رہے ہیں۔میرے عزیزو! اس سے پہلے کہ آپ پر بھی غیر ہندوستانی ہونے کا گندا اور بے بنیاد الزام لگایا جائے۔2019کے پالیمانی الیکشن سے پہلے پہلے اپنا ووٹر کارڈ ضرور بنوالیں۔کیوں کہ ووٹ دینا صرف ایک رسم نہیں یا ووٹر کارڈ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ۔بلکہ ووٹ دینا ہماراآئینی حق، جمہوری طاقت اور ہندوستانی ہونے کا ثبوت ہے۔لہذا جن لوگوں کے بھی نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہیںوہ آج ہی اپنے بی۔ایل ۔او۔ آفس پر جا کرمعلوم کریں کہ ان کا یا ان کے گھر کے کسی بھی فرد کا نام ووٹر لسٹ سے غائب تو نہیں ہے ۔یا نام تو ہے مگر نام وپتہ غلط ہے۔جو بھی کمی ہو اس کو جلد از جلد درست کر وا لیں۔ورنہ آسام کے مظلوم عوام کی طرح ہم کو بھی یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ہم ہندوستانی ہیں اور ہمارے باپ دادا برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔اور ہم سب کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ہندوستانی شہریت نہ ہونے کی صورت میں ہمارے حقوق اتنے ہی رہ جاتے ہیں جتنے ایک غیر ملکی رہائشی کے پاس ہوتے ہیں۔
معلوم ہوکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ہر بی۔ایل۔او۔ کے آفس پر ووٹ بنانے کے اور نام صحیح کرانے کے متعلق ابھی بھی کام ہو رہے ہیںہیں ۔وہ ووٹ بنانے اور نام وپتہ صحیح کرانے میں مصروف ہیں ۔اگر آپ کے گھر کے بچوں کی عمر18 سال یا اس سے زیادہ ہو اور ان کا نام ووٹر لسٹ میں نہ ہو تو ان کا نام ضرور درج کروائیںاور اپنے گھر کے ہر فرد کا آدھار کارڈ بھی بنوائیں ۔ورنہ آپ کواس کام کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے جو کہ بہت مشکل کام ہے۔نہ بننے کی صورت میں آپ کو روہنگیائی مسلمانوں کی طرح مہاجر قرار دے دیا جائے گااور اپنے ہی ملک سے دربدر کر دیا جائے گا۔
ایسے نامساعدحالات میںمیری تمام تر سیاسی حضرات،رضاکاران قوم وملت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ تمامی حضرات اپنے اپنے محلہ،گاؤں،شہر،چوراہوں اور ہوٹلوں پر جاکر عوام کو ووٹ کی اہمیت کے بارے میں بتائیں اور ایک اچھا ،ذمہ دار شہری ہونے کا احساس دلائیں۔خاص کرعلمائے کرام اور ائمہ مساجد سے میری اپی ل ہے کہ آپ حضرات اپنے اپنے مدرسوں اور وعظ وخطابت بالخصوص جمعہ میںلوگوں کو ووٹ کی اہمیت کے بارے میں بتائیں اور جن لوگوں کے پاس ووٹر کارڈ نہ ہو ان کو کارڈ بنوا نے کی ترغیب دلائیں۔علاقے کے سیاسی بااثر لوگوں اور فلاحی کام کرنے والے اداروں سے بھی کہنا چاہوں گا کہ آپ لوگ بھی اپنے حلقہ اثر میں’’ووٹ بیداری مہم‘‘ کے نام سے ایک پروگرام چلائیں، جس میں گاؤں گاؤں شہر شہر جاکر بی۔ایل ۔او۔ کا کیمپ لگواکر سماج کا اقلیتی طبقہ جو پڑھا لکھا نہیںیاجن کا بھی نام ووٹر لسٹ میں نہ ہوان کا نام صحیح صحیح درج کروائیں اور جن کا نام و پتہ غلط ہو ان کو درست کر وائیں۔اس لیے کہ اس وقت سب سے بڑی قومی اور ملی خدمت یہی ہے اور وقت کا تقاضہ بھی۔

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے